آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکا کے مشکلات سے دوچار چھوٹے کاروباروں کی بحالی

نیویارک: لورا نونن

رابرٹ آرمسٹرونگ

امریکی بینکوں نے چھوٹے کاروباروں کیلئے حکومت کے تعاون سے جاری ہونے والے 350 ارب ڈالرز کے قرضوں کیلئے درخواستوں کی بڑی تعداد سے نمٹنے کے لئے کافی جدوجہد کی ہے،جس سے کانگریس میں دوطرفہ تشویش پائی جاتی ہے اور ایک نئی فیڈرل ریزرو فنڈنگ سہولت کا مقصد قرض دہندگان پر رکاوٹ کو آسان کرنا ہے۔

یہ پروگرام امریکی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلنے والے معاشی اثرات کو فوری طور پر ضرورت مندوں کے پاس رقم جمع کرانے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر شروع کیا گیا ،جو قرضوں کا بندوبست کرنے کے لئے بینکوں پر انحصار کرتے ہیں ، اگر قرض لینے والا تنخواہوں کی ادائیگی یا دیگر قانونی اخراجات کے لئے رقم استعمال کریں گے تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔

تاہم آپریشنل معاملات مایوس درخواست گزاران کی جانب سے شکایت کی لہر کا باعث بنے جو جمعہ کو اسکیم کے آغاز کے ساتھ شروع ہوا اور پیر کو بھی جاری رہا۔

لوزیانا کے جیننز میں ایک چھوٹے کمیونٹی قرض دہندگان جے ڈی بنکشیئرس کے چیف ایگزیکٹو بروس ایلڈر نے کہاکہ اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن میں درخواستیں جمع کرانا ایک بھرپور عمل تھا۔انہوں نے کہا کہ آن لائن پورٹل کے پاس بہت بڑی تعداد میں فیلڈز موجود ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ کس کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ جمع کرانے والے بٹن کو دباتے ہیں تو آپ کو منظوری ملنے کی امید ہوتی ہے ناکہ غلطی کاخرابی کے پیغام کی،انہوں نے مزید کہا کہ جبکہ ان کے بینک نے اب تک دو درخواستیں جمع کروائی ہیں اور جو ہم نہیں جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا ہم نے انہیں صحیح طریقے سے جمع کرایا ہے۔انہوں نےکہا کہ جے ڈی بینشیئرس کےپاس سیکڑوں لوگ تھے جوتیار درخواستوں کے ساتھ قطار میں کھڑے تھے۔

جے پی مورگن چیس اور سٹی گروپ سمیت صنعت کاروں نے جمعہ کے روز اپنی سہولتوں کے آغاز میں تاخیر کی اور دعویٰ کیا کہ انہیں وقت پر ترتیب دینے کیلئے دیر سے معلومات دی گئیں۔

چیس کی جانب سے تکنیکی مسائل کے بعد صبح کے وسط سے شام 5 بجے تک اپنے آن لائن پورٹل کو معطل کرنے کے ساتھ چیلنجز پیر تک جاری رہے،پیر کی شام تک سٹی گروپ اور کیپیٹل ون کے اپنے پورٹل ابھی لانچ ہونا تھے۔

ویلز فارگو ، جس کا امریکہ کی قرض دینے والی مارکیٹ کا 9 فیصد حصہ ہے ، نے کہا ہے کہ وہ اس پروگرام کے تحت صرف 10 بلین ڈالر قرض دے سکتا ہے کیونکہ اس کے 2016 اکاؤنٹس میں غلط فروخت ہونے والے اسکینڈل کے نتیجے میں بینک پر اثاثہ کیپ مسلط کی گئی تھی ، اورکہ پیر کی صبح تک اس کے پاس پہلے ہی اس سے زیادہ کے مطالبات تھے۔

ڈیموکریٹک سینیٹرز الزبتھ وارن اور ایڈورڈ مارکی نے پیر کو وزیر خزانہ اسٹیون منچن اور ایس بی اے کی سربراہ جویٹا کیرانزا کو خط لکھا کہ چھوٹے کاروباروں کی کچھ دن میں اس رقم تک رسائی حاصل کرنے کی اہلیت اس کا تعین کرسکتی ہے کہ آیا انہیں اپنے ملازمین اور صارفین کے لئے اپنے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کرنا ہیں کہ نہیں۔

انہوں نے اسٹوین منچن اور جویٹا کیرانزا پر زور دیا کہ نظام کے ساتھ موجودہ تیکنیکی یا آپریشنل مسائل ہیں انہیں ٹھیک کرنے کیلئے جو بھی ضروری اقدام ہیں وہ لیں،بینکوں کو اضافہ رہنمائی فراہم کریں کہ ان سوالات کی وضاحت کریں جو ان کے پاس ابھی بھی ہیں اور اس پروگرام کو فعال کرنے کیلئے جلد عمل کریں لہذٰا یہ اسی طرح کام کرے جیسا کہ کانگریس کا ارادہ تھا۔

فلوریڈا سے ریپبلکن سینیٹر رک اسکاٹ نے اتوار کو اسٹیون منچن اور جویٹ کیرانزا کو لکھا کہ انہیں چھوٹے کاروباروں کی رپورٹس موصول ہوئی تھیں کہ وہ اپنے مالیاتی اداروں سے قرض کیلئے درخواست دینا شروع نہیں کرسکے تھے۔

فیڈرل ریزرو کو امید ہے کہ پیر کو اعلان کی گئی نئی فنڈنگ سہولت بینکوں کی قرض دینے کی خواہش میں اضافہ کرے گی۔ پروگرام کی اصلی شرائط کے تحت بینک اپنے رقم قرض خواہوں کو دیں اور ایس بی اے سے سات ہفتوں میں واپس ادائیگی کے لئے پوچھیں۔اگر قرض لینے والوں نے قرض کی شرائط کا احترام کیا ہو اور اس رقم کا اہل اخراجات پر خرچ کیا تو ایس بی اے کی جانب سےان کے تمام قرض کی واپس ادائیگی کی جائے گی ۔اگر قرض لینے والے نے اپنی چیزوں پر رقم خرچ کی تو وہ خود بینکوں کو دو سال میں رقم کی واپس ادائیگی کریں گے۔

نئی سہولت بینکوں کو موقع فراہم کرتی ہے کہ جلد ازجلد جیسے ہی یہ سہولت ختم ہو اور جاری ہو ،امکان ہے کہ تقریباََ تین ہفتوں میں یہ قرض فروخت کردے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بینکوں کو زیادہ سرمایہ لگائے بغیر مزید قرضے دینا ان کیلئے آسان ہوجائے گا۔

یہ معاملہ ویلس فارگو کیلئے سب سے زیادہ متعلقہ ہے جس کا کہنا ہے کہ اس کی شرکت اس کے اثاثوں پر حد کی وجہ سے محدود ہے۔بینک جو ریگیولیٹرز پر کم سے کم عارضی طور پر اپنی اثاثوں کی حد اٹھانے پر زور دے رہا ہے، یہ نہیں بتائے گا کہ آیا وہ فیڈرل ریزرو کی نئی سہولت کی روشنی میں ایس بی اے کے قرض دینے کے لئے اپنے 10 بلین ڈالر کے ہدف میں اضافہ کرے گا یا نہیں۔

دوسرے بینک منگل کو مانگ میں اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔چیس جس نے ابھی تک اپنی درخواستوں کی تعداد ظاہر نہیں کی ہے کے ترجمان نے کہا کہ وہ اپنی اپ ڈیٹ کردہ ایپلیکیشن سسٹم کے ساتھ وہ زیادہ حجم پر کارروائی کرسکیں گے۔امید ہے سٹی گروپ پہلی بار درخواستیں قبول کرنا شروع کرے اور اسی طرح کیپیٹل ون بھی کرے گا۔

بڑے امریکی بینکوں میںسب سے پہلے اپنا پورٹل لانچ کرنے والے بینک آف امریکا نے کہا کہ اسے پیر تک 212،000 درخواستیں موصول ہوئیں جومجموعی طور پر 36 ارب ڈالر کی ہیں۔ترجمان یہ نہیں بتاسکا کہ ان میں سے کتنی درخواستوں پر کارروائی کی گئی تھی۔

ایس بی اے نے کہا کہ اس نے پیر کی صبح تک 2،400 قرض دہندگان کے ذریعہ دائر کی گئی 130،000 درخواستوں سے تقریبا38 ب ارب ڈالرز کے قرضوں پر کارروائی کی ہے۔وائٹ ہاؤس نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر ، لیری کڈلو نے سی این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اس پروگرام کو "خوفناک آغاز" ملا ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید