آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

حقیقت پر مبنی یہ ناقابلِ فراموش واقعہ میرے بھائی کے ساتھ پیش آیا، جو اُسی کی زبانی پیش کررہی ہوں۔ ’’یہ اُن دنوں کی بات ہے، جب میرا داخلہ سیال کوٹ کے ایک سرکاری کالج میں ہوا۔ گھر سے کالج کافی دُور تھا، بسوں میں آنے جانے میں کافی وقت ضائع ہوجاتا تھا، لہٰذا موٹر سائیکل خریدنے کے لیے والد صاحب کو بڑی منّت سماجت کے بعد قائل کیا، وہ اس شرط پر بائیک دلانے پر راضی ہوئے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے چلائوں گا۔ والد صاحب نے موٹر سائیکل دلوادی، تو میں روز اُسی پر صبح گھر سے کالج اور کالج سے گھر آنے جانے لگا۔

ایک روز حسبِ معمول چھٹی کے بعد کالج سے گھر جارہا تھا۔ سڑک پر ٹریفک معمول سے کچھ زیادہ ہی تھا اور گرمی بھی شدّت کی تھی، میں جلد از جلد گھر پہنچنے کے چکّر میں بائیک تیز چلارہا تھا۔ مین شاہ راہ پر پہنچا، تو وہاں رش کچھ کم تھا، میں برق رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا اور میرے آگے آگے ایک بڑا سا فُل لوڈڈ ٹرک جا رہا تھا، جسے کئی بار اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی، مگر کام یاب نہ ہوسکا، کیوں کہ سڑک ٹو وے تھی، جیسے ہی ٹرک سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا، سامنے سے کوئی نہ کوئی تیز رفتار گاڑی دیکھ کر ٹرک کے پیچھے ہولیتا۔ 

کچھ دیر بعد مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کا رش کچھ کم ہوااور مجھے ٹرک کو اوورٹیک کرنے کا موقع ملا، تو ایک بار پھر اپنی بائیک آگے نکالنے کی کوشش کی، لیکن جیسے ہی کچھ آگے بڑھا ، اچانک سامنے سے ایک اور ٹرک آتا دکھائی دیا، جسے دیکھ کر میرے اوسان خطا ہوگئے۔ مَیں اپنے آگے چلنے والے ٹرک کے متوازی اور سامنے سے آنے والے ٹرک کے بالکل سامنے آچکا تھا اور عین ممکن تھا کہ سامنے سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا جاتا۔ اس اچانک افتاد سے میرے اوسان خطا ہوگئے، مجھے بائیک پرگرفت ڈھیلی پڑتی محسوس ہوئی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں، مارے خوف کے میری آنکھیں بند ہوگئیں اور لاشعوری طور پر زبان سے ’’بسم اللہ‘‘ نکلا۔

اگلے ہی پَل جب میں نے آنکھیں کھولیں، تو خود کو محفوظ پاکر اطمینان کی ایک گہری سانس لی۔ سامنے سے آنے والا ٹرک تیزی سے میرے برابر سے گزر گیا تھا اور مجھے خراش تک نہیں آئی تھی۔ حالاں کہ سامنے والا ٹرک جب میرے برابر والے ٹرک کو کراس کرتا ہوا گزرا، تو اس وقت ان دونوں کے درمیان فاصلہ بالکل بھی نہیں تھا اور میرا ان دونوں کے بیچ کچلا جانا یقینی تھا، لیکن سچ ہے کہ ’’جسے اللہ رکھے، اُسے کون چکھے۔‘‘ بلاشبہ، یہ بسم اللہ کی برکت تھی کہ دو ٹرکوں کے درمیان سینڈوچ بننے کے باوجود میں زندہ سلامت رہا۔ آج بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے، تو دل خوف سے کانپ اٹھتا ہے۔ بلاشبہ یہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش واقعہ ہے۔ (تانیہ شہزاد، رحیم پور ، سیال کوٹ)

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر،سنڈے میگزین صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔