آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل 2جون 2020کو منعقدہ وفاقی کابینہ اجلاس کے فیصلوں کا جائزہ یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے قیام کے وقت عام لوگوں کی حالت بہتر بنانے کے جس عزم کا اظہار کیا تھا، وہ عزم ورثے میں ملنے والی معیشت کی ناگفتہ بہ کیفیت، مبینہ مصنوعی بحرانوں اور مشکل فیصلوں کے باوجود نہ صرف قائم ہے بلکہ یکے بعد دیگرے آنے والے فیصلوں کا مقصد دولت کے بہائو کا رخ امیر سے غریب کی طرف کرنا ہے۔ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے، جو عہدہ سنبھالنے کے وقت سے خود بھی کفایت شعاری کی روش پر قائم ہیں اور دوسروں کو بھی اس باب میں ہدایات دیتے رہے ہیں، یہ بات پھر دہرائی کہ غیرضروری اخراجات کم کرتے ہوئے ممکنہ حد تک کفایت شعاری اپنائی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 1985سے اب تک تمام شوگر ملز کا آڈٹ کیا جائے گا اور بدعنوانی کے کیسز قومی احتساب بیورو (نیب) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجے جائیں گے۔ اجلاس میں دی گئی ایک بریفنگ کے بعد وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شوگر انکوائری کے ذریعے سامنے آنے والے حقائق اور وجوہ کی روشنی میں نظام میں موجود خامیوں کی درستی اور اصلاح کے اقدامات کئے جائیں گے۔ امر واقع یہ ہے کہ عشروں سے مختلف حکومتوں کے ادوار میں کبھی گندم، کبھی چینی، کبھی بناسپتی گھی اور کبھی کسی اور چیز کی مصنوعی قلت کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن کے اسباب کا درست تعین کر کے ہی قلت و مہنگائی کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے کابینہ کے بعض ارکان نے گندم اسیکنڈل کی رپورٹ کا فارنزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔ دراصل یہ امور احتساب اور ملکی نظم و نسق کا ہی حصہ ہیں مگر وطن عزیز میں بعض خرابیاں اتنی دور دور اور گہرائی تک پھیل چکی ہیں کہ سدباب کیلئے سب کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں طریق کار کے حوالے سے بعض حلقوں کے جو بھی تحفظات انہیں سامنے رکھ کر شفافیت و اصلاح احوال کی تدابیر پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نے اس باب میں کئی امور سےمتعلق کمیٹیاں بھی قائم کی ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات حکومت کی طرف سے نرخ کم کئے جانے کے بعد بازار سے غائب ہو جائیں یا مہنگی فروخت ہوں، گندم اور چینی کی قیمتیں مختلف حوالوں سے بڑھائی جاتی رہیں، بجلی کی فراہمی میں بلاجواز تعطل کی شکایات کے باوجود بھاری بل آتے رہیںاور ضروری اشیاء کے دام بڑھتے محسوس ہوں تو مذکورہ اجلاس کی طرح وفاقی کابینہ کو نہ صرف ان کا نوٹس لینا چاہئے بلکہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایسا مربوط جامع نظام وضع کرنا چاہئے جس سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ دراصل ضروری اشیاء کی قیمتوں سمیت کئی امور کا تعلق ملک کے مختلف حصوں میں طلب اور رسد کے نظام پر نظر رکھنے اور ان میں توازن پیدا کرنے سے ہے جبکہ برسوں سے جاری رشوت اور بدعنوانی کی لعنت میں مبتلا افراد کو احتساب کا خوف نہ ہو تو خرابیوں اور نقصانات کا حجم کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ناگہانی واقعات اور قدرتی آفات بھی ایسا عنصر ہیں جن کیلئے ضروری تیاریاں حکومتی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں۔ حالیہ ٹڈی دل حملے کے حوالے سے وزیراعظم نے درست طور پر دوست ملک چین کے تعاون، پاک فوج اور مختلف اداروںکے کردارکو سراہا مگر اس باب میں ملکی اور ریجنل سطح کا ایک مستقل انتظام ضروری ہے۔ کورونا وائرس کے غیر معمولی حالات میں تمام وسائل کا رخ فوری طور پر حفاظتی تدابیر اور امدادی سرگرمیوں کی طرح موڑنا ضروری تھا مگر پسے ہوئے طبقے کی جانوں کو ’’کورونا وبا‘‘ اور معیشت کے جمود دونوں سے خطرہ لاحق ہے۔ اس باب میں اقدامات کرنے کے ساتھ اصلاحاتی ایجنڈا بھی جاری رکھا جانا چاہئے۔