آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل کی گرفتاری آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف، علی حیدر

لاہور / ملتان (نمائندگان جنگ) ایڈیٹر انچیف جنگ وجیو گروپ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کیخلاف لاہور اور ملتان سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور احتجاجی کیمپوں کا سلسلہ اتوار کے روز بارشوں کے باوجود بھی جاری رہا۔ لاہور میں احتجاجی کیمپ سے جنگ کے شاہین قریشی، سول سوسائٹی کے عبداللہ ملک، جنگ اور جیو گروپ کے کارکنوں اور ملازمین کے علاوہ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ یرغمال بنایا گیا ہے،ان پر نہ تو کوئی کیس ہے اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر ہے، ان کی گرفتاری میڈیا ہائوسز پر پابندی لگانے کا منصوبہ ہے، ملتان میں جنگ آفس کے سامنے کارکنوں نے احتجاجی کیمپ لگایا اور مظاہرہ کیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ایم پی اے علی حیدر گیلانی نے کہا میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے، میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا، جہاں صحافی برادری کا پسینہ گرے گا وہاں پیپلزپارٹی اپنا خون بہائے گی، انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ میر شکیل الر حمٰن کی ناجائز گرفتاری کا نوٹس لیا جائے اور انہیں رہا کیا جائے۔ میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کرنا ملک کے صحافتی اداروں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے جس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، ملک کے چوتھے ستون کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی میر شکیل الر حمٰن کی ناجائز حراست کی شدید مذمت کرتی ہے۔ زمین کے لین دین پر سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، یہ نیب کا کیس نہیں بنتا۔ حکومت اپوزیشن اور میڈیاکو کنٹرول کرنے کیلئے نیب کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ نیب کو حکومتی رہنماؤں کی کرپشن نظر نہیں آتی، چیئرمین نیب نے خود بیان دیا تھا کہ اگر ہم حکومتی رہنماوں کے خلاف کارروائی شروع کردیں تو حکومت نہیں چلے گی، میر شکیل الر حمٰن کے خلاف دیوانی مقدمہ ہے جس سے نیب کا کوئی تعلق نہیں، انہوں نے مزید کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں اور نیب کا سامنا کیا ہے، ہم نہیں ڈریں گے، اب بھی آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور فریال تالپور نیب میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مظاہرے سے خطاب میں ممبر فیڈرل ایگزیکٹو کونسل پی ایف یو جے عبدالرؤف مان نے کہا کہ پوری دنیا جان چکی ہے میر شکیل الر حمٰن ضمیر کے قیدی ہیں، حکومت نے ایک ادارے سے گٹھ جوڑ کرکے آزادی صحافت کا گلا گھونٹا، جب پاکستان کی صحافت کی تاریخ لکھی جائے گی میر شکیل الرحمن آزادی صحافت کے میر کارواں ہوں گے۔ مظاہرے میں جنرل سیکرٹری قومی تاجر اتحاد جنوبی پنجاب صدیق تھیہم، ملک ممتاز احمد، سعید پپو، حاجی محمد ریاض، محمد عمران، ظفر آہیر، نثار اعوان، مرزا احتشام بیگ، ملک شہادت حسین، چوہدری مسعود، جعفر شاہ،کاشف صدیقی، اکرام، کمال ایوب صدیقی، عظیم، طارق بھٹہ، خالد سمیت دیگر کارکنوں نے شرکت کی۔ادھر پریس کلب کمالیہ میں بھی میر شکیل الر حمٰن کی گرفتاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔جس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف)،مرکزی انجمن تاجران، وکلاء سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔
یورپ سے سے مزید