آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا کی عالمی وبا کے معیشت پر اثرات کا تو ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہے لیکن اس کے سیاست پر اثرات کا ابھی تک دنیا درست اندازہ نہیں لگا رہی ہے۔ کورونا کے عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ ملکوں اور قوموں کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سیاسی اور جمہوری حقوق کے لیے تاریخ انسانی کا ایک عظیم عہد یہاں اختتام پذیر ہو گیا ہے، جو 19ویں صدی کے آخر سے شروع ہوا تھا۔ اس عہد میں عالمی سیاست میں ارتقا کا ایک تسلسل تھا، جو اب برقرار نہیں رہا۔ کورونا کے بعد ایک نیا عہد شروع ہو گا لیکن اس کا ختم ہونے والے عہد سے کوئی تسلسل یا تعلق (لنک) ہو گا یا نہیں، اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

اجتماع سیاسی عمل کی بنیادی روح ہے، جس پر کورونا کی وجہ سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس پابندی سے دنیا بھر میں سیاست اور سیاسی عمل کمزور ہوا ہے۔ سیاسی اجتماعات اور مظاہروں کو روکنے کے لیے دنیا کے طاقتور حلقوں نے بے رحمانہ ہتھکنڈے اختیار کیے اور طاقت کا بھی بے دریغ استعمال کیا لیکن وہ اسے نہ روک سکے۔ سیاست مخالف حلقوں کے لیے موجودہ صورتحال کسی ’’رحمت‘‘ سے کم نہیں۔ انہیں سیاست اور سیاسی عمل کو روکنے کے لیے ایسے سازگار حالات تاریخ میں کبھی نہیں ملے۔ اجتماعات چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں، ان کے اثرات سیاسی ہوتے ہیں۔ مذہبی اجتماعات کے بھی سیاسی اثرات ہوتے ہیں۔ اگر کسی ایک جگہ پر لاکھوں افراد مذہبی عقائد کی وجہ سے جمع ہوں تو بھی اس کا ان قوتوں کے لیے کوئی سیاسی پیغام ہوتا ہے، جو دنیا کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں۔ ہر اجتماع عوام کی طاقت اور اتحاد کا مظہر ہوتا ہے۔ اگر اجتماع جدید سیاسی شعور اور حقوق کے حصول کے لیے ہو تو اس کے بہت زیادہ سیاسی اثرات ہوتے ہیں۔

اس وقت پوری دنیا میں کہیں سیاسی اجتماعات، مظاہرے، جلسوں اور جلوسوں کا انعقاد نہیں ہو رہا۔ کورونا سے پہلے کے عہد میں سیاست مخالف قوتوں نے بھی سیاست کا راستہ اختیار کیا ہوا تھا اور عوام اور مظلوم طبقات کے لیے جدوجہد کرنے والے سیاسی گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے اپنے رجعتی اور عوام دشمن سیاسی گروہ بنا لیے تھے اور ان سے عوامی طاقت کا مظاہرہ کراتے تھے۔ اب یہ کھیل نہیں رہا۔ سیاست مخالف قوتوں کو اب عالمی سطح پر بھی اور ملکوں کے اندر بھی اپنی من مانی کا موقع میسر آگیا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں، حالات کو اپنے مفادات کے مطابق موڑ دیں۔ فوری طور پر انہیں مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس صورتحال کے خطرناک سیاسی اثرات کچھ دنوں میں عالمی سطح پر اور ملکوں کے اندر نمودار ہونا شروع ہو جائیں گے۔

جب سے کورونا کی وجہ سے اجتماعات پر دنیا بھر میں پابندی عائد ہوئی ہے، اس وقت سے اب تک صرف امریکا کے شہر منی پولس (Minineapolis) میں سیاہ فام باشندوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ وہ ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائڈ کی پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ امریکا میں کورونا نے تباہی مچادی ہے۔ تقریباً 18لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ ہلا ک ہو چکے ہیں۔ اس تباہی کے باوجود ہزاروں سیاہ فام باشندے نہ صرف ایک ساتھ جمع ہوئے بلکہ غصے میں پُرتشدد کارروائیاں بھی کیں۔ ان حالات میں سیاسی طاقت کا یہ مظاہرہ ان قوتوں کے لیے انتباہ ہے جو سیاسی عمل رکنے پر خوش ہیں لیکن ان سیاہ فام باشندوں کا احتجاج کچھ اور ہوتا، اگر کورونا نہ ہوتا۔ شاید پورے ملک میں سیاہ فام باشندے احتجاج کر رہے ہوتے اور دیگر ترقی پسند اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کا ساتھ دے رہی ہوتیں۔ ان حالات میں ان کا احتجاج اس امر کا اظہار ہے کہ لوگ مجبوراً نکل بھی سکتے ہیں مگر ان کی مجموعی سیاسی حمایت ویسی نہیں ہو گی، جیسی عام حالات میں ہو سکتی ہے۔ کورونا نے انسان کی سیاسی جدوجہد کے عمل کو نہ صرف روک دیا ہے بلکہ اسے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

پاکستان میں سیاست مخالف قوتوں کے لیے بہت آئیڈیل حالات ہیں۔ انہیں نہ تو مارشل لا لگانا پڑا ہے اور نہ ہی سیاسی عمل کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا ہے۔ کورونا کے بعد پاکستان میں اسمبلیوں کے کافی عرصے تک اجلاس منعقد نہیں ہو سکے ہیں۔ اسمبلی کا مطلب منتخب افراد کا ملنا ہے۔ وہ اجلاس منعقد نہیں کر رہے ہیں۔ سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کی معمول کی سرگرمیاں بھی ختم ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے سیاست مخالف قوتوں پر دباؤ رہتا تھا۔ مہنگائی اور دیگر مسائل پر کورونا سے پہلے جو سیاسی بے چینی تھی، اس کے سیاسی تحریک میں تبدیل ہونے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بعض قوم پرست حلقوں کا جو احتجاج مسلسل جاری تھا، وہ بھی دم توڑ چکا ہے۔ مختلف گروہ اپنے حقوق کے لیے جو تحریکیں چلا رہے تھے، وہ بھی چپ سادھ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس طرح ملک میں کہیں بھی سیاسی مزاحمت نہیں ہے۔ ملک کے حکمرانوں کو اب جو بھی کرنا ہے، وہ کر سکتے ہیں۔ سیاست اور سیاسی عمل کی بحالی میں ابھی بہت وقت لگے گا۔