آپ آف لائن ہیں
اتوار 8؍ شوال المکرم 1441ھ 31؍مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پنجاب: قیدیوں کی سزاؤں میں معافی کا نوٹیفکیشن جاری

پنجاب: قیدیوں کی سزاؤں میں معافی کا نوٹیفکیشن جاری


وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے عید پر قیدیوں کی سزائیں معاف کرنے کا اعلان کردیا، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ پنجاب نے قیدیوں کی سزاؤں میں معافی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے فیصلے سے تقریباً ایک ہزار قیدیوں کی سزائیں معاف ہوں گی، انسداد دہشتگردی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں کے علاوہ 6 ماہ سے کم سزا والے قیدی سی آر پی سی کی دفعہ 401 کے تحت سزاؤں میں معافی کے حقدار ہوں گے۔

عثمان بزدار کے فیصلے کے مطابق 75 فیصد سے زائد سزا کاٹنے والی قیدی خواتین جن کو ماضی میں سزا نہ ملی ہو ان کو بھی سزاؤں میں معافی ملے گی ایک سال قید یا کم سزا کے تحت جیلوں میں بند خواتین اور بچوں کی سزائیں بھی معاف کردی جائیں گی۔

جرمانے اور دیت وغیرہ ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے ایسے قیدی جو اپنی سزائیں پوری کرچکے ہیں ان کی سزائیں بھی معاف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کا سزاؤں میں 60 دن کی معافی کا اعلان

محکمہ داخلہ پنجاب نے پاکستان پریزن رولز 1978 کی شق 216 کے تحت قیدیوں کی سزاؤں میں 60 دن کی خصوصی معافی کا اعلان کیا ہے۔ دفعہ 302 ،394 ،395 ،396 ، 364A اور 365A کے تحت سزا کاٹنے والے قیدیوں کویہ معافی نہیں ملے گی، جبکہ منشیات اور اسمگلنگ کے جرم میں قید قیدیوں کو معافی نہیں دی جائے گی۔

حدود آرڈیننس کے تحت سزا کاٹنے والے قیدیوں کو بھی معافی نہیں ملے گی، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت قید مجرموں کو بھی معافی نہیں ملے گی، پاکستان پینل کورٹ کے تحت انسانی جسم کو نقصان پہنچانے کا جرم کرنے والے قیدیوں کو بھی معافی نہیں ملے گی۔

جاسوسی، فرقہ واریت اور ریاست کے مفادات کے منافی اقدامات کرنے والے قیدیوں کو بھی 60 دن کی معافی نہیں ملے گی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر خواتین، بچوں اور مخصوص قیدیوں کیلئے جیل میں فری پی سی او کی سہولت دے دی گئی ہے، جس کی وجہ سے بچے، خواتین اور دیگر قیدیوں کو باری باری اپنے پیاروں سے بات کرنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

عید کے موقع پر بھی جیل میں بچوں، خواتین اور مخصوص قیدیوں کو اپنے پیاروں سے بات کرنے کی مفت سہولت دی جائے گی، جبکہ دہشت گردی اور ریاست کے مفادات کے منافی سرگرمیوں میں ملوث قیدیوں کو پی سی او کی سہولت نہیں ملے گی۔

قومی خبریں سے مزید