آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍شوال المکرم 1441ھ 29؍ مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

8 جون سے برطانیہ آنے والے مسافروں کیلئے قرنطینہ لازمی قرار، سفری پابندیاں کارگر ہوں گی، پریتی پٹیل

راچڈیل (ہارون مرزا )عالمی وباء کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کے لئے برطانیہ آنے والے ہر مسافر کیلئے 8جون سے 14دن کی سیلف آئسولیشن کو لازمی قرار دیدیا گیا ہے۔برطانوی سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کیلئے برطانیہ آنیوالے مسافروں پر سفری پابندیاں انتہائی کارگر ثابت ہوںگی۔ کورونا وائرس کے باعث اب تک لاکھوں افراد متاثر اور ہزاروں جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے برطانوی حکام نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں جس میں ائیر پورٹس پر خود کار سسٹم کے تحت چلنے والے کیمروں کی تنصیب سرفہرست ہے جس کے ذریعہ انسانی درجہ حرارت کو ناپ کر کورونا سے متاثرین مریضوں کی پہچان کی جاسکتی ہے۔ برطانیہ کے لیے یورپی ‘ ایشیائی اور عرب ممالک سمیت دنیا بھر سے سفر کرنیوالے مسافروں کو 8جون سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔برطانیہ پہنچنے والے مسافروں کو 14دن کیلئے خود کو دوسروں سے الگ تھلگ رکھنے کو یقینی بنانے کیلئے پولیس اور دیگر اداروں سے معاونت حاصل کی جا سکتی ہے اس سلسلہ میں قانون کی خلاف ورزی کرنےوالوں کو بھاری جرمانوں کا سامنا کرناپڑے گا۔برطانوی سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کیلئے برطانیہ آنیوالے مسافروں پر سفری پابندیاں انتہائی کارگر ثابت ہوںگی اور برطانیہ میں کورونا وائرس کو پھیلنے کا موقع نہیں ملے گا ہم بلاتفریق تمام مسافروں کیلئے ان اقدامات پر عمل کرانے کو یقینی بنائیں گے 8جون سے 14یوم کے لیے سیلف آئسولیشن کی پالیسی نافذ العمل ہوگی جس کے لیے حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی برطانوی قوانین کو چیلنج کرنیوالے کو بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر جنگ لڑنیوالوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وائرس کے خلاف جاری جدوجہد میں ابتک برطانیہ کو جو کامیابی حاصل ہوئی ہے ا س کی حفاظت کی جائے گی اور وائرس کا پھیلائو روکنے کیلئے سخت اقدامات جاری رہیں گے دوسرے ممالک سے برطانیہ پہنچنے والے مسافروں کی سیلف آئسولیشن سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میںآسانی رہے گی کہ وہ انفیکشن کا شکار ہیں یا نہیں اگر ہیں تو ان کا بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے مختلف ذرائع سے برطانیہ آنیوالے افراد کیلئے سفری پابندیوں پر حکومتی پارٹی کو کڑی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم حکومت اپنے اقدامات پر عمل درآمد کرانے کیلئے پرعزم ہے ۔سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل کے اعلان کے بعد فرانس کی طرف سے برطانیہ سے آنیوالے مسافروں کیلئے بھی ایسے ہی اقدامات کا اعلان کیا جا رہا ہے فرانسیسی وزارت داخلہ ‘ اور آئرلینڈ کے وزیر صحت سائمن ہیریس نے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ سفارتی سطح پر معاملات کو مل بیٹھ کر بہتربنایا جا سکتا ہے ۔ برطانوی سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ برطانیہ کو کورونا وائرس سے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کیلئے تمام اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں جس پر برطانیہ آنیوالے تمام مسافروں کیلئے سیلف آئسولیشن بھی ضروری قرار دی گئی ہے قواعدوضوابط توڑنے والے مسافروں کو 1ہزار پائونڈ تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بار بار خلاف ورزی کرنیوالوں کے جرمانوں میں توسیع کی جا سکتی ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ لاری ڈرائیوروں ‘ موسمی پھل چننے والے کارکنوں کیلئے اس حوالے سے قوانین میں کچھ نرمی رکھی گئی ہے حکومت کے اس فیصلے پر بعض وزرا ‘ سیاسی رہنمائوں ‘شعبہ ہوا بازی ‘ سیاحت کے شعبہ جات ‘ کاروباری برادری ‘ وزیٹرز اور بعض یورپی ممالک کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار سامنے آیا ہے تاہم برطانوی حکومت اپنے فیصلوں پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرانے کیلئے پرعزم ہے سیکرٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا بیرون ملک سے برطانیہ میں داخلہ روکنے کیلئے قرنطینہ کی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے برٹش چیمبر آف کامرس کی طرف سے بھی مذکورہ پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے اس عمل سے بین الاقوامی کاروباری برادری اور سرمایہ داروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے گی ‘ برطانوی حکومت کی طرف سے شہریوں کو آپس میں معاشرتی فاصلہ برقرار رکھنے ‘ چہرے پر ماسک کے استعمال یقینی بنانے کیلئے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ برطانیہ میں اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اس سلسلہ میں 10ملین اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹس خریدی جا رہی ہیں ٹیسٹ میں کلیئر ہونیوالوں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیںگے۔

یورپ سے سے مزید