آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

طالبان اور افغان حکومت کے مابین ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے 100قیدیوں کو کم خطرے کا حامل قرار دے کر بدھ کے روز یہ حلف لیکر رہا کر دیا کہ وہ دوبارہ میدانِ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے۔ افغان قومی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ دیگر طالبان قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا تاہم اس کا دارو مدار طالبان کے رویے پر ہوگا۔ دوسری جانب طالبان نے خدشہ ظاہر کیا ہے ہے کہ کابل انتظامیہ افغانستان سے یہ جنگ ختم نہ کرنے کی متمنی ہے، وہ امریکی فوج کے انخلا کے حق میں نہیں تاکہ اس کے ذریعے افغان عوام کا قتل عام جاری رکھ سکے اور اس کااقتدار بھی قائم رہے۔ نائن الیون کے 18برس بعد امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والا معاہدہ قیامِ امن کی طرف اہم پیشرفت تھا اس معاہدے کے چار نکات انتہائی اہم تھے، مثلاً طالبان افغان سرزمین کو امریکہ یا اس کے کسی اتحادی کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں گے، امریکی افواج کا پُرامن انخلا یقینی بنایا جائے گا، طالبان 10مارچ سے انٹرا افغان مذاکرات شروع کر سکیں گے اور ان مذاکرات کے بعد سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے بعد افغان حکومت کا کردار انتہائی اہم ہو گیا تھا جس نے طالبان کے 100قیدی تو رہا کیے ہیں لیکن غیر ملکی افواج کے انخلا کے بارے میں کوئی عندیہ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ پر زور دیا ہے کہ سیاسی تصفیے کیلئے مذاکرات کریں۔ متذکرہ تمام تر صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ فریقین میں اعتماد کا فقدان ہے جو کسی بھی صورت درست نہیں اور دوبارہ کشیدگی کو ہوا دے سکتا ہے۔ اس عدم اعتماد کا خاتمہ افغانوں کو خود کرنا ہوگا جس کا یہی وقت ہے۔ آخر وہ کب تک اپنے ملک کو کھنڈر بنتا اور انسانوں کو بےجواز مرتا دیکھ سکتے ہیں۔ طالبان اور افغان حکومت کو نیک نیتی سے امن معاہدے کا پابند کرکے سیاسی عمل کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔

تازہ ترین