آپ آف لائن ہیں
جمعرات24؍ذیقعد 1441ھ16؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح میں اضافہ، نسلی اقلیتوں نے جواب طلب کرلیا

لندن:کلائیو ککسن

اوسلو:رچرڈ ملن

جب ناروے کے صحت عامہ کے ماہرین نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے پس منظر کو تلاش کرنا شروع کیا تو انہوں نے چونکادینے والی بات دریافت کی کہ صومالیہ میں پیدا ہونے والے افراد میں انفیکشن کی شرح قومی اوسط سے 10 گنا سے زیادہ ہے۔

منگل کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اسکینڈینوین ملک میں صرف 7،500 کوویڈ 19 کیسز ہیں ، جو 100،000 باشندوں کےمقابلے میں 140 کے برابر ہیں۔تاہم ان میں سے 453 کیسز ناروے میں رہنے والی نسبتاََ چھوٹی کمیونٹی کے اندر پائے گئے ہیں جو صومالیہ میں پیدا ہوئے تھے، جس کی شرح 100،000 میں 1،586 ہے۔

حکام کو ہلاکتوں کی تشویشناک حد سے آگا ہ کرنے والے اولین افراد میں شامل اوسلو میں مقیم صومالی نژاد ڈاکٹر عیون بشیر شیخ نے کہا کہ آپ نےکسی ایسے انکل کے بارے میں سنا ہوگا جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور یہ کہ ان کا کنبہ متاثر ہوا ہے۔ایسا محسوس ہوتا جیسے بہت سارے لوگ متاثر ہیں۔

ناروے واحد ملک ہے جہاں سیاہ فام اور اقلیتی نسل (Bame) گروہوں کے غیرمتناسب شرح میں متاثر ہوئے ہیں۔بام پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد برطانیہ کی آبادی کا تقریبا 13 فیصد بنتے ہیں لیکن وہ اسپتال کے انتہائی نگہداشت والے یونٹوں میں داخل وائرس سےمتاثرہ مریضوں کا ایک تہائی ہیں۔سیاہ فام امریکی آبادی کے تقریبا 14 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ان لوگوں میںسے 30 فیصدہیں جو وائرس کا شکار ہیں۔

کوویڈ 19 میں مبتلا افراد میں نسلی اقلیتوں کی اتنی زیادہ نمائندگی ہونے کی تحقیقات جاری ہیں ،اگرچہ کچھ لوگوں کو آسان جوابات کی توقع ہے۔ صحت اور تعلیم کے ماہرین کووڈ19 اور نسل کے مابین وابستگی پیدا کرنے والے متعدد طبی،معاشرتی،معاشی،طرزعمل،ثقافتی،ماحولیاتی اور حیاتیاتی عوامل میں سراغ تلاش کررہے ہیں۔

برطانیہ میں لیسٹر یونیورسٹی میں پرائمری کیئر ذیابیطس اور ویسکیولر میڈیسن کے پروفیسر کملیش کھونٹی نے کہا کہ جب ہم نے چار ہفتوں قبل خطرے کی گھنٹی بجانا شروع کی تو کچھ لوگوں نے اسے دہشت پھیلانے کا عمل قرار دیا۔اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ برطانیہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد جو ہلاک ہوئے ہیں ان میں سے 70 فیصد کا پس منظر بام سے ہے۔

اسی طرح کے نمونے بڑی اقلیتی آبادی والے امریکا اور دیگر یورپی ممالک میں وائرس سے متاثرہ بام افراد کی غیرمتناسب تعداد کو ظاہر کرتے ہیں،اگرچہ پروفیسر کملیش کا کہنا ہے کہ کوووڈ ۔19 کے مجموعی نسلی نمونوں کے حوالےسے برطانیہ جتنا اچھا نمونہ کہیں اور موجود نہیں۔ بام کے ایک بڑے تناسب والا ملک فرانس نسلی بنیاد پر اعداد و شمار جمع کرنے سے منع کرتا ہے۔

پروفیسر کملیش نے کہا کہ ہم برطانیہ میں اس پوزیشن میں ہیں کہ جو ہورہا ہے اس سے دنیا کو آگاہ کریں۔

امریکامیں امراض کے کنٹرول اور تحفظ کے مراکز کے ذریعہ مرتب کردہ ڈیٹا نامکمل ہے۔ لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی عوام کی 74 فیصد آبادی کے مقابلے میں ، کووڈ کیسوں میں سفید فام لوگوں کا تناسب 51 فیصد تھا جن کی نسل متعین کی گئی تھی۔

ایک عنصر جس کی تحقیق کی جاری ہے وہ بیک وقت ایک سے زائد بیماریاں ہیں۔افریقی نژاد امریکی جنرل سرجن جیروم ایڈم نے خبردار کیا کہ ذیابطیس، امراض قلب اور موٹاپے جیسی کنڈیشن کی بنیادی بلند شرح کی وجہ سے کمیونٹی کتنے بڑے خطرے میں ہے،جس سے کووڈ19 سے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

افریقی نژاد امریکی زیادہ تر غربت کا شکار ہیں اور جن حالات میں وہ رہتے ہیں اور جس طرح کا وہ کام کرتے ہیں اس کی وجہ سے وہ سماجی فاصلہ رکھنے کے بھی قابل نہیں۔عام آبادی کے مقابلے میں بڑے خاندانوں کے ساتھ بھیڑ والی صورتحال میں ملنے والے اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد اکثر ایک ساتھ بہت قریب رہتے ہیں۔

وہ عوامی رابطے کی ملازمتوں جیسے ذرائع نقل وحمل اور ترسیل کے ساتھ ساتھ صحت اور معاشرتی نگہداشت کے شعبوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ،جہاں انہیں وائرس سے متاثر ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔پروفیسر کملیش نے کہا کہ بام پس منظرسے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے کئی وجوہات کی بنا پر سماجی فاصلہ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

ناروے میں صومالی کمیونٹی میں وائرس سے متاثر ہونے کی بلند شرح کی شاید ایسی ہی متعدد وجوہات وضاحت کرتی ہیں۔یہ عام طور پر غریب ترین اور تنگ فیملی یونٹس میں رہتے ہیں۔ زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور کا کام کرتے ہیں اور اپنی الپائن چھٹیوں سے واپس آنے والے اسکیئرز کو چلا سکتا تھے،جو ناروے میں سب سے ابتدائی کیسز کا ذریعہ تھا۔

ناروے کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی ماہر ٹروڈ مارگریٹ آرنیسن نے مشورے پیش کرنے کے قابل ہونے کی اضافی مشکلات کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ کوویڈ ۔19 پر صبح سے شام تک ہر ایک کو معلومات دی جاتی ہیں لیکن ان گروپس کو نہیں جو مرکزی دھارے میں شامل ذرائع ابلاغ کے ساتھ رابطے میں نہیں۔

اوسلو کے ڈاکٹر شیخ محمد نے اس بات سے اتفاق کیا کہ حکام نے مکمل طور تحریری مواد پر انحصار کرکے غلطی کی ہے کیونکہ بہت سے صومالی باشندے ناخواندہ ہیں۔ان کے اور ایک دوست کے پاس کا یوٹیوب چینل تھا جو انہوں نے صومالی میں صحت عامہ کی ویڈیوز کے لئے استعمال کیا اور جلد ہی کورونا وائرس کے بارے میں متعدد پوسٹ کردیں ، ان میں سے ایک ہاتھ دھونے پر بھی شامل تھی، جس کے ساتھ ہی ایک ٹیلیفون ہاٹ لائن بھی شامل ہے۔

گزشتہ کچھ ہفتوں میں ناروے کے صومالی باشندوں میں انفیکشن کی تعداد کم ہونا شروع ہوگئی،جس کی وجہ ڈاکٹر شیخ محمد نے اپنی کامیاب مہم کو قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی سنگینی نے واقعتاََ لوگوں کو متاثر کیا۔

جبکہ جینیاتیات کو ایک ممکنہ کارگر عنصر کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو کچھ نسلی گروہوں کو وائرس کے لئے زیادہ حساس بناتا ہے،یورپیئن مولیکیولر بائیولوجی لیب کا حصہ یورپیئن بائیوانفورمیٹکس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ایوان برنی نے اس وضاحت کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ نسلی گروہوں کے مابین ایک سے زائد بیماریوں سے متاثر ہونے اور سماجی و اقتصادی حیثیت میں بڑے واضح فرق کے بعد جینیاتی اثرات ،جس کا نفرادی طور پر کچھ اثر ہوسکتا ہے۔اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ گروپ کے درمیان اوسط اثرات مرتب کررہے ہیں۔

جینیاتی فرق کی جانچ کیلئے بین الاقوامی تحقیقات جاری ہیں کہ کچھ لوگوں میں دوسروں کے مقابلے میں وائرس سے متاثر ہونے یا شدید علامات پیدا ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔

برطانوی حکومت نے نسلی اقلیتوں میں کووڈ 19کی تحقیقات کے لئے متعدد مطالعات کا آغاز بھی کیا ہے تاہم واضح وجوہات کا سامنے آنا باقی ہیں۔ملک کے چیف سائنسدان سر پیٹرک والنس نے رواں ہفتے ایک بریفنگ میں کہا کہ پہلے دو یا تین سے میں نے تجزیہ کی کوئی بڑی مستقل مزاجی نہیں دیکھی۔ “میری کوئی وضاحت نہیں دے سکتا۔

فنانشل ٹائمز سے مزید