آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍شوال المکرم 1441ھ 29؍ مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی جاری

یوں تو مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی مظالم جاری ہیں اور اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری بھارتی درندوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ بھارتی درندہ نما فوجیوں سے نہ خواتین کی عزت و آبرو محفوظ ہے نہ بوڑھوں اور بچوں کیلئے ان کے دلوں میں رحم کا کوئی جذبہ ہے، تاہم جب سے نریندر مودی کو دوسری بار اقتدار ملا ہے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و جبر میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کشمیری حریت پسند رہنما یٰسین ملک اور شبیر شاہ کے علاوہ متعدد کشمیری رہنما جیلوں میں بند ہی،ں جہاں ان کے ساتھ نہایت انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔ یٰسین ملک کی طبیعت انتہائی تشویشناک ہے اس کے باوجود ان کو پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے۔ آخر ان رہنمائوں کا جرم کیا ہے؟

اگر یہ سب ظلم و جبر کشمیریوں پر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ حقِ خود ارادیت مانگتے ہیں تو اقوامِ متحدہ ان مظالم پر کیوں خاموش ہے؟ انسانی حقوق کے دعویدار کہاں ہیں؟ کشمیری گزشتہ آٹھ ماہ سے محصور ہیں، لاکھوں بھارتی فوجیوں نے 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کو اگست 2019ءسے بندوق کے زور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔ کیا بھارتی قوانین میں انسانی حقوق کی پامالی کی اجازت ہے اور کیا وہاں انسانوں کا اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا جرم ہے؟ بھارتی حکومت کو تو چھوڑیں، میرے یہ دو سوال بھارتی عدالتوں اور اقوامِ متحدہ سے ہیں۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل کے قانون میں ترمیم کرکے کشمیریوں پر ایک اور ظلم ڈھایا ہے۔ اس سے پہلے بھارتی حکومت نے شہریت قانون میں ترمیم کر کے کشمیریوں کو ان کی جائیدادوں سے محروم کرنے کی مذموم کوشش کی تھی۔ بھارتی ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر میں بسانے ان کی آبادی میں اضافہ کرنے اور کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کالے قانون کو نافذ کیا۔ یہاں بی جے پی کے رہنما سبرامینن سوامی کے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بھارت میں اس وقت اصل حکومت آر ایس ایس کی ہے۔ بی جے پی دراصل آر ایس ایس کی ترجمان ہے اور نریندر مودی ان کا سرغنہ۔ ان کے نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے سبرا مینن کی اپنی بیٹی سوہا نے گھر سے بھاگ کر اسلام قبول کیا اور سابق بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے بیٹے سے شادی کر لی ہے جو کہ سبرا مینن کے منہ پر طمانچہ اور حق و سچ کی فتح کی زندہ مثال ہے۔اسی سبرا مینن سوامی نے حال میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کو روکنا ازحد ضروری ہے۔ اگر مسلمانوں کی آبادی 30فیصد سے بڑھ گئی تو بھارت کیلئے بہت خطرناک صورتحال بن جائے گی۔ یہی نقطہ نظر آر ایس ایس کا ہے جس پر مودی سرکار عمل پیرا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی اسی نظریہ پر عملدرآمد کیلئے نت نئے قوانین رائج کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں بھارتی حکومت نے ڈومیسائل سے متعلق قانون میں ترمیم کر کے کشمیریوں پر ایک اور حملہ کیا ہے۔ ڈومیسائل قانون میں ترمیم کے مطابق کشمیریوں کو صرف گریڈ چار تک کی سرکاری نوکریوں کیلئے درخواست دینے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ اس سے اوپر گریڈ کی سرکاری نوکریوں کا حق بھارتی باشندوں کو دیا گیا ہے۔ او آئی سی کے انسانی حقوق کیلئے آزاد مستقل کمیشن نے ایک بیان میں بھارتی حکومت کے اس اقدام کو او آئی سی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اس بارے میں نہ صرف سخت تشویش کا اظہار کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دنیا کو بھارت کی اس بدترین قانونی ترمیم سے آگاہ کیا۔

اس میں کوئی شک شبہ نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے بھی اس ترمیم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آواز اٹھائی۔ بین الاقوامی کمیونٹی، او آئی سی اور پاکستان کے دبائو پر بھارتی حکومت نے دو دن بعد ہی اس ترمیم کو واپس لے لیا۔ یہ سفارتی سطح پر پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ تاہم مودی سرکار نے ڈومیسائل سے متعلق وہ ترمیم واپس لے کر ایک نئی ترمیم قانون میں شامل کر دی ہے، جس کے مطابق جو بھی مرد یا خاتون گزشتہ پندرہ سال سے جموں و کشمیر میں رہائش پذیر ہو یا گزشتہ سات سال سے جموں کشمیر میں کسی یونیورسٹی کالج یا تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اور جموں و کشمیر یونین کی حدود میں دسویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحانات میں حصہ لے چکا ہے، وہ سرکاری ملازمت پر تقرر کا اہل ہوگا۔ اس نئی ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہاں کے کمشنر کے حکم سے جو بھی پناہ گزیں کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہوگا وہ بھی ڈومیسائل کا حامل تصور کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں جموں و کشمیر یا بھارت کے کسی بھی حصہ سے تعلق رکھنے والا ایسا شخص اور اس کی اولاد جو مقبوضہ کشمیر میں عرصہ دس سال سے سرکاری ملازمت کر رہا ہو یا کر چکا ہو، وہ بھی ڈومیسائل کا حامل تصور ہوگا۔ نئی ترمیم میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اعلیٰ عہدوں پر تقرری کیلئے ڈومیسائل سے متعلق کیا قواعد و ضوابط ہوں گے۔مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آٹھ ماہ سے یرغمال تو بنایا گیا ہے، لاک ڈائون کی خلاف ورزی کے نام پر کشمیریوں کو گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے، اس بہانے اب تک پندرہ بےگناہ کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ ادھر وادی میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ متاثرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، اسی طرح اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن کشمیریوں کو بھارتی حکومت کی طرف سے نہ تو کورونا وائرس سے بچائو اور حفاظت کا طبی سامان مہیا کیا گیا ہے نہ قرنطینہ کا کوئی انتظام موجود ہے۔ حاصل بیان یہ ہے کہ بھارت سرکار کی طرف سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

تازہ ترین