آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مملکت خداداد پاکستان کی یہ بڑی بدقسمتی رہی ہے کہ اُسے اپنے اندر ونی اور بیرونی دشمنوں کی وجہ سے بہت بڑے بڑے نقصانات اُٹھانے پڑے ہیں۔قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت ہے یا سقوط ڈھاکہ، کراچی میں ہونے والے بم دھماکے ہوں یا واہگہ بارڈر پر ہونے والا بم دھماکا،پشاور کے آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہو یا پھر لاہور کے گلشن اقبال پارک کا سانحہ ، ہمارا دشمن مسلسل ہماری تاک میں ہے۔ جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہا ں امن و امان کی صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے عین اس وقت حملہ کر کے پورے ملک کی فضا کو سوگوار کر دیا جاتا ہے۔ہم بظاہر سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اب حالات ٹھیک ہیں حالانکہ حقیقت میں کچھ ٹھیک نہیں ہوتا۔ لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ہونیوالا خوفناک واقعہ بھی اسکی تائید کرتا ہے کہ سب کچھ بالکل ٹھیک نہیں ہے۔یوں تو ہم ہر وقت جمہوریت کا رونا روتے ہیں مگر ہر مشکل وقت میں پاک فوج کو آگے کردیتے ہیں ،کیا سرحدوں کی حفاطت کرنے والے جوانوں کو ہی ملک کے کونے کونے کا نظام سنبھالنا ہے ؟ ہماری فوج پہلے ہی آپریشن ضرب عضب میں مصروف عمل ہے اور بڑی کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے ۔ اس ضمن میں ہزاروں دہشت گردوں کو نہ صرف ٹھکانے لگاد یا گیا ہے بلکہ ان کی کمر بھی توڑ دی گئی ہے، مگر حیرت ہے ہماری حکومت اور محکمۂ پولیس پرکہ جن کے کانوں

پر کسی بڑے سے بڑے واقعہ کے بعد بھی جُوں نہیں رینگتی۔ ہر چیز فوج کے کاندھوں پر ڈال کر ہم خود کو اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ سمجھنے لگتے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹنے کیساتھ ساتھ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی فوج ہی پیش پیش ہوتی ہے وہ خواہ زلزلے کی تباہ کاریا ں ہوں یا سیلاب کی بربادیاں، ہر جگہ پاک فوج ہی نظر آتی ہے جس کے باعث عوام کے ذہنوں میں متعدد سوالات جنم لینے لگے ہیں کہ آخر یہ سب کیا ہورہا ہے۔ باقی سب واقعات کو چھوڑیں، آرمی پبلک اسکول پشاور میں گزرنے والی قیامت کے بعد جس عزم اور جن عملی اقدامات کا اظہار کیا گیا تھا، وہ بھی آج تک تشنہ تکمیل ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر بھی پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو سکا۔لاہور میں ہونیوالے اس افسوس ناک واقعے کے بعد اب لوگ سوال کرتے ہیں ۔ قوم میٹرو بس اوراورنج ٹرین پر خرچ ہونے والے اربوں روپوں کے ضیاع پر افسوس کررہی ہے اور یہ سوال کر رہی ہے کہ اربوں روپیہ جو میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں کے منصوبوں پر خرچ ہورہا ہے وہ عوام کی سیکورٹی پر کیوں خرچ نہیں ہو سکتا۔کیا تمام پبلک مقامات پر جیمرز اور اسکینرز لگا کر عوام کی زندگیوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی جاسکتی؟ کیا حکومت یہ نہیں کر سکتی کہ ہر تھانے کی حدود کے شروع میں اسکینرز اور جیمرز لگا کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کس تھانے کی حدود سے دہشت گرد دوسرے تھانے کی حدود میں داخل ہوا؟ اورلاپروئی پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو فوری معطلی کی سزا دی جائے ۔ اس طرح نہ صرف دہشت گردی بلکہ چوری ، ڈکیتی، اغواء برائے تاوان، خواتین اور بچے اور بچیوں کیساتھ ہونے والے جرائم میں بھی کمی آ جائے گی مگر اسکے لئے ضرورت عمل کی ہے دکھاوے کی نہیں کیونکہ عمل ہی وہ قدم ہے جس سے نہ صرف زندگی جنت اور جہنم بنتی ہے بلکہ عوام کی زندگی بھی دہشت گردی کی فضا سے سکون اور چین کی ٹھنڈی ہوا کی طرف لائی جا سکتی ہے۔ ملک کو ایسا پرامن خطہ بنایا جا سکتا ہے جہاں عوام اپنے حکمرانوں پر اعتماد کرتے ہوئے نہ صرف سیر و تفریح کر یں بلکہ میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں میں آزادانہ اوربلا خوف و خطر گھوم سکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں