آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چینی کے حالیہ اسکینڈل سے متعلق انکوائری کمیشن کی جو رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہے اس قدر مفصل ہے کہ زیر نظر سطور میں اس کا تفصیلی احاطہ ممکن نہیں تاہم اس کی روشنی میں یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ ملک کی 72سالہ تاریخ میں اس سے پہلے بھی مالیاتی بےضابطگیاں اور گھپلے ہوتے آئے، شور مچا، انکوائری کمیشن تشکیل دیے گئے، تحقیقات ہوئیں لیکن سب بےنتیجہ رہے آج قومی معیشت جو 43ہزار ارب روپے کے غیرملکی قرضوں تلے دبی ہے درحقیقت ایسے ہی ملے جلے معاملات کا نتیجہ ہے۔ جمعرات کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کردہ چینی اسکینڈل تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لا کر وزیراعظم عمران خان نے قوم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے، اسے آنے والے حکمرانوں کے لئے ایک مثال بنایا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں ملکی سیاست اور معیشت سے وابستہ جن چھ بڑے گروپوں کو صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا گیا ان میں پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی مسلم لیگ (ق)سے وابستہ بعض رہنمائوں کے نام بھی شامل ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن نے اس ضمن میں جہانگیر ترین، شریف خاندان، خسرو بختیار کے بھائی عمر شہریار، مونس الٰہی اور سندھ کے اومنی گروپ کو اسکینڈل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ متذکرہ رہنمائوں میں سے شہباز شریف، جہانگیر ترین، مونس الٰہی سمیت بعض نے یا تو تحقیقاتی کمیشن پر نکتہ چینی کی ہے یا خود کو اس اسکینڈل سے بری الذمہ قرار دیا ہے ویسے بھی جب تک عدالتی کارروائی کے تحت حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا تاہم چینی اسکینڈل ایک حقیقت ہے اور قومی سطح پر اس ضمن میں انکوائری کمیشن تشکیل دینا اپنی جگہ ناگزیر ہے لیکن اس کی مکمل تحقیقات اور اس کی روشنی میں مرتب کردہ رپورٹ عوام کے سامنے لانا وہ دلیرانہ اقدام ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں چینی کی پیداواری لاگت میں گھپلوں، کارٹل بنانے، مل مالک اور حکومتی اداروں کے لئے الگ الگ کھاتے، کم قیمت پر گنے کی خریداری، ٹی ٹی سے وصولی ،سٹے کے ذریعے ہیرا پھیری اور فراڈ کی نشاندہی کرتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کر کے وصولیاں کی جائیں جو متاثرہ کسانوں اور عوام میں تقسیم کر دی جائیں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شوگر ملوں نے 22ارب روپے کا انکم ٹیکس دے کر 12ارب کا ریفنڈ لے لیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ، ایس ای سی پی مسابقتی کمیشن، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک سمیت بعض وفاقی وصوبائی اداروں نے غیرذمہ داری دکھائی کمیشن نے کیس نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کی ہے جس کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم کی ہدایات پر عید کے بعد سفارشات تیار ہوں گی جس کی رو سے فوجداری مقدمات بھی بن سکتے ہیں، ممکنہ طور پر گرفتاریاں بھی ہوں گی۔ ابتدائی رپورٹ کی روشنی میںگزشتہ ماہ کی چھ تاریخ کو وزیراعظم نے بعض وفاقی وزراء مشیروں اور سرکاری افسران کی ذمہ داریوں میں ردوبدل اور برطرفیاں کرتے ہوئے خود احتسابی کی نئی بنیاد رکھی ہے اس کے تحت انہوں نے اپنے ہی ساتھیوں کے بارے میں آزادانہ انکوائری کا حکم دیا اور پہلی بار ایسی تحقیقاتی رپورٹ عام کی گئی جس میں خود حکومتی کار پروازوں کی کارکردگی کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے یہاں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ قومی خزانے کو ماضی میں جن لوگوں نے لوٹا ان کے کیس بھی دوبارہ کھولنے چاہئیں اور عدالتوں میں دبے ہوئے کیسوں کی بھی سماعت ہونی چاہئے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ جو حضرات اعتراضات کی زد میں ہیں ان کا موقف بھی کھلے ذہن سے سنا جائے اور انہیں صفائی کا پورا پورا موقع دیا جائے۔