آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاک ڈائون کے د وران دماغی صحت پر بچوں کیلئے چائلڈ لائن کے ہر پانچ منٹ بعد مشاورتی سیشن

لندن (پی اے) کورونا وائرس لاک ڈائون کے دوران اپنی دماغی صحت اور بہتری کے بارے میں تشویش کے شکار نوجوانوں کیلئے چائلڈ لائن اوسطاً ہر پانچ منٹ بعد ایک مشاورتی سیشن منعقد کر رہی ہے۔23 مارچ سے شروع ہونے والے لاک ڈائون سے 10 مئی تک کے دوران دماغی صحت پر تشویش کا سامنا کرنے والے بچوں کیلئے تقریباً 16644 کونسلنگ سیشن کئے گئے ۔این ایس پی سی سی نے جو کہ چائلڈ لائن چلاتی ہے، کہا کہ یہ تعداد سات ہفتوں کے دوران مجموعی طور پر منعقدہ 30868مشاورتی سیشنز کے مقابلے میں نصف سے زائد ہیں۔ یہ تقریباً 399سیشنز یومیہ یا تقریباً ہر پانچ منٹ میں ایک سیشن کے مساوی ہے۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2018/19 میں برطانیہ میں دماغی صحت کا سامنا کرنے والے بچوں کیلئے مجموعی طور پر 71283سیشنز کرائے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لاک ڈائون کے دوران ہونے والے مجموعی سیشنز کو پیش نظر رکھا جائے تو سات ہفتوں کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی (23فیصد) مینٹل ہیلتھ کونسلنگ سیشنز منعقد ہوئے۔ لاک ڈائون کے دوران تقریباً 36فیصد سیشنز دماغی یا جذباتی صحت سے متعلق تھے، 13فیصد کا تعلق خود کشی کی سوچ اور احساسات، 12 فیصد فیملی ریلیشن شپس،6 فیصد خود کو نقصان پہنچانے اور 4فیصد سیکس، ریلیشن شپس اور بلوغت پر مشاورت کیلئے منعقد کئے گئے۔ لاک ڈائون کے دوران 120 سیشنز روزانہ کورونا وائرس سے متعلقہ تشویش پر ہوئے جن کی مجموعی تعداد5880 سیشنز تھی جو کہ مجموعی سیشنز کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ 10 جنوری کو جب چائلڈ لائن نے رابطے شروع کئے پہلی بار ایک بچہ نے کورونا وائرس پر تشویش کا اظہار کیا، اس وقت سے لے کر 10 مئی تک مجموعی طور پر 6938 سیشنز ہوئے جس میں کورونا وائرس کے بارے میں بتایا گیا۔ این ایس پی سی سی نے مزید کہا کہ چائلڈ لائن کا ایک آن لائن ٹول ’’کام زون‘‘ جو کہ نوجوانوں کو اپنے جذبات پر قابو پانے میں معاونت کرتا ہے، لاک ڈائون کے دوران اس کے استعمال میں چار گنا اضافہ ہوگیا۔ مارچ کے آغاز میں فی ہفتہ 2400 دفعہ اس تک رسائی حاصل کی گئی جس کے باعث اپریل میں دیکھے گئے پیجز میں 10000 فی ہفتہ کا اضافہ ہو گیا۔ چائلڈ لائن کی بانی ڈیم ایستھر رینٹزین کا کہنا تھا کہ بچوں اور فیملیز کو کورونا وائرس کی وبا کے باعث غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے اور اگلے چند ماہ صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ایک 18 سالہ لڑکی نے چائلڈ لائن کو بتایا کہ ’’میں کورونا وائرس کے بارے میں بہت خوفزدہ ہوں، مجھے اس وقت اپنے خوف پر قابو پانا مشکل لگ رہا ہے اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ اس وبا سے دنیا خاتمہ کی طرف جا رہی ہے‘‘۔
یورپ سے سے مزید