آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پانامالیکس نےدنیاکےسب نہیں کچھ دولت مند لوگوں کو پریشان کردیا ہے۔اس سےافلاطون کےعہد کے ایک امیر شخص کی بات یادآرہی ہے۔آج سےتقریباًڈھائی ہزار سال قبل افلا طون کا ہم شہری ’’ایسوکریٹس‘‘ ایتھنزکاایک دولت مند شخص تھا ۔وہ ایتھنز کی سیاست میں بھی بہت مؤثرتھا۔ایک مرحلہ ایساآیا، جب اس نےدولت کواپنےلیےپریشان کن قراردیا۔وہ کہتا ہے کہ ’’جب میں لڑکاتھاتودولت کواس قدر محفوظ اور قابل توصیف چیز سمجھا جاتا تھاکہ ہرشخص دولت مندبننا چاہتا تھااور زیادہ سے زیادہ جائداد خریدنا چاہتا تھا…اب آپ کو اپنی امارت ایسےچھپانا پڑتی ہے،جیسے یہ کوئی بدترین جرم ہو۔‘‘یہ وہ زمانہ تھا،جب قدیم یونان کی اس ریاست میں امیر اور غریب کے درمیان فرق بہت بڑھ چکا تھا ۔ افلاطون نے اسی زمانے میں کہا کہ ’’ ایتھنز دو شہر بن گیا ہے، ایک امیرکا اور دوسرا غریب کا ، دونوں ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔‘‘جوبات افلاطون نے ڈھائی ہزار سال پہلے کہی تھی ، وہی بات پاکستان پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہہ رہے ہیں کہ ’’ غریب کا پاکستان الگ ہے اور امیر کا پاکستان الگ ہے ۔ ‘‘ لیکن پاکستان میں غریب اس طرح برسرپیکار نہیں ہے ، جس طرح قدیم یونان میں تھا ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ غریبوں کی سیاسی جماعتیں بوجوہ تصادم سے گریز کر رہی

ہیں ۔ اس بحث میں الجھنے کی بجائے ہم اصل بات کی طرف آتےہیںکہ’’ایسوکریٹس‘‘ کےلیے دولت محفوظ اور قابل توصیف چیز کیوں نہیں رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امیر اور غریب میں فرق اس قدر بڑھ گیا تھا کہ انجام کار زیادہ غریب شہریوں نے ایتھنز کی اسمبلی پر قبضہ کرلیا تھا اور غریب لوگوں میں دولت کی ازسر نو تقسیم کے لیےامیروں کی جائداد ریاست کے خزانے میں ڈالنے لگے تھے ۔ انہوں نے اتنے ٹیکس عائد کر دیے کہ دولت اور آمدنی چھپائی جانے لگی۔ ٹیکس وصول کرنےکےلیے نہ صرف گھر اور اثاثے ضبط کرلیے جاتے تھے بلکہ لوگوں کو جیل میں بھی ڈال دیا جاتا تھا۔ایسی صورت حال میں دولت مند ایسوکریٹس چیخ پڑا تھا۔اس زمانے میں ٹیکس چوری اور دولت چھپانے کےلیے کئی حربے استعمال کیے جاتے تھے ۔ ایتھنز کی اسی کشمکش اور بڑھتے ہوئے طبقاتی تضاد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ’’بربری‘‘ فلپ نے فوج کشی کرکے اس پر قبضہ کرلیا ۔وہ سکندر اعظم کا باپ تھا اور اپنے بیٹے سے پہلے فلپ دنیا کا بڑا فاتح تھا اور وہ کسی بھی ملک یا علاقے کو فتح کرنےسےپہلے وہاں کے سیاسی ، گروہی اور طبقاتی تضادات کو ہوا دیتا تھا اور ان تضادات سے فائدہ اٹھاتا تھا ۔ فلپ کے قبضے کے بعد ایتھنز میں دولت کا ارتکاز ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں اضافہ ہوگیا تھا اور دولت پہلےکی طرح محفوظ اور قابل توصیف چیز بن گئی تھی لیکن بہت تھوڑے وقفے کےلیے ۔ فلپ نے دولت مند لوگوں کو بہت پریشان کیا۔ اس زمانے میں ایسو کریٹس جیسے امراء کو اپنی دولت چھپانے کےلیے پاناما، برمودا، کیمان آئی لینڈز اور سنگاپور جیسے ممالک میں آف شور کمپنیاں قائم کرنے اور ٹیکس ادا نہ کرنے کی جائز اور قانونی سہولت موجود نہیں تھی ۔ آج کے ایسوکریٹس کو یہ سہولت موجودہے۔پاناماپیپرز کے ذریعہ انہیں غریبوں نے نہیں بلکہ آج کے فلپ نے پریشان کر دیا ہے اور دولت ان کے لیےمحفوظ اور قابل توصیف چیز نہیںرہی ہے ۔اب غریوں کو حقیقی انقلاب کا موقع ہی فراہم نہیں کیا جاتاہےاور انہیں پاناما لیکس جیسے معاملات میںالجھادیاجاتاہے ۔اگرچہ آج کے ایسوکریٹس یہ کہہ رہے ہیں کہ آف شور کمپنیاں قائم کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے اور ان کمپنیوںمیں لگایا گیا سرمایہ انہوں نے جائز طریقے سے کمایا ہے لیکن پاناما پیپرز کی وجہ سے دنیا کے کچھ دولت مند ایسوکریٹس کی آمدنی اور سرمایہ کو سوالیہ نشان بنادیاگیاہے۔ان میںکچھ دولت مند ایسے بھی ہیں،جو حکومتی اور سیاسی عہدوں کے حامل ہیں۔ پاناماپیپرز میں ان کانام آنےکی وجہ سے مختلف ملکوں میں سیاسی بحران پیدا ہوگئےہیں۔آئس لینڈکے وزیر اعظم نے استعفیٰ دے دیاہے۔دیگرکئی ملکوںمیں تحقیقاتی کمیشن قائم ہوگئےہیںیا کیےجارہے ہیں۔ پوری دنیا کو پتہ ہے کہ کن کن ملکوں میں آف شور کمپنیاں قائم کرنے کی قانونی اجازت ہے ۔ پاناما پیپرز میں جو راز افشاکیاگیاہے،وہ بنیادی طور پرکوئی رازنہیںہے۔جن شخصیات کے نام افشا کیےگئےہیں، ان کےبارےمیں شاید لوگوں کو پہلے معلوم نہ ہو اور یہ ان کےلیے بڑی خبرہے۔جرمن اخبارکو ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل پاناما پیپرز’’ نامعلوم ذرائع ‘‘ سے موصول ہوئےاورانٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے)کے400 صحافیوں سے اس پرکام کرایا گیا۔ پاناما پیپرز سے مخصوص شخصیات اور مخصوص ملکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ افلاطون کے عہد کا عظیم فاتح فلپ آج عالمی سامراج کی صورت میںموجودہے۔وہ دولت مند لوگوں کا دشمن نہیںہے۔ وہ دولت کےارتکاز ، کرپشن ، دہشت گردی اور سرمایہ کواپنےمقاصد کےلیے استعمال کرکے دنیا کو اپنی مرضی سے چلا سکتا ہے۔وہ حقیقی تضادات کی بجائے مصنوعی بحران پیداکرتاہے۔ کرپشن کی بڑی خبر کو افشا کرنے کے پیچھے ایک بڑی کرپشن ہوتی ہے۔ آج کے فلپ کی منصوبہ بندی کو لوگ بعد میں سمجھ پائیںگے۔ پاناما لیکس کی آڑ میں سرمایہ دنیا میں سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کےلیے استعمال کرنے کا ذریعہ بن سکتاہے۔ آج کے ایسوکریٹس جیسے دولت مند سیاست دانوںاور غیر سیاسی لوگوں کوآج کا فلپ پاناما جیسی ٹیکس فری جنت سے تحفظ تو فراہم کرتا ہے لیکن انہیں ہمیشہ بلیک میل بھی کرتا رہے گا ۔ دنیا پر قبضے کےلیے دولت کوکب اور کیسے استعمال کرناہے،یہ فیصلہ فلپ ہی کرتاہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں