آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوشل میڈیا سے بچے اداس، بڑے ڈپریشن میں مبتلا

انسان کی دانش ورانہ تاریخ ملاحظہ کریں تو کم وسائل کی موجودگی میںجو عظیم الشان ایجادات و اختراعات ہوئیں۔ تاہم آج ایک کلک کے فاصلے پر وسیع و عریض معلومات کے بے کنار سمندر نے انسان کے ذہنی ارتکاز و توجہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تازہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ فیس بک،ٹوئٹر،انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا آپ کی ذہنی صحت کو بہت متاثر کرسکتے ہیں۔ چاہے وہ استعمال ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، نوٹ پیڈ یا اسمارٹ فون پرہو۔

فیس بک،ٹوئٹر پر دوستوں سے ملاقات کا بہانہ ہو یا انسٹاگرام پر تصاویر کا تبادلہ ہر دو صورتوں میں یہ لت آپ کو اداس اور ڈپریشن میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اعدادوشمار کے لحاظ سے اس وقت امریکا میںسب سے زیادہ سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں۔ تقریباً 77فیصد امریکیوں کی کوئی نہ کوئی سوشل میڈیا پروفائل موجودہے، جو ان کے سوشل میڈیا جنون کا پتہ دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی وجہ سے بڑی تیزی کے ساتھ ہماری زندگی کے تقریباً تمام پہلومتاثر ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی ہمارے طرز عمل ، معاشرتی تعلقات اور ذہنی صحت پراثر پذیری کے حوالے سے کئی تحقیقی نتائج سامنے آچکے ہیں،جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن رکھنا ہوگا۔

تازہ مطالعات نے نوعمروں کی اکثریت کے سوشل میڈیا استعمال کو افسردگی، اضطراب ، بے خوابی و غنودگی ، اعتماد کی کمی، عدم توجہی اور انزائٹی سے موسوم و مربوط کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعتدال سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا جنون جسمانی و ذہنی طور پر ناکارہ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس کے مثبت استعمال کی عام دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ سوشل میڈیا افسردہ اور تنہا افراد کو سہارا اور اشک شوئی فراہم کرتا ہے، لیکن وہ بھی تب جب تک یہ روابط اعتدال و توازن کی حدود سے تجاوز نہ کریں۔

سوشل میڈیا اور افسردگی

جرنل آف سوشل اینڈ کلینکل سائیکالوجی میں شائع کردہ نئی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ در حقیقت فلاح و بہبود پر منفی اثرات اور افسردگی و تنہائی کے درمیان ایک باہمی تعلق کے طور پر ہم سوشل میڈیا کے منفی کردار سے سرِ مو انحراف نہیں کر سکتے۔تحقیقی مقالے کے مصنف اورپنسلوانیا یونیورسٹی کے سینئر محقق جارڈن ینگ کا کہنا ہے،’’ہم نے مجموعی طور پر پایا کہ اگر آپ سوشل میڈیا کم استعمال کرتے ہیں تو آپ دراصل کم افسردہ اور کم تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا کم استعمال آپ کی فلاح و بہبود میں معیار کی تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔اس سے پہلے ، ہم صرف اتنا کہہ سکتے تھے کہ سوشل میڈیا کا استعمال اچھے اور خراب نتائج کا مجموعہ ہے‘‘۔

اس مطالعہ میں پنسلوانیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے 143طلبا شامل تھے،جنھیں سوشل میڈیا استعمال کرنے اور نہ کرنے والے دو گرپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جس گروپ نے سوشل میڈیا کا کم استعمال کیا ،ان کی ذہنی صحت کے بہتر نتائج سامنے آئے۔ ایسے تجرباتی گروپ میں شامل طالب علموں میں گمشدگی کا خوف ، تنہائی ، اضطراب اور افسردگی کی کیفیات ختم ہوئیں اور ان کے اندرخودی وخود اعتمادی اور خودمختاری کا جذبہ پروان چڑھا۔ مشی گن یونیورسٹی کے ماہر نفسیات پروفیسر آسکر یباررا نے کہا،’’جب آپ اجنبی لوگوں سے مجازی دنیا کے تعلقات استوار کرتے ہیں تو ان کی خوبیاں اور خامیاں آپ کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

خود سے قابل لوگوں سے مل کر آپ شدید احساسِ کمتری میں مبتلا ہوکر سراپا حسد بن جاتے ہیں،جب کہ اپنی صلاحیتوں سے کم تر احباب سے مل کر آپ میں انجانا تکبر اور احساسِ برتری جنم لیتا ہے،جو آپ کی موجودہ صلاحیتوں کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ ایسے معاشرتی موازنے سے آپ اپنی موجودہ صلاحیتوں سے لاتعلق ہوکر خوب سے خوب تر کے چیلنج میں پھنس کر خود کو تنہائی و افسردگی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اپنی صلاحیت اور اپنے دماغ سے سوچنے کی قابلیت جاتی رہتی ہے ۔آپ اپنے اوپر سوشل میڈیا کو سوار کرکے اپنے شخصی وقار کو کھو بیٹھتے ہیں‘‘۔

سوشل میڈیا کوعلت نہ بنائیں

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی حقیقی معاشرتی اہمیت کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے تاہم اس کی محبت میں اپنے ہوش و حواس گم کرکے حقیقی اہداف سے دوری کسی طور نیک شگون نہیں۔ اوہائیو میںمیامی یونیورسٹی کی نفسیات کی پروفیسرایمی سمر ویلی کا کہنا ہے،’’سوشل میڈیا اورٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے ایسی دنیا تشکیل دے دی ہے جس میں ہم اپنی ہی’کرسٹل گیند‘ سے دیکھنے کےعادی ہوچکے ہیں کہ ہمارے دوست اس وقت کیا کر رہے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ایسی روش اچھے نتائج کی حامل ہو، تاہم سوشل میڈیا روابط سے ہم خود کو الگ تھلگ بھی نہیں رکھ سکتے،اس لیے اب وقت آگیاہے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے اپنی حدود متعین کریں۔

اس کی روزافزوں وسعت کو آپ روک نہیں سکتے تاہم معتدل استعمال کو یقینی بناکر ایسی ایپس سے رجوع کرسکتے ہیں جو آپ کی کیریئر سازی میں مؤثر ہوں۔ اسٹراوا جیسی ایپس نے ایک ایسا سوشل نیٹ ورک بنایا ہے جہاں صارفین فٹنس کے حوالے سے اپنے اہداف اور معمولات کو دوسروں سے شیئر کرسکتے ہیں۔ لنکڈاِن ملازمت کےشاندار مواقع کے ساتھ پیشہ ور اور ذہین افراد سے تعلقات کو وسیع کرنے میں ممد و معاون ہوسکتا ہے۔یاد رکھیں سوشل میڈیا کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں اور اس کا استعمال صرف اپنے کام تک محدود رکھیں ‘‘۔