آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانیہ کی سڑکوں پر رش، لوگ گھروں سے نکلنا شروع

برطانیہ کی سڑکیں آج صبح  ٹریفک سے بالکل بھری ہوئی نظر آئیں، جیسا کہ فون ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر موجود تھے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے باوجود اب اپنے کاموں پر واپس آنا شروع ہوگئے ہیں۔

 اس صورتحال کے باعث اب وزیراعظم بورس جانسن پر بھی دباؤ بڑھے گا، جو خود کورونا وائرس کی وبا سے نبردآزما ہونے کے بعد آج ہی واپس اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے واپس آئے ہیں۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے حوالے سے خود انکی اپنی پارٹی کے اندر سے بھی ان پر دباؤ پڑنا شروع ہوچکا ہے، اسکی کچھ معاشی وجوہات بھی ہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں حکومت نے لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات کا نفاذ 7مئی تک کے لیے کررکھا ہے۔

 وزیراعظم جانسن ان پابندیوں کے حوالے سے عوام کی فرسٹریشن سے تو بخوبی آگاہ ہیں، لیکن انہوں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ کوئی ایسا رسک نہیں لینا چاہتے کہ جس سے جلد بازی میں پابندیاں اٹھانے سے بیماری کا دوسرا عروج امڈ آئے۔

آج (بروز پیر) رش کے اوقات کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں لندن کی سڑکوں بشمول پرویل کے علاقے اے 40 ، گرین وچ میں اے 102 جبکہ برسٹل میں ایم 5 اور ویلسیل ایم 6 پرکاروں، وین اور ٹرکوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔

دریں اثنا لندن کے ریلوں کے مسافربھی شہر کے انڈرگراؤنڈ ٹرینز میں سفر کے لیے آج صبح جمع تھے۔ بالخصوص کیننگ ٹاؤن اور کینیڈا واٹر اسٹیشن پر تو کافی لوگ تھے۔  واضح رہے کہ شعبہ ٹرانسپورٹ نے اپنی سروسز تو کم کی ہیں لیکن اہم شعبوں اور ایمرجنسی کے ورکرز کے لیے سروسز فراہم کی جارہی ہیں۔ 

اس صورتحال سے یوں لگتا ہے کہ مزید کاروبار دوبارہ کھولنے کا اعلان کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں، جس میں کے گریگز کی مشہور بیکری بھی شامل ہے، کٹنگ اور جوتوں کی مرمت کرنے والا ادارہ ٹمپسن بھی اپنے کچھ سائٹس کھولنے کو تیار ہیں، لیکن یہ سب حفظان صحت کے سخت اصولوں اور سماجی دوری کی پابندی کرینگے۔

 ادھر گوگل میپ پر بھی آج سینٹرل اور جنوبی لندن میں جو بھیڑ نظر آئی ہے وہ گزشتہ چند ہفتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور ایسا 23 مارچ کے بعد ہوا، یاد رہے کہ 23 مارچ کو برطانیہ میں دنیا کے دوسرے بہت سارے ملکوں کے ساتھ لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تھا۔

 اس حوالے سے برطانیہ کی بھارتی نژاد وزیرداخلہ پریتی پٹیل نے سڑکوں پر موجود ڈرائیورز کو خبردار کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ گھروں پر رہیں اور صرف بہت زیادہ ضرورت پر ہی گھر سے باہر نکلیں۔

خاص رپورٹ سے مزید