آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پچھلے دنوں مجھے اپنے رنگ کے حوالے سے بڑی فکر لاحق رہی، کسی نے بتایا کہ گورا گورا لگ رہا ہے۔ فکر مجھے اس بات کی تھی کہ جس نے مجھے اس حال میں دیکھا تھا اسے پتا نہیں تھا کہ میں ایک ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ سے آرہا ہوں اور میک اپ جوں کا توں ہے۔ ساری رات اسی سوچ میں گزری کہ آخر کوئی تو ایسا طریقہ ہوگا جس سے میں مستقل گوروں کی فہرست میں شامل ہو جائوں۔ بات چونکہ بہت پرائیویٹ تھی اس لیے میں نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ کل شہر کے سب سے اچھے پارلر میں جائوں گا اور وہاں سے ان شاء اللہ کچھ بن کے ہی نکلوں گا۔ یہ میرا پہلا تجربہ تھا تاہم مجھے یقین تھا کہ میرا بے پناہ اعتماد میرا ساتھ دے گا اور میں کامیاب لوٹوں گا۔ پارلر کے اندر قدم رکھتے ہی دو نازک اندام حسینائیں مسکراہٹوں کے پھول برساتی میری طرف لپکیں۔ ایک کمبخت نے تو نری بنیان پہن رکھی تھی، میں بوکھلا کر الٹے قدموں واپس بھاگا، یقیناً میں غلطی سے کسی زنانہ پارلر میں گھس آیا تھا۔ تاہم میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب حسینائوں کی جوڑی نے مجھے باور کرایا کہ یہ مردانہ بیوٹی پارلر ہی ہے۔ میں نے جھجکتے ہوئے ان سے پوچھا کہ ’’باجی پھر آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ ایک نے گھور کر میری طرف دیکھا، پھر سنبھل کر مسکرائی ’’ہم باجی نہیں باجے ہیں‘‘۔ بخدا طبیعت یکدم مکدر سی ہو گئی۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ مجھے تو اعتماد کا مظاہرہ کرنا ہے تاکہ ان کو شک نہ پڑے کہ میں پہلی دفعہ یہاں آیا ہوں۔ میں نے لاپروائی سے ’باجے‘ کی طرف دیکھا ’’لگتا ہے آپ یہاں نئے آئے ہیں، پہلے آپ کو کبھی نہیں دیکھا‘‘۔ اب کی بار دوسرا باجا بولا ’’ڈیئر ہم دونوں اس بیوٹی پارلر کے مالک ہیں‘‘۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی تاہم اعتماد کا دامن پھر بھی نہیں چھوڑا اور کنپٹی کھجاتے ہوئے کہا ’’آئی تھنک! وہ دوسرا پارلر تھا، خیر… اب آپ کو بھی آزما لیتے ہیں‘‘۔ پہلا باجا بولا ’’تھینک یو سر… کیا کروائیں گے؟‘‘ میں نے اطمینان سے جواب دیا ’’جی مجھے رنگ گورا کروانا ہے‘‘۔ میری بات سنتے ہی دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مجھے اندازہ ہوگیا کہ مجھ سے کوئی فلک شگاف بونگی سرزد ہو گئی ہے۔ جلدی سے ذہن پر زور دیا کہ رنگ گورا کروانے والے طریقوں کو کیا کہتے ہیں؟ محلے کے بیوٹی پارلر کے باہر لکھے جملے دماغ میں لانے کی کوشش کی اور پھر ایک نام ذہن میں آہی گیا، میں نے پُراعتماد مسکراہٹ کے ساتھ کہا’مجھے ویکس کروانی ہے‘‘۔ میرا جملہ سنتے ہی دونوں پہلے حیران ہوئے، پھر خوشی سے نہال ہو گئے، ’’اوہ گاڈ! آپ تو ہماری ہی فیملی کے نکلے‘‘۔ میرا ماتھا ٹھنکا ’’کک …کیا مطلب؟‘‘۔ ’’مطلب یہ کہ بہت دنوں بعد کوئی Maleویکس کروانے آیا ہے‘‘ یہ سن کر مجھے یہ تو سمجھ نہ آئی کہ ویکس کیا ہوتی ہے تاہم اتنا ضرور اندازہ ہوگیا کہ یہ کام مردوں والا نہیں، میں نے جلدی سے پینترا بدلا، کچھ مزید سوچا اور قدرے غصے سے کہا ’’آپ لوگ دھیان سے بات کیوں نہیں سنتے، میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے چہرہ بلیچ کروانا ہے‘‘۔ دونوں پھر ہکابکا رہ گئے۔ ’’آپ ایک ہی دفعہ آپریشن کیوں نہیں کروا لیتے‘‘ ایک نے تجویز دی۔ ’’مجھے کھٹکا سا ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے۔ میں نے مزید بات بڑھانا مناسب نہیں سمجھا اور گہری سانس لے کر کہا ’’آپ چھوڑیے سب باتیں، مجھے اچھی طرح پتا ہے میری ضرورت کیا ہے، میرا ’پیڈی کیور‘ کر دیجئے۔ ’’آہا…‘‘ دوسرا باجا جھوم کر بولا ’’اسٹارٹ وہیں سے لیں گے‘‘۔ میں نے کندھے اچکائے ’’اوکے تو شروع کیجئے‘‘۔ میرے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ انہوں نے مجھے ایک آرام دہ کرسی پر بٹھایا اور میرے پائوں کے نیچے ایک ٹب سا لاکر رکھ دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ رنگ گورا کرنے کا کون سا طریقہ ہے، کچھ تذبذب ہوا تو احتیاطاً بتا دیا کہ ’’بھائی صاحب میں نے چہرے کا پیڈی کیور کرنا ہے؟‘‘یہ جملہ جونہی میرے منہ سے نکلا اچانک ایک گہری خاموشی چھا گئی، کچھ دیر موت کا سناٹا رہا، پھر ایک باجے کی آواز سنائی دی ’’آپ رنگ گورا کروانے آئے ہیں؟‘‘ ’’نہیں تیری پینٹ نوں تروپا لان آیاں‘‘ میں غصے سے چلایا ’’ظاہری بات ہے پارلر آیا ہوں تو رنگ ہی گورا کروانا ہے‘‘۔ دونوں نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ایک بولا ’’سر! فیشل کروائیں گے یا اسکن پالش؟‘‘۔ ’’لاحول ولا قوۃ… پالش کیوں کروائوں، میں کوئی بوٹ ہوں؟ وہ دوسرا کیا نام بتایا ہے… فیشل… ہاں تم منہ والا فیشل کر دو بس‘‘۔ اس کی آواز آئی ’’سر وہ منہ پر ہی ہوتا ہے۔ یہ بتائیں ہربل فیشل کرنا ہے یا امپورٹڈ؟‘‘ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ’’ابے میں نے رنگ گورا کروانا ہے، جو مرضی کر دو‘‘۔ دونوں نے تیزی سے کچھ کریمیں نکالیں، مجھے کرسی پر بٹھایا اور حکم دیا کہ آنکھیں بند کر لوں۔ میں نے حکم کی تعمیل کی، اس دوران مجھے صرف اتنا پتا ہے کہ میرے چہرے پر کیا کیا الا بلا لگایا جاتا رہا۔ اِس کے بعد اُن میں سے ایک نے میری کرسی کے پیچھے کھڑے ہوکر میرے چہرے کو ملنا شروع کر دیا، عجیب سی الجھن ہونے لگی، پہلے تو میرا خیال تھا کہ ایک منٹ میں بات ختم ہو جائے گی، لیکن جب دس منٹ ہونے کو آئے تو مجھے دال میں کالا نظر آنے لگا۔ بدبختوں نے میری آنکھیں بھی بند کرا رکھی تھیں۔ میں نے انتہائی چالاکی سے تھوڑی سی آنکھ کھول لی۔ سامنے شیشے پر نظر پڑتے ہی میرے ہاتھوں پیروں سے گویا جان ہی نکل گئی۔ سامنے کوئی بھوت بیٹھا تھا جس کا سارا چہرہ آٹے کی طرح سفید تھا۔ میرے حلق سے ایک زوردار چیخ نکلی۔ قریب تھا کہ میں بے ہوش ہو جاتا، عین اسی لمحے مجھے دوسرے باجے نے آکر سنبھالا اور پندرہ منٹ طویل دلاسے کے بعد سمجھایا کہ ’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘۔ میں نے فیشل تو کرا لیا لیکن حرام ہے جو میرے رنگ پر کوئی اثر پڑا ہو۔ اس سے زیادہ اچھا رزلٹ تو ’لومڑ سوپ‘ دے جاتا ہے۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب میں کبھی پارلر نہیں جائوں گا۔ اگر آپ کے ذہن میں کسی اچھے پارلر کا نام ہے تو ضرور بتائیے تاکہ میں ایڈریس نوٹ کرلوں اور وہاں کبھی نہ جائوں!