آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سائبر بُلنگ سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

اکیسویں صدی کو ٹیکنالوجی کادور کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا دور ہے جس میں کسی بھی شخص کے لیے اسمارٹ فون کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔ تاہم، ٹیکنالوجی گیجٹس جہاں انسان کو مختلف طرح کی آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرتے ہیں، وہیں آن لائن ہراسانی میں بھی اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق2017ء میں41فیصد امریکی آن لائن ہراسانی کا شکار ہوئے۔ اس کے لیے کسی مخصوص طریقہ کار کے بجائے مختلف آن لائن ہراسانی کے طریقوں کا استعمال کیا گیا۔ سائبر بلنگ کے ذریعے امریکی نوجوانوں اور ٹین ایجرزکو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ آدھے سے زائد نوجوانوں کو آن لائن ہراسگی کے مختلف طریقوں کو اپناتے ہوئے ڈرایا دھمکایا گیا جب کہ باقی کو سائبر بلنگ کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔

سائبر بلنگ

سائبر بلنگ ہراسانی کی ہی ایک قسم ہے، جس کے تحت کسی بھی شخص کو، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، آن لائن ہراساں کیا جاتا ہے ۔ سائبر بلنگ کا مطلب الیکٹرانک کمیونی کیشن کے ذریعے کسی بھی شخص کو ایذا پہنچاناہے ۔ سائبر بلنگ کے کئی طریقے ہیں جیسے کہ کسی کا مذاق اُڑانا، بے جا تنقید کرنا، نجی گفتگو کو عام کرنا، تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنا، گروہ بندی کے ذریعے نفرت کے پیغامات یا کمنٹس لکھنا یا پھر کوئی نفرت یا دھمکی آمیز ٹرینڈ سیٹ کرنا۔ اس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع مثلاً فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

سائبر بلنگ سے متاثرہ شخص کی علامتیں

سائبر بلنگ کا شکار کوئی بھی شخص ہوسکتا ہے اور بعض اوقات وہ اس قدر ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ تباہ کن نتائج تک پہنچنے سے قبل ہی سائبر بلنگ کے حوالے سے اقدامات کرلیے جائیں۔ 

سب سے پہلے ہمیں سائبر بلنگ کا شکار بچوں اور نوجوانوں کےبارے میں جاننے کی ضرورت ہے تاکہ مناسب کاروائی کے ذریعے انھیں تباہ کن نتائج سے محفوظ کرلیا جائے۔ ایسے افراد کی چند مخصوص علامتیں ذیل میں درج ہیں۔

٭ انٹرنیٹ یا موبائل فون کے استعمال کے دوران جذباتی یاافسردہ نظر آنا۔

٭ اپنی سوشل میڈیا لائف کو اہل خانہ سے بھی حد درجہ محفوظ اور خفیہ رکھنا۔

٭ خاندان ، دوستوں اور دیگر سماجی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا۔

٭ اسکول میں دوستوں یا میل جول سے اجتناب کرنا۔

٭ گریڈز میں نمایاں طور پر کمی آنا۔

٭ مزاج، طرز عمل، نیند اور بھوک میںاچانک تبدیلی آجانا۔

٭ کمپیوٹر یا سیل فون کا استعمال ترک کردینا۔

٭ میسیج ، پیغام یا کوئی بھی ای میل دیکھ کر گھبراہٹ یا ہڑبڑاہٹ کا مظاہرہ کرنا۔

٭ انٹرنیٹ سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو کرنے سے پرہیز کرنا۔

والدین کا کردار

پرورش اور تربیت کے ساتھ ساتھ بچوں کو درپیش تمام مسائل کوحل کرنے کے حوالے سے بھی والدین کا کردار خاصا اہم ہوتا ہے۔ سائبر بلنگ کے تباہ کن نتائج اس وقت سامنے آتے ہیں جب والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ موجود ہو اور بچے اپنی بات انھیں بتانہ سکیں، یہی فاصلہ بلیک میلرز کا حوصلہ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ ہمارے یہاں اکثر گھرانوں میں والدین اپنی اولاد سے اتنا فاصلہ پیدا کر لیتے ہیں کہ بچے اپنی غلطی والدین کو بتاتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں کہ کہیں مدد ملنے کے بجائے وہ مزید مسائل سے دوچار نہ ہوجائیں۔ لہٰذا اپنے بچوں کوڈانٹنے، ڈرانے یا مارپیٹ کرنے کے بجائے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیں، ان کے ساتھ بات کریں اور مسائل کو تحمل سے سنیں۔ اس بات کو یقینی بنائیںکہ بچے آپ سے گفتگو کے دوران خود کو محفوظ محسوس کریں۔ اگر آپ کا بچہ سائبر بلنگ کا شکار ہے تو درج ذیل طریقہ کار اپنائیں۔

٭ جس اکاؤنٹ سے آپ کے بچے کو بلیک میل کیا جارہا ہے اسے فوری طور پر بلاک کردیں۔ اگر ممکن ہو تو تمام سوشل میڈیا پر بلیک میلر کے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کردیں اور سائبر کرائم ونگ کو رپورٹ کریں۔

٭ بچوں کے اسکول میں رابطہ کریں کیونکہ مختلف اسکولز بچوں کو آن لائن ہراسگی سےنمٹنے کے حوالے سے مشقیں کرواتے ہیں۔ یہ مشقیں بچوں کو سائبر بلنگ سے نمٹنے میں خاصی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

٭ آن لائن ہراسانی سے نمٹنے کے حوالے سے دنیا کے تمام ملکوں میں مختلف قوانین سرگرم عمل ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ تمام لوگ جو آن لائن ہراسانی کا شکارہیں، ان قوانین سے متعلق آگاہی حاصل کریں۔

آن لائن جرائم سے متعلق قوانین

پاکستان میں آن لائن جرائم کی روک تھام اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کے لیے 2016ء میںالیکٹرانک کرائمز ایکٹ پاس کیا گیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس قانون کے تحت غیر قانونی یا بغیر مرضی کے کسی کی معلومات یا ڈیٹا تک رسائی، نفرت انگیز مواد، الیکٹرانک جعل سازی، الیکٹرانک فراڈ، شاخت کی چوری، قانونی تقاضوں کے برخلاف سِم کارڈ جاری کرنے اور سائبر دہشت گردی کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، مثلاً:

٭ اگر کوئی شخص کسی کی شناخت کا ناجائز استعمال کرتا ہے یا کسی کا فیک فیس بک اکاؤنٹ بناتا ہے تو سائبر کرائم ایکٹ کے سیکشن 16 کے تحت ملزم کو تین سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔

٭ اسی طرح کسی شخص کسی کو آن لائن مانیٹر کرنے اور اس کی تصاویر کو اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے پرسیکشن 21کے تحت 3سال کی سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔

٭ اگر کوئی شخص کسی کی حرمت کو آن لائن نقصان پہنچائے توسیکشن 20کے تحت مجرم کوتین سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔

ان مخصوص جرائم کے علاوہ دیگر الیکٹرانک جرائم مثلاً ڈیٹا چوری کرنا، کسی کو غلط معلومات فراہم کرنا، کسی کی پرائیویسی میں دخل اندازی کرنا، غلط قسم کے میسجز بھیجنا، اسپیمنگ اور چائلڈ پورنوگرافی جیسے جرائم کے لیے بھی سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مجرم کو سزائیں سنائی جاتی ہیں۔

قوانین تو موجود ہیں لیکن ہمارے یہاں لوگوں میں ان قوانین سے متعلق آگہی وشعور نہیں پایا جاتا۔مناسب آگہی اور شعور سے نہ صرف بچوں کو سائبر بلنگ سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے بلکہ مجرم کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے۔