آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سگریٹوں کی تیاری پر ایڈوانس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بارے غلط بیانی

پشاور (وقائع نگار)بونیر، صوابی، شیر گڑھ اور یار حسین سے تعلق رکھنے والے تمباکو کے کاشتکاروں نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سگریٹوں کی تیاری پر ایڈوانس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائے جانے کے حوالے سے حکومت اور میڈیا کے کچھ حصوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ جنرل سیکرٹری بونیرکاشتکار ایسوسی ایشن انور خان نے کہا کہ کاشتکار 10 روپے/ کلو گرام کے حساب ایڈوانس ایف ای ڈی ادا نہیں کرتے۔ یہ رقم مینوفیکچررز کو ادا کرنا ہوتی ہے جو گرین لیف تھریشینگ کی سٹیج پر لاگو ہوتا ہے۔مینوفیکچررز کو تمباکو بیچنے کے بعد کسان بری الذمہ ہوجاتا ہے، جس کے بعد مینوفیکچررز، تمباکو کی تیاری کے لئے جی ایل ٹی کے عمل میں داخل ہوجاتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں کسان رہنماؤں نے کہا کہ سگریٹ مینوفیکچررز پر ایڈوانس ایف ای ڈی میں اضافے کو واپس لینے کے بعد، غیر قانونی سگریٹ بنانے والوں کی جانب سے ٹیکس چوری میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ان کی فروخت میں اضافہ ہو، جیسا کہ ہم گزشتہ سال دیکھ چکے ہیں۔ عبد السلام باچا نے کہا کہ ہم بطور کسان سگریٹ تیار نہیں کرتے ہیں، پھر ہم پروسیسنگ کے لئے جی ایل ٹی میں کیوں جائیں گے؟ کاشتکاروں کا یہ مخصوص گروہ جو ناجائز سگریٹ مینوفیکچررز کے مؤقف کی حمایت کر رہا ہے در حقیقت کسی جرم کی حمایت کر رہا ہے اور یہ جرم ٹیکس چوری کا ہے جوکہ اگر حکومت کے پاس قومی خزانہ میں جائے گی تو ملک کی بہتری کے لئے استعمال ہوگی۔
پشاور سے مزید