آپ آف لائن ہیں
بدھ4؍ شوال المکرم 1441ھ 27؍مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جنوبی پنجاب: بیشتر مساجد نے 20 نکاتی معاہدہ ہوا میں اڑا دیا

ماہ رمضان کے آتے ہیں ہیں وہی پچھلی روایت دہرائی گئی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا گیا ، خصوصا پھل ، سبزیاں ،دالیں ،بیسن اور سحری و افطاری کے دوران استعمال میں آنے والی دیگر اشیائے خوردونوش کو کئی گنا مہنگا کردیا گیا ،حیرت اس بات پرہے کہ رمضان آنے سے صرف دو دن پہلے پنجاب حکومت نے ایک آرڈی نینس جاری کیا ،جس میں ذخیرہ اندوزی ،ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کی نوید سنائی گئی ،صنعتوں کے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس کی اور کہاکہ اب کسی کو ماہ رمضان میں ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیاء مہنگی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس سلسلہ میں تمام ڈپٹی کمشنروں کو حکم جاری کیا جا چکا ہے مگر لگتا ہے کہ یہ ساری کاغذی باتیں اس حقیقت کو کو تبدیل نہیں کر سکیں ،جو ہمیشہ سے ہر رمضان المبارک کے موقع پر عوام کے حقوق کو پامال کرنے کے لیے موجود ہوتی ہے ،اس بار تو عوام پر دوہرا ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔

کورونا کی وجہ سے روزگار ختم ہے، مزدور طبقہ کی حالت بری ہے، چھوٹے تاجروں کی دکانیں بند پڑی ہیں، محنت کشوں کو کام نہیں مل رہا، ان کی قوت خرید نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے مگر دوسری طرف یہ ظالم مہنگائی مافیا ہے جس نے پہلے رمضان سے ہی پنجے گاڑ لئے ہیں اور روزہ داروں کو افطاری کے لیے شاید سامان ہی میسر نہ آسکے، اب سوال یہ ہے کہ پنجاب کی گورننس اور ضلعوں کی انتظامیہ آخر کہاں ہے؟ اس آرڈیننس کا مقصد کیا ہے؟ جس پر عمل ہی نہیں ہونا ،اب تک پنجاب میں کتنے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ؟کتنے گوداموں پر چھاپے مارے گئے ہیں؟ 600روپے کلو لیموں فروخت کرنے والے آخر اسے کہاں سٹور کیے ہوئے ہیں؟ رمضان سے ایک روز قبل 70روپے میں ملنے والا کیلا 150روپےدرجن کس نے کیا ؟ حتی کہ آلو جیسی جنس جس کا اس وقت سیزن ہے رمضان سے پہلے 30 روپے کلو دستیاب تھی اب 70روپے کلو کیسے ہوگئی ؟

جس چیز پر بھی نظر ڈالیں، وہ تین گنا زائد قیمتوں پر بک رہی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں، عوام کے ساتھ اس قسم کا مذاق پہلے کبھی دیکھا نہ سنا گیا کہ ایک طرف انہیں لاک ڈاؤن کے ذریعے گھروں میں رہنے کو کہا جارہا ہے تو دوسری طرف ذخیرہ اندوز مافیا کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ من مانے نرخوں پر ضروریات زندگی کی اشیاء فروخت کرے، پنجاب حکومت کی ایک طرف لاک ڈاؤن میں ناکامی ظاہر ہو رہی ہے کہ دکان کھلی ہیں، ٹریفک جاری ہے، سماجی فاصلوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا ،دوسری طرف عوام کو ناقابل برداشت مہنگائی کے سپرد کر دیا گیاہے، اگر سارا رمضان یہی صورتحال جاری رہی تو سفید پوش طبقہ بھی شاید اشیاخوردونوش کی خریداری کے لیے خود کو مالی طور پر مجبور پائے ۔جہاں تک گوروناکے پھیلاؤ کا تعلق ہے تو ہر طرف سے خبریں یہی آرہی ہیں کہ آنے والے پندرہ دن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اگر ان دنوں میں سخت لاک ڈاؤن نہ کیا گیا اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئی تو کورونا کیسز کی تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہے،اس حوالے سے سندھ حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہی وقت کی ضرورت نظر آتے ہیں،مثلاً وہاں رات 8 بجے کے بعد کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ 

مسجدوں میں نماز تراویح کی ممانعت کر دی گئی ہے ماہ رمضان میں سڑکوں پر پکوڑے سموسے اور دہی بلوں کے سٹالوں کو بند کر دیا گیا ہے جہاں افطاری کے وقت بہت زیادہ رش نظر آتا تھا، مگر پنجاب میں اتنی احتیاط نظر نہیں آرہی، تراویح کے مسئلہ پر حکومت کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھا سکی، پنجاب اور جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح ملتان ،بہاول پور ،ڈیرہ غازی خان میں مساجد انتظامیہ اس 20 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہیں جو صدر عارف علوی اور علماء کرام کے درمیان ترتیب پایا ، بیشتر مساجد میں نمازیوں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی شرط کو ہوا میں اڑا دیا گیا ہے،50 سال سے زائد عمر کے افراد کے مسجد میں نہ آنے کو ایک مذاق سمجھا جارہا ہے اور زیادہ تعداد ان ہی کی نظر آتی ہے، کئی مساجد میں دریا ں،قالین بھی بچھے ہوئے ہیں ،حالانکہ فرش پر نماز پڑھنے کی شرط عائد کی گئی تھی ،جیسے کہ پہلے بھی کہا جارہا تھا کہ اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا ؟کونسی انتظامی باڈی اس کی نگرانی کرے گی ؟

حالت یہ ہے کہ جب لوگ جوق در جوق مساجد میں آ رہے ہوتے ہیں تو انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہوتا جو یہ کہے کہ مسجد میں جگہ نہیں رہی وہ گھروں میں نماز ادا کریں، ایک طرف افواج پاکستان کے ترجمان کی یہ تنبیہ ہے اگلے دو ہفتے بہت زیادہ تباہی لاسکتے ہیں دوسری طرف پنجاب حکومت کا حال یہ ہے کہ وہ کوئی مؤثر قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے ہر طرف بازاروں میں لوگوں کا ہجوم نظر آتا ہے افطاری کے وقت پکوڑوں سموسوں اور دہی بھلوں کے سٹالوں کی اجازت دے کر لوگوں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ اس سے اگر کوروناکیسز کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوگیا، تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ؟

ایک طرف ڈاکٹر ملتان ،جنوبی پنجاب اور چاروں صوبوں میں پریس کانفرنس کرکے یہ دہائی دے رہے ہیں کہ لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن سخت کیا جائے کیونکہ اگر کورونا کیسز کی تعداد اسی رفتار سے بڑھتی رہی ،تو آنے والے دنوں میں شاید مریضوں کو سڑکوں پر لٹا کر علاج کرنا پڑے ،پنجاب کے ڈاکٹروں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس وقت بھی کوروناکے مریضوں کی تعداد ہزاروں کی بجائے لاکھوں میں ہے مگر ٹیسٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے صحیح اعداد و شمار سامنے نہیں آرہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے ای این ٹی کے سینئر ترین ڈاکٹر محمد جاوید بھی کورونا مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اس کا شکار ہوئے اور لقمہ اجل بن گئے اس واقعہ سے یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمارے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف کی جانیں بھی داؤ پر لگی ہوئی ہیں ، ابھی تک یہ شکایات سامنے آرہی ہیں کہ انہیں حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا گیا، اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ صرف کورونا وارڈ تک ہی نہیں بلکہ ہسپتال کے دیگر حصوں میں بھی کورونا کے پھیلاؤ کے خطرات موجود ہیں، ملتان کا نشتر ہسپتال اس حوالے سے پورے ملک میں ایک ایسا طبی ادارہ بن کر ابھرا ہے کہ جہاں سب سے زیادہ ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر ہو کر مرض میں مبتلا ہوئے،جن کی تعداد 28 ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید