آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جب سے میں نے ہوش سنبھالا اپنے بڑے ماموں ڈاکٹر اسلم فرخی کو مطالعے میں غرق پایا، اپنے آٹھ بہن بھائیوں میں وہ سب سے بڑے تھے۔ سب ان کا بے حد احترام کرتے، ان کی شخصیت میں ایک رعب و دبدبہ تھا۔بے تکلف تھی وہ تھی بھی تلے اوپر کے بہن بھائی اور میں اس وقت ننھیال میں اکلوتی نواسی تھی سب کی لاڈلی اور اسلم ماموں کی چہیتی اسی لئے اکثر اس کا فائدہ اٹھا لیا کرتی تھی، جب اسلم ماموں نہایت سنجیدگی سے کچھ لکھ رہے ہوتے یاپڑھ رہے ہوتے میں بے تکے، بچکانے سوالات کر کے انہیں عاجز کرتی رہتی، آپ اتنی بہت ساری کتابیں کیسے پڑھتے ہیں؟ 

آپ اتنے ڈھیر سارے کاغذوں پر کیسے لکھ لیتے ہیں؟ وہ تحمل سے جواب دیتے رہتے، بیٹا آپ کی بہت ساری دوستیں ہیں۔ آ پ کو ان کے ساتھ کھیل کر بہت مزہ آتا ہے نا؟ جب آپ تھوڑی بڑی ہوں گی، کتابیں پڑھیں گی تو آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ آپ کی بہترین دوست ہیں، آپ بھی کتابیں پڑھیے گا ڈھیر ساری، یہ بات کسی نے سنی ہو نہ سنی ہو آصف نے ضرور سن لی، آصف جو ایک معصوم پاکیزہ روح کی صورت آسمانوں میں ہی تھا، اللہ تعالیٰ نے وجود کی شکل میں اسے ابھی زمین پر نہیں بھیجا تھا۔

بڑے ماموں کی شادی غالباً 1956 ء میں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے سولہ ستمبر 1959ء کو انہیں ایک چاند سے بیٹے سے نوازا، وہ واقعی چاند تھا،گوری رنگت بڑی بڑی کنجی آنکھیں سرپر ڈھیر سارے بھورے بھورے بال، اس کا نام میرے نانا محمد احسن نے آصف رکھا۔آصف سے سب بہت پیار کرتے، اس کی عادتیں ہی ایسی تھیں صاف ستھرا اپنے کھلونے سنبھال کر رکھنا، ذرا سا پچکا دو تو کھلھلاکر ہنس دیتا، کراچی میں بارشیں کم ہی ہوتی ہیں اوراس وقت تو خال خال ہی ہوتی تھیں لیکن جب آصف کی پہلی سالگرہ آئی تو دھواں دھار بارش نے کراچی کو جل تھل کر دیا تھا مگر اس کے پیار میں سب ہی کسی نہ کسی طرح ماموں کے گھر مبارکباد دینے پہنچ گئے تھے۔ 

آصف کے دادا یعنی میرے نانا نے انہیں سونے کی انگوٹھی دی تھی جسے ننھی سی انگلی میں پہن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ ابھی سال کے ہوئے تھے مگر الفاظ ادا کرنے کی کوشش کرتے ، انہیں بتایا گیا کہ یہ سونے کی انگوٹھی ہے تو خوب زور لگا لگا کر کہتے ’’چھوٹے کی‘‘ آصف کے بعد اسلم ماموں کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور پیارے بیٹے سے نوازا طارق، دونوں بھائیوں میں لگ بھگ تین سال کا فرق ہو گا، یہ دونوں مل کرکھیلتے لیکن آصف جو اب بھاگتے دوڑتے تھے ان کی دلچسپی کا مرکز کتابوں کے ریک ہوتے تھے،ماموں کے گھر میں ڈھیروں کتابیں تھیں، میری ممانی تاج بیگم کا تعلق ڈپٹی نذیر احمد کے خانوادے سے تھا اور وہ ’’ساقی‘‘ اور ’’دلی کی بتیا‘‘ والے معروف ادیب و موسیقار شاہد احمد دہلوی کی بھتیجی تھیں، کتابوں کا اس گھر میں ہونا یقینی امر تھا، آصف کی دلچسپی کتابوں میں دیکھ کر سب ان کو چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتابیں دینے لگے جنہیں وہ نہایت ذوق و شوق سے پڑھنے کی کوشش کرتے، حروف سے آشنا ہونا چاہتے اور حیرت انگیز طورپر بہت جلد انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا۔ 

انہیں کراچی کے اسکول سینٹ پیٹرکس میں داخل کروایا گیا جہاں وہ نہایت ذہین طلبا میں شمار ہونے لگے ، انہیں اسکول جانا بہت پسند تھا لیکن ایک ہفتے میں ایک دن وہ بالکل اسکول جانا نہیں چاہتے تھے وہ تھا ’’پی ٹی‘‘ کا دن آصف کو پی ٹی کرنا بالکل پسند نہیں تھا، سفر کرنا بھی پسند نہیں تھا لیکن ان کے نصیب میں ملکوں ملکوں سفر کرنا لکھا تھا، دنیا کے مختلف ممالک میں ڈھیروں ادبی کانفرسوں میں اس کی شرکت کو باعث اعزاز سمجھاجاتا تھا، دنیا کے بڑے بڑے میڈیکل اسکولز میں پبلک ہیلتھ پر وہ لیکچر ز دیتا۔1974ء میں آصف نے میٹرک میں چوتھی اور 1976ء میں انٹر بورڈ میں اول پوزیشن حاصل کی اور پھر ڈائو میڈیکل کالج (جواب یونیورسٹی ہے) میں ہر سال اعزاز حاصل کیا، امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے اسکالر شپ ملا، وہاں جاب کی آفر ہوئی، بے شمار سہولتیں شاندار تنخواہ مگر آصف کو کراچی کی فضائیں بلا رہی تھی، وطن کی مٹی کی خوشبو کو محسوس کرنا چاہتے تھے۔ واپس آئے اور UNICEF اور آغا خان میںمیڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے۔بیشتر لوگ آصف کو میڈیسن کا نہیں بلکہ P.h.d ڈاکٹر سمجھتے تھے،آصف کولٹریچر سے عشق تھا، اکثر کہتا دل تو میرا ابو کی طرح لٹریچر میں پی ایچ ڈی کرنے کا چاہتا ہے مگر ایم بی بی ایس کرنا بھی انہی کی خواہش پوری کرنا ہے۔ وہ تابیدار اور فرماں بردار تھا۔ بڑوں کا عزت احترام کرنا اس کی سرشت میں تھا۔

میری اورآصف کی بہت دوستی تھی۔ڈاکٹر آصف فرخی کراچی کا بیٹا تھا، پاکستان کا بیٹا تھا اور اردو ادب کا ایسا تابندہ ستارہ تھا کہ جس نے ناموری اور کامیابی کی وہ مثال قائم کی کہ جس کے لئے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اپنی مثال بس وہ خود ہی ہو سکتا ہے، نہایت کم عمری میں جو نام کمایا اس کے لئے مدتیں درکار ہوتی ہیں صرف23 سال کی عمر میں پہلا افسانوی مجموعہ شائع ہوا اور اس کے بعد انہوں نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا،سیکڑوں افسانے، مختلف زبانوں کے شہ پاروں کے ترجمے، تنقیدی مضامین، مختلف شخصیتوں کے انٹرویوز، لگ بھگ دس سال قبل اردو لٹریچر فیسٹولز کا کامیاب ترین سلسلہ شروع کیا ڈاکٹر امنیہ سید کی سنگت میں، مجھے بھی کئی بار محبت و پیار سے ان فیسٹولز کا حصہ بنایا۔ 

اخلاق و انکساری آصف کا خاصہ تھا، گھریلو تربیت اور ماحول کے علاوہ جن اوبا اور شاعری کی نامور ہستیوں کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا ان سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا، انتظار حسین صاحب، محترمہ کشور ناہید ، احمد فراز ،فہمیدہ ریاض مرحومہ (جن پر آج کل بھی وہ کام کر رہے تھے) سلیم احمد، ضمیر بدایونی ، قمر جمیل، حسن عسکری فاطمی سندھی ادب کے نامور نام شیخ ایاز، خدا بخش ابڑو، عطیہ دائود، نورالہدی شاہ اور بے شمار تابندہ ستارے ادب کے۔عوامی سطح کے علاوہ حکومتی سطح پر بھی آصف فرخی کے کام کو سراہا گیا انہیں پرائڈ آف پرفارمنس اور تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا، اتنی لیاقت ، اتنی خداداد صلاحیتوں کے باوجود آصف کی شخصیت میں کسی غرور کسی تکبر کا شایہہ نہیں تھا۔ کسی موقع کسی محفل میں بلاوجہ یہ جتانے کی کوشش نہ کرتے کہ یہ سب کچھ بلکہ اس سے بھی زیادہ بہت زیادہ میں جانتاہوں۔میری آصف سے آخری ملاقات پانچ جنوری 2020ء کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں ہوئی۔ 

جہاں آرٹس کونس کراچی کی گورننگ باڈی اور پریس کلب کراچی کے نومنتخب اراکین کو قمر علی عباسی فائونڈیشن کی جانب سے عشائیہ دیا گیا تھا۔ میرے ایک عزیز نے پوچھا’’آصف بھائی کیا ہوا آپ خاصے کمزور نظر آرہے ہیں‘‘ آصف نے زیر لب اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے کہا ،میں کیسا زندہ آدمی تھاایک شخص نے مجھ کو مار دیا۔آصف تم جیسے انسان کبھی مرتے نہیں ستارہ بن کر آسمان پر دمکتے رہتے ہیں۔ تمہاری شخصیت ، تمہارا کام، تمہاری لیاقت، تمہاری باتیں، تمہاری یادیں بھولنے والی نہیں۔یکم جون 2020ء کو تم اس فانی دنیا سے چلے تو گئے لیکن بقول حبیب جالب ؎چھوڑ جائیں گے کچھ ایسی یادیں روئیں گے ہم کو زمانے والے