آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصباح طیّب، سرگودھا

مسلمان معاشروں میں بگاڑ عروج پر ہے، جس کی بڑی وجہ تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔ وہ والدین، جنہوں نے ننّھے بیج (بچّے) کی آب یاری کرنی تھی، وقت پر پانی دینا تھا، گوڈی کرنی تھی، فالتو جڑی بوٹیوں کو تلف کرنا تھا،موسمی اثرات سے بچانا تھا، افسوس کہ اُن کی اپنی ہی اس قدر سرگرمیاں، مجبوریاں ہیں کہ ننّھی ننّھی کونپلوں کی طرف دھیان دینے کا وقت ہی نہیں۔ اس لیے دَورِ حاضر کا بچّہ نشوونما کے مراحل تو طے کررہا ہے، مگر تعلیم و تربیت کی دولت سے محروم ہے۔ اور پھر جس بچّے کی شخصیت عدم توجہی کے سبب ایک بار بگڑ جائے، پھر وہ عُمر بَھر کے لیے معاشرے کے لیے کوئی کارآمد فرد نہیں بن پاتا۔

بنیادی طور پر انسان عقل، جسم اور روح کا مُرکّب ہے۔ بچّہ یہ تمام چیزیں ربّ سے لے کر دُنیا میں آتا ہے۔ اور بچّے کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بھی دینِ اسلام والدین کو بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔جیسے بچّہ پیدا ہو تو فوری طور پر اُسے ماں کا لمس ملنا چاہیے۔ باپ کو چاہیے کہ بچّے کے دائیں کان میں اذان دے اور بائیں میں اقامت کہے۔ حضورِپاک ﷺ نے فرمایا،”جس کے یہاں کوئی بچّہ پیدا ہوا اور اس نے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی، تو وہ بچّہ ام الصبیان سے محفوظ رہے گا۔“ دُنیا سے جاتے ہوئے کلمے کی تلقین اور آتے ہوئے اذان، کتنا پیارا دین ہے، جو دُنیا میں آنے اور یہاں سے جانے پر ربّ کی عظمت سے جوڑ دیتا ہے۔ 

دوسرا مرحلہ گُھٹی کا ہے،جو ہمیشہ کسی نیک شخص سے دلوائیں۔ کھجور چبا کر نومولود کے منہ میں دیں۔ یہ سنّت طریقہ ہے، جس کی بےپناہ فضیلت ہے۔ اس سے بچّے کے پٹّھے بھی متحرّک ہوتے ہیں، جس سے بعد میں دودھ پینے میں آسانی ہوتی ہے۔ ساتویں دِن سَر منڈوائیں، عقیقہ کریں اور نام رکھیں۔ نام ہمیشہ بامعنی رکھیں، مگر اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ نام کے معنی سے شہنشاہیت ظاہر نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا،’’قیامت کے دِن سب سے بدترین اور ناپسندیدہ شخص وہ ہوگا، جو خود کو شہنشاہ کہلواتا تھا، کیوں کہ تمام بادشاہوں کا بادشاہ تو اللہ تعالیٰ ہے‘‘۔

جوں جوں بچّہ ہوش سنبھالے،صحت پکڑے،ساتھ ہی اُس کی تربیت کا عمل شروع کردیا جائے کہ جدید سائنسی تحقیق بھی یہی کہتی ہے کہ پیدایش کے ساتھ ہی تربیت کے اثرات مرتّب ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور عموماً 18ماہ کی عُمر تک مکمل بھی ہوجاتے ہیں۔بچّے کی تربیت میں بالترتیب گھر، اسکول، حلقۂ احباب اور پھر سوسائٹی سب اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک مسلمان بچّے میں پہلا بیج ایمان اور تقویٰ کا بوئیں تو پہلا نفع والدین ہی کو ملے گا۔ یاد رکھیں، محبّت اور توّجہ کی فضا میں پرورش پائے گئے بچّے ہی گھر اور معاشرے کے اچھے رُکن ثابت ہو سکتے ہیں۔آج ہم بچّوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔ بلاوجہ کی تعریف، بے لگام محبّت یہ چیزیں بچّے کے مزاج میں اناپرستی اور ضد کا عنصرپیدا کرتی ہیں۔ 

ہم صرف بچّوں کو ذات اور خواہش کی محبّت دیتے ہیں،حالاں کہ انا پرستی کا دوسرا نام، ابلیسیت ہے۔ آپ خود سوچیں، اس طرزِ تربیت سے پھر ہمارے بچّےخدا پرستی کیسے سیکھیں گے کہ جب وہ اپنی ذات ہی کے گنبد سے باہر نہیں نکلیں گے۔ بچّے کوزیادہ سے زیادہ ربّ کی محبّت اور ربّ کا تعلق دیں۔اُس ربّ کا تعلق جو ننانوے فی صد محبّت اپنے پاس رکھتا ہے اور ایک فی صد پوری دُنیا پر تقسیم کرتا ہے۔ 

افسوس کہ ہم اپنے بچّوں کی تربیت کچھ اس طور کرتے ہیں کہ اُن کے اندر’’ انا کا جن‘‘ بٹھا دیتے ہیں۔اب اس جن کے چنگل میں پھنسے بچّوں کے تعلقات کیسے اچھے ہوسکتے ہیں ؟ خاندانی محبّت بَھری فضا کیسے پروان چڑھ سکتی ہے؟ہم جو بوتے ہیں،بالآخر وہی کاٹنا پڑتا ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کانٹے کاشت کریں اور پھول نکلنے کی خواہش رکھیں۔آئیے، ربّ العزّت کےحضورتہہ دِل سے یہ عہد کریں کہ ہم تربیتِ اولاد کے فریضے سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہونے کی پوری سعی کریں گے تاکہ کل کوہماری اولادہمارے لیے صدقۂ جاریہ بنے اور مُلک و قوم کےساتھ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشن مثال ثابت ہو۔