آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسپین کا سخت بجٹ، کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کاروباری افراد پر دباؤ

میڈرڈ: ڈینیئل ڈومبے

جب پیڈرو سانچیز نے رواں ماہ اسپین کے کورونا وائرس سے شدیدمتاثرہ سیاحت کے شعبے کے لئے ایک امدادی منصوبے کا اعلان کیا ،ایگزیکٹوز نے اسے حکومت کے تقریباََ نہ ہونے کے برابر پیسہ خرچ کرنے کے مترادف سمجھتے ہوئے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

غیرملکی سیاحوں کی دوبارہ آمد شروع کرنے کی حالیہ کوششوں کے باوجود اس صنعت کو رواں برس 80 ارب ڈالر آمدنی میں کمی کی توقع ہے۔لیکن وزیراعظم کے اس منصوبے میں محض 4.2 ارب ڈالر عوامی پیسہ مختص کیا ہے ، جو گزشتہ سال اس شعبے کی 150ارب ڈالر پیداوار کا 3 فیصد سے بھی کم ہے۔

صنعتی گروپ ایکسلٹورنے بتایا کہ پیش کردہ قرض ’معمولی‘ تھے۔ہوسٹیلریا دی اسپانا جو 270،000 بارز اور ریستوراں کی نمائندگی کرتا ہے ، نےفرانس کے اسی طرح کے مجموعی 18 ارب یورو کے منصوبے کی نشااندہی کرتے ہوئےانہیں غیراہم قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔حکومت نے کہا کہ یہ موازنہ گمراہ کن تھا کیونکہ اسپین کے فنڈز محدود تھے۔

اسپین کی ایک ایسی صنعت کی مدد کی صلاحیت جو عمومی حالات میں معیشت کا 12 فیصد پیدواری حصہ اور ملازمتوں کا 13 فیصد فراہم کرتی ہے، مالیاتی دباؤ کے باعث تباہ حالی کا شکار ہے ،جو وباء کے ردعمل میں محدود ہوچکی ہے۔

اسپین نے بحران سے نکلنے کیلئے خرچ کرنے والی دیگر یورپی ریاستوں کے مقابلے میں کم فراخدلی کاثبوت دیا، اگرچہ کہ یورپی یونین میں پیڈرو سانچیز کی اتحادی سب سےزیادہ بائیں بازو کی حکومتوں میں سے ایک ہے اور ملک سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔

اس کا برآمدی آٹو سیکٹر عموماََ بنیادی ملکی پیداوار کا 10 فیصد پیداوار کرتا ہے تاہم اپریل میں اس کی بیرون ملک فروخت میں 98 فیصد کمی آگئی تھی،فرانس میں 8 ارب یورو کے پیکج کے مقابلے میں اسپین کی حکومت اسے دوسال کے عرصے میں 3.7 ارب یورو فراہم کرے گی۔

ملک کی عارضی چھٹیوں کی اسکیم،جس نے بیس لاکھ سے زیادہ افراد کی مدد کی اور آئندہ ہفتے ختم ہونے والی، میں توسیع کے بارے میں بات چیت بھی مشکل ہوچکی ہے کیونکہ کاروباری ادارے اور یونینز جیسا چاہتی ہیں حکومت اتنی سہولت دینے سے گریزاں ہے۔

کورونا وائرس کے اقتصادی نتائج سے سب سے زیقادہ متاثر ہونے والے ممالک میں اسپین شامل ہے۔رواں مہینے او ای سی ڈی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی جی ڈی پی اس سال زیادہ سے زیادہ 14 فیصد سکڑ سکتی ہے۔یہ دیگر کسی یورپی یونین کے رکن ملک کے مقابلے سے زیادہ ہے۔اس نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ اس سال بیروزگاری 25 فیصد سے زیادہ ہوجائے گی اور 2021 کے آخر میں 20 فیصد پر رہے گی۔

اس طرح کی خوفناک پیشگوئیوں کے باوجود عوامی مالی صورتحال کی غیر یقینی کی وجہ سے حکومت محتاط ہے۔

ملک کے مالیاتی نگران ادارے اے آئی آر ایف کی سربراہ کرسٹینا ہیریرو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بحران سے پہلے بھی ہمارا بجٹ ساختی طور پر غیرمتوازن تھا اور یہ عدم توازن اب بدترہوتا جارہا ہے۔

کرسٹینا ہیریرو نے کہا کہ اس سے قبل ملک کے جی ڈی پی کا تقریباََ 3 اسٹرکچرل خسارہ تھا اور وہ صرف اپنے قرض کو کم کررہا تھا کیونکہ سود کی شرح نمو سے کم تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار عوامی فنانسز مستقبل کی ترقی اور فلاحی ریاست کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہسپانوی پارلیمنٹ کی دلیل میں انہوں نے اس سال جی ڈی پی میں 11.1 فیصد اور 13.9 فیصد اور 2021 میں 7.7 فیصد اور 9.7 فیصد کے درمیان حکومتی خسارے کا تخمینہ لگایا ،یہ وبائی مرض کی شدت اور مدت پر منحصر ہے۔

وہ توقع کرتی ہیں کہ حکومت کے قرضوں کا بوجھ اس سال بحران سے ذرا پہلے جی ڈی پی کے 95 فیصد سے بڑھ کر تقریبا 120 فیصد ہوجائے گا اور 2021 میں اس سے کچھ پوائنٹس زیادہ ہوں گے۔

کرسٹینا ہیریرو کی ایجنسی کے نمونوں کے مطابق اسپین کو 2030 تک اپنا بجٹ متوازن کرنے کی ضرورت ہوگی.یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے - صرف قرض کو جی ڈی پی کے تناسب کے مطابق برقرار رکھنا، اگلے سال کی پیش گوئی کی سطح سے زیادہ نہیں رکھنا ہے۔گزشتہ سال کے قرض اور جی ڈی پی کے مابین تناسب کی سطح کی واپسی کیلئے 2040 تک متوازن بجٹ ہوگا۔

برسلز میں واقع تھنک ٹینک ، برگل کے سینئر فیلو زسلٹ درووس نے کہا کہ میڈرڈ اس طرح کی پریشانیوں سے لڑائی میں تنہا نہیں ہے۔ اسپین ، اٹلی ، پرتگال اور یونان کو زیادہ خطرناک مالی صورتحال اور بہت زیادہ عوامی قرض اور پہلے ہی زیادہ بے روزگاری کی وجہ سے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔. انہوں نے بتایا کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جرمنی یا برطانیہ جیسے مالیاتی لچک ملک والے دوسرے ممالک کے مقابلے میں وہ زیادہ محتاط کیوں ہیں۔

مسٹر درووس اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق نےجرمنی میں 13 فیصد سے زائد کے مقابلے میں اسپین کے ہنگامی اخراجات اور ٹیکس وقفوں کو 2019 جی ڈی پی کے 4 فیصد سے بھی کم پررکھ دیا ہے۔

جب ٹیکس التواء کا معاملہ آتا ہے تو یہ ملک جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم کے اقدامات کے ساتھ بروگل کے زیرِ مطالعہ آٹھ ممالک میں کم سے کم فراخدل ملک ہے۔جرمنی میں 27 فیصد اور اٹلی میں 32 فیصد کے مقابلے میں قرض کی ضمانتیں جی ڈی پی کے تقریبا 9 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں ، اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ کہیں اور کے مقابلے میں اسپین میں ٹیک اپ ریٹ کہیں زیادہ ہے۔

ملک کی مالی تنگی اہم وجوہات میں سے ایک ہے کہ اس نے یورپی یونین کے گرانٹ کے لئے مطالبہ کیا ہے۔ بحران سے دوچار ممالک کی مدد کے لئے جو قرض کو آگے نہیں بڑھنے دےگا۔. اس گروپ کے رہنما آئندہ ماہ ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں 750 بلین یوروکی گرانٹ اور قرض پر مبنی وصولی فنڈ کے لئے یورپی کمیشن کی تجاویز پر فیصلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

پیڈرو سانچیز کے لئے یہ اسکیم اسپین کو مالی تنگی سے نکلنے کا راستہ پیش کرتی ہے۔انہوں نے قوم سے ہفتہ وار خطاب میں کہا کہ نے 2008 کے بحران میں ممالک کے مابین خود غرضی اور تفریق دونوں مزید گہری ہوتی اور طویل معاشی بدحالی دیکھی تھی،اس بار یورپ کو یورپ کو بچانا چاہئے۔اس وبائی مرض سے ایک نیا یورپ ابھر رہا ہے جس نے اپنا سبق سیکھ لیا اوراور بحالی کے اس منصوبے کے ذریعے معاہدے ، اتحاد اور یکجہتی کی تلاش کی۔

کرسٹینا ہیریرو نے استدلال کیا کہ ملک کو اب بھی اس کے ذرائع کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت ہوگی جب اس بحران کا سب سے زیادہ شدید حصہ ختم ہوجائے گا - اس بات کا اشارہ کہ اخراجات پر دباؤ برقرار رہے گا یہاں تک کہ اگر یورپی یونین کی گرانٹ آنے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایک توازن سازی کے منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کریں جو درمیانی مدتی ساختی اقدامات اور عوامی قرضوں کے لئے پائیدار راہ کی ضمانت کی منتظر ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ غیریقینی صورتحال اسے منصوبہ بندی سے باز رکھ رہی ہے،لیکن غیریقینی صورتحال منصوبہ بندی نہ کرنے کا بہانہ نہیں ہوسکتی۔یہ معاشی بحران مالیاتی بحران نہیں بننا چاہئے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید