آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا بھر میں قہر مچانے والی وبا کورونا اپنی پوری شدت سے پاکستان پر حملہ آور ہے، اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ تین روز میں متواتر ہزاروں کیس سامنے آنے کے بعد وطن عزیز میں کورونا متاثرین کی تعداد چین سے بھی بڑھ گئی ہے۔ 5جون کو لگ بھگ 4ہزار نئے کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 89ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ وبا کے حوالے سے مئی کا مہینہ بدترین ثابت ہوا ہے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا مریض 26؍ فروری کو سامنے آیا اور یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک یہ جان لیوا وائرس چین سے نکل کر دنیا کے بیشتر ممالک تک پھیل چکا تھا، وطن عزیز کی خوش قسمتی یہ رہی کہ دوسرے ممالک کی طرح کورونا آناً فاناً نہ پھیلا لیکن افسوس کہ اس امر سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔ یہ حقیقت بھی حالانکہ تب تک عیاں ہو چکی تھی کہ کورونا کا نہ کوئی علاج موجود ہے نہ مستقبل قریب میں علاج کی دریافت کا کوئی امکان، بچائو کا واحد راستہ احتیاط ہے۔ حرماں نصیبی یہ رہی کہ اس معاملے کو یورپ اور دیگر ممالک کی صورتحال دیکھتے ہوئے بھی سنجیدگی سے نہ لیا گیا بلکہ اس خالص طبی معاملے کو سیاسی رنگ میں دیکھا گیا، وفاق اور سندھ میں ٹھنی رہی، وفاق نے نہ صرف لاک ڈائون میں سختی نہ کی بلکہ عوام اور تاجر برادری کی خوہش کے مطابق عید سے چند روز قبل لاک ڈائون عارضی طور پر ہٹا دیا گیا نتیجہ سب کے سامنے ہے، وفاق اب معذرت کے بجائے ازالہ کرے، ملک بھر میں کورونا سے لڑنے والوں کو جدید ترین سامان مہیا کرے اور اس وبا کو قابو کرنے کی جان توڑ کوشش کی جائے ورنہ حالات کے بدترین ہونے میں دیر نہ لگے گی، عالمی برادری بھی پاکستان کی مدد کو آگے آئے کہ پاکستان کا صحت کا انفراسٹرکچر اتنے زیادہ مریضوں کا بوجھ برداشت نہیں کر پائے گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتیں اور ادارے متحد ہو کر حکمت عملی وضع کریں تاکہ یہ بلائے بے درماں ہمیں مزید چرکے نہ لگا سکے۔