آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاطینی امریکیوں کی آواز: گبرل گار شیامارکیز

ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والا لاطینی امریکی مصنّف، ناول نگار، گبریل گارشیا مارکیز(Gabriel Garcia Marquez) کولمبیا کے ایک چھوٹے سے ساحلی قصبے آراکاٹکا (Aracataca) میں 6 مارچ 1927ء کو پیدا ہوا اور 17 اپریل 2014ء کو دنیا سے رخصت ہوگیا۔ گارشیا نے لاطینی ادب کو اپنی حقیقی منظر نگاری کے سحر میں مبتلا رکھا۔ اس نے لفظوں کے ذریعے خوب صورت مناظر کو آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اُس کا انداز اِس قدر حقیقی تھا کہ قاری و سامع منظر درمنظر اُس کے جادو بیانی کے فسوں میں مبتلا ہوکر اُس کی تخلیق کی ہوئی دنیا میں داخل ہوجاتا، اور پھر اُس کی باگ جیسے گارشیا کے ہاتھوں میں آجاتی اور طلسم نگری کا منتر شروع ہوجاتا ہے۔ 

جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، گارشیا، قاری پر اپنی گرفت مضبوط کرتا چلا جاتا ہے اور قاری کسی مجبورِ محض کی مانند اُس وقت تک کہانی میں محو رہتا ہے، جب تک کہ وہ پورا ناول ختم نہ کرلے، کیوں کہ اُس کے ناول دل موہ لینے والے سحرانگیز مناظر اور اعلیٰ کردار نگاری سے بھرپور ہوتے ہیں، جس میں محبت، نفرت، خواب، امید، جنون، پاگل پن، سیاست، سازش، جنگ اور موت کا حقیقی رنگ جا بجا بکھرا نظر آتا ہے۔ ایک انٹرویو میں گارشیا مارکیز اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’میری زندگی میں دو رُخی کی وجہ میرے نانا، نانی تھے، جنہوں نے میری ابتدائی تربیت کی۔ میرے نانا کی ایک الگ دنیا تھی، جو بہت بے رحم، بے حِس، بے مروّت اور اندوہ ناک سچائی سے بھرپور تھی، جس میں اُن سارے واقعات کا ذکر خاص طور پر موجود تھا، جو اُنھوں نے آخری خانہ جنگی کے دوران بھگتائے تھے۔ 

لاطینی امریکیوں کی آواز: گبرل گار شیامارکیز
فیڈل کاسترو سے محوِ گفتگو

یاد رہے کہ انیسویں صدی کے آخری نصف(1851-1895ء) میں کولمبیا میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پورا ملک افراتفری کا شکار رہا، اسی دوران کولمبیا دو حصّوں میں تقسیم ہوگیا، جس میں سے ایک حصّہ موجودہ کولمبیا اور دوسرا پاناما بن گیا، جب کہ میری نانی کی دنیا تو جیسے اِس کائنات کا حصّہ ہی نہیں تھی۔‘‘ وہ آگے کہتا ہے کہ ’’نانی مجھے پریوں، جنوں کے قصّے اِس یقین سے سُناتیں کہ مَیں بچپن میں اُس جادوئی دنیا کا باسی بن جاتا۔ 

جیسے جیسے نانی کا قصّہ آگے بڑھتا، میرا اِضطراب بھی بڑھتا جاتا اور پھر ایک وقت ایسا آتا، جب نانی کے قصّے کو میں خود ہی سے مزید آگے بڑھانے کی کوشش کرتا، تو نانی کبھی میری ہاں میں ہاں ملاتیں، تو کبھی کہتیں کہ نہیں بیٹا، پَری کا دل موم ہوتا ہے، وہ کسی کا بُرا نہیں چاہتی، اِس لیے اُس نے اُس بُرے جن کو بھی معاف کردیا۔ اور میں کہتا، نانی یہ کیا بات ہوئی، ابھی تو پری نے ہیرو کو بچالیا لیکن اگر جن پھر سے آگیا تو..... اور یونہی میں اپنی نانی کی بنائی ہوئی اُس خیالی دنیا میں گُم ہوتا چلا گیا، جس نے نہ صرف میری تخلیقی اُپچ کو مہمیز دی، بلکہ میرے تخیّل کو بھی جِلا بخشی۔‘‘ 

مارکیز نے اپنے نانا، نانی کے قصّے کہانیوں ہی کو اصل میں اپنے کئی مشہور ناولز کا بنیادی خیال بنایا ہے۔ گارشیا مارکیز بیسویں صدی عیسوی کی چھٹی دہائی میں لاطینی امریکی ادب کا حصّہ بنا۔ وہ دَور میکسیکن ناول نگار، کارلوس فونٹیس (Carlos Fuentes) اور پیروین مصنّف، ماریو وارگس للوسا (Mario Vargas Llosa) کا زمانہ تھا۔ کولمبین لکھاری، گبریل گارشیا مارکیز کے اُن کے ساتھ شدید سیاسی اختلافات تھے، جس کی سب سے بڑی وجہ اُس کے بائیں بازو کے نظریے سے عقیدت تھی، جو اُس کے نانا کی تربیت کا نتیجہ تھی۔ 

لاطینی امریکیوں کی آواز: گبرل گار شیامارکیز
گبریل گارشیا سابق امریکی صدر، کلنٹن کے ساتھ

دراصل بائیں بازو کے نظریے ہی نے بعد کے ایّام میں اُس کی تصنیفات کو چار چاند لگائے۔ گارشیا کہتا ہے کہ ’’میں نے صرف وہ حقیقت بیان کی، جس کا میں خود داعی تھا، میں نے لاطینی امریکا کی سچائی کو دنیا کے سامنے اُس کی حقیقی شکل میں پیش کیا، کیوں کہ میری نظر میں حقیقت کی کسی بھی قسم کی توجیہہ سراسر سیاسی ہوتی ہے، جس سے لکھاری کسی صورت بچ نہیں سکتا۔ میں بھی اپنی سیاسی وابستگی کسی صورت الگ نہیں رکھ سکتا، اگر میں حقیقت برائے حقیقت کے بجائے اُس کی توجیہہ پیش کرنے کی کوشش کروں۔‘‘ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ سیاسی وابستگی اور حقیقت کی توجیہہ کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ گبریل گارشیا صرف ایک لکھاری ہی نہیں، بلکہ اُس نے لاطینی امریکا کے گونگے منہ کو ایک متحرک زبان عطا کی، جس نے دنیا کو بتایا کہ جنگ و جدل اور خانہ جنگی کے علاوہ بھی لاطینی امریکا میں بہت کچھ ہے، جس کا جاننا دنیا کے اپنے فائدے میں ہے۔ 

اُس نے بتایا کہ طاقت کی جنگ نے طاقت وروں کو بدمست کرکے پورے خطّے کو سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کردیا۔ اس زمانے میں فوجی آمریت، شخصی فرعونیت اور سیاسی بے راہ روی نے لاطینی امریکا کو ایک ایسی مافیائی ریاست میں تبدیل کردیا تھا کہ جس کے بارے سوچنا بھی مہذب معاشرے میں محال تھا۔ انسانی سماج کی یہ دو رخی، جس نے دنیا کو فرسٹ ورلڈ اور تھرڈ ورلڈ میں بانٹ دیا، نہ جانے کہاں جاکر ختم ہو، تاہم اِس بٹوارے نے جس انسانی المیے کو جنم دیا، اُس کا ذمّے دار ہر شخص گردانا جائے گا، خواہ وہ پہلی دنیا کا باسی ہو یا تیسری دنیا کا۔

گبریل گارشیا نے 1982ء میں نوبل انعام وصول کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جس سچائی کو بیان کیا تھا، اُس نے مہذّب معاشرے کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ رسید کیا، جس کی انگلیوں کے نشان اَن مٹ ہیں۔ اُس نے اپنی تقریر کا عنوان ’’لاطینی امریکا کی تنہائی‘‘ رکھا۔ جس میں اُس نے لاطینی امریکا کی خانہ جنگیوں، سیاسی چپقلشوں، فوجی دراندازیوں، آمرانہ ادوار کے مظالم اور خاص طور پر لسانی نسل کشی کا ذکرکرکے دنیا کو جھنجھوڑ ڈالا۔ اس نے بتایا کہ مہذّب دنیا کے طاقت وَر ہونے کے نشے نے تیسری دنیا کو کس عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ 

اُس نے پہلی دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر نہ صرف اُس کا دو رُخی چہرہ دکھایا، بلکہ اُن کے سامنے اُن کی اصلیت بھی عیاں کی۔ اُس نے کہا ’’ہم لکھاری جو کہانیاں تخلیق کرتے ہیں، کسی بھی بات پر یقین کرلیتے ہیں، کیوں کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہمیں یقین کرلینا چاہیے کہ اب بھی بہت دیر نہیں ہوئی ہے۔ ایک مثالی دنیا(Utopia)کے تخلیق ہونے میں جہاں کسی کو بھی دوسرے کی موت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، جہاں محبت کا بول بالا اور سچّی خوشی کا حصول ممکن ہوگا، جہاں کسی بھی نوعیت کے تعصّب کو کم ازکم ایک سو برس یا ہمیشہ کی قیدِ تنہائی ملے گی۔‘‘ گارشیا مارکیز کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لاطینی امریکا کے ملک چِلّی کا ناول نگار، ایریل ڈورف مین (Ariel Dorfman) کہتا ہے کہ ’’یہ لاطینی امریکا کے ایک مصنّف کا سب سے اہم پیغام ہے، جو اُس نے مہذّب دنیا تک پہنچایا، جس میں مارکیز نے اُن لوگوں کی بات کی، جن کی تاریخ کو مسخ کیا گیا، جن کی آواز کو کچلا گیا، اور جن کے حقوق سلب کیے گئے۔ مارکیز اُن تمام لوگوں کی آواز بن کر سامنے آیا، جو مُردوں کی مانند زندہ ہیں، یا جو اصل میں مرچکے ہیں یا جو پیدا ہونے والے ہیں۔ مارکیز نے حقیقتاً لاطینی امریکا کے گونگے منہ کو زبان عطا کی۔‘‘

گارشیا کے ناولز میں ایک خیال کو بہت اہمیت حاصل ہے اور وہ ہے، طاقت، لامتناہی طاقت۔ ایک ایسی طاقت، جو زندگی چھیننے اور زندگی عطا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن مارکیز کے یہاں طاقت اصل میں طاقت کے بے قابو استعمال کی علامت ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ سارا وقت اُسی طاقت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ یہاں تک کہ زنابالجبر ہو یا خالص محبت کی کیفیت کا بیان، گارشیا وہاں بھی جسمانی طاقت کا بیان نہیں بھولتا۔ تشدّد شاید لاطینی امریکا کے مزاج کا حصّہ ہے، جہاں محبت بھی متشدّد ہے اور گارشیا نے اپنی معاشرت کو خوب خوب بیان کیا۔

 1960ء کی دہائی کے بعد مارکیز کا نام ایک جادو گر کے طور پر سامنے آیا، جس کا جادو ایک اَن دیکھی دنیا کو’’Magic Realism‘‘کی ساحری میں لپیٹ کر پیش کرتا ہے، جس میں جدید دَور کی منظر کشی کے ساتھ جادوئی اور غیر ماورائی عناصر کی مدد سے ڈرامائی خوب صورتی پیدا کی جاتی ہے، یعنی ایک ایسی داستان کہ جس میں اساطیری تخیّل کو حقیقی منظر کشی کے ذریعے بیان کیا جائے۔ 

میجک رئیل ازم کی سب سے بڑی مثال گارشیا کا ناول’’One Hundred Years of Solitudes ‘‘ ہے جس کا اردو میں ترجمہ ’’تنہائی کے ایک سو برس‘‘ کے نام سے ہوا۔ اُس ناول کو اس نے اس قدر خوب صورت انداز سے پیش کیا کہ کرداروں سے لے کر منظر کشی سمیت سب نے مل کر اُسے جدید دنیا کا کلاسیک لٹریچر بنا دیا۔ گرچہ گارشیا اپنے متعلق کہتا ہے کہ وہ ایک حقیقت نگار ہے، جس نے صرف اور صرف لاطینی امریکا کے حقائق سے دنیا کو آگاہ کیا۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ گارشیا مارکیز کا سارا کام میجک رئیل ازم کا نمونہ نہیں، بلکہ اس کی تصنیفات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا دَور جو1947ء تا 1954ءکا ہے،اس میں اُس کا ابتدائی کام پایا جاتا ہے اور وہ میجک رئیل ازم سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

1955ء تا 1967ء کے دوسرے دَور میں گارشیا کا شہرئہ آفاق ناول ’’تنہائی کے ایک سو برس‘‘ شایع ہوا، جس میں میجک رئیل ازم کی تیکنیک پہلی بار استعمال کی گئی اور جس میں گارشیا نے لاطینی امریکا کے کولمبین ساحل (کریبین( کے نزدیک ایک خیالی بستی مکانڈو (Macando) تخلیق کی اور دنیا نے اُسے حقیقی سمجھ لیا۔ اپنے سوانح عمری میں مکانڈو کا ذکر کرتے ہوئے گارشیا کہتا ہے کہ اس نے یہ نام اپنے آبائی شہر میں اُگنے والے ایک درخت کے نام سے ماخوذ کیا ۔ 

مکانڈو کا ذکر گرچہ پہلی بار اُس کی ایک مختصر کہانی میں بھی آچکا تھا، لیکن اُس کو اصل شہرت ’’تنہائی کے ایک سو برس‘‘ کے ذریعے ہی ملی، جو بیونڈیا خاندان کی رہائشی بستی تھی۔ گارشیا کا تیسرا دَور مکانڈو کے بعد کا دَور ہے، اُس میں گارشیا بہت زیادہ حسّاسیت اور جمالیاتی حِس سے کام لیتا نظر آتا ہے۔ اِس دور میں اُس کی تصنیفات میں میجک رئیل ازم کا کچھ خاص عمل دخل نظر نہیں آتا۔ شاید اُس کی وجہ یہ ہو کہ گارشیا، کولمبیا کے حالات سے بہت زیادہ متاثر تھا، کیوں کہ اس وقت ملک میں جاری خانہ جنگی نے ایک تباہی مچا رکھی تھی۔ معاشرتی اقدار، تہذیبی و اخلاقی رواداری ختم ہوچکی تھی کہ جس معاشرے میں نیکی اور بدی کی تفریق ختم ہوجائے اور لوگ گناہ اور ظلم کو حق پرستی سمجھنے لگیں، وہاں ایک اصیل تخلیق کار کا زندہ رہنا بھی ِ محال گوجاتا ہے۔ 

اُن حالات نے گارشیا کی حسّاسیت کو بہت متاثر کیا، جس کی وجہ سے اس کے انداز میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی اور وہ میجک رئیل ازم کا استعمال تقریباً ترک کرکے حالات واقعات کا نوحہ بیان کرنے لگا۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ’’تنہائی کے ایک سو برس‘‘ کی تخلیق کے بعد گارشیا میں تخلیقیت کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ گارشیا کو نہ چاہتے ہوئے بھی ملک کی سیاسی اشرافیہ کا حصّہ بننا پڑا، جس نے اُسے ملک کے سیاسی و سماجی معاملات میں مداخلت کا موقع دیا۔ وہ ملک کی مقتدر قوتوں کے درمیان افہام و تفہیم کی کوششیں کرنے لگا۔ کبھی وہ فوجی قیادت سے بات کرتا، تو کبھی جنگجوؤں (Gorillas) سے۔ اُسے بے گناہ مارے جانے والوں کا دُکھ چین نہیں لینے دیتا۔ وہ مسلسل سفر میں رہتا، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی ۔

گبریل گارشیا مارکیز کا ناول ’’تنہائی کے ایک سو برس‘‘ پہلی بار 1967ء میں ہسپانوی زبان میں چھپا، جو نہ صرف اس کی پہچان بنا، بلکہ اس کے اسٹائل میجک رئیل ازم کا بھی مثالیہ بن گیا۔ یہ ناول ایک ایسے مثالی افسانوی قصبے مکانڈو کی کہانی ہے، جسے بیونڈیا خاندان کے جدامجد، جوز آرکیڈو بیونڈیا (Jose Arcado Buendia) نے دنیا سے بالکل الگ تھلگ کولمبیا کی ساحلی پٹی (Caribbean) پر دلدلی جنگل میں بسایا، جہاں اُس کی سات نسلیں تنہا ایک سو برس 1820ء تا 1920ء رہائش پذیر رہیں اور وہاں تک محض چند خانہ بدوش (Gypsies) اور کچھ بساطی (Hucksters)، جنھیں عام زبان میں خوانچہ فروش یا پھیری والا کہا جاتا ہے، ہی پہنچ پائے۔ اور پھر ایک دن اُن کے ساتھ ایک بوڑھا لکھاری بھی وہاں پہنچ گیا اور جب پانچ سال کے مسلسل گرم آندھی کے بعد سمندری طوفان نے پوری بستی کو صفحہ ہستی مٹا دیا، تو وہ بوڑھا لکھاری ہی اصل میں اس ناول کی کہانی کا راوی بنا۔ گارشیا، ناول کے اختتام پر راوی کے ذریعے اِس راز سے پردہ اٹھاتا ہے کہ ناول کا متن اصل میں وہ پراسرار دستاویزات ہیں،

جو مکانڈو کے کھنڈرات سے ملیں۔ ناول، حقیقت کی جادوبیانی کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی و سیاسی تمثیل کا مثالیہ ہے، جس میں کہیں حقیقت نگاری اپنے عروج پر نظر آتی ہے، تو کہیں ماورائے حقیقت کا زور دکھائی دیتا ہے ۔ گارشیا اِس تمثیل کے ذریعے اپنی قوتِ تخیلا کی مدد سے ایک متبادل اور غیر سرکاری دستاویز تیار کرتا ہے جس میں اُس کی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر واقعات (جن میں محبت، تعلقات، اور انسانی جذبات کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود کسک بھی شامل ہے) بیان کیے گئے ہیں۔1947ء سے 1954ء تک گارشیا مارکیز کے جتنی کہانیاں شایع ہوئیں، اُنھوں نے اُسے پیشہ وَر لکھاری کے طور پر متعارف کروانے میں ایک اہم کردار ادا کیا، جس میں اُس کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار نمایاں نظر آتا ہے۔ 

گارشیا کی سب سے پہلی کہانی تیسرا استعفیٰ (The Third Resignation) ہے اور اِس کہانی کو اُس نے فرانز کافکا کے انداز میں لکھنے کی کوشش کی، جس میں وہ تجرباتی حقیقت (Empirical Reality) کی قابل ِقبول حدوں سے آگے نکلتا دِکھائی دیا۔ اصل میں یہ ایک مردہ شخص کے پھر سے زندہ ہونے کی کہانی ہے، جس کا ابتدائیہ خالصتاً درونی نفسیات کا بیانیہ ہے ۔ گارشیا شروع کے تین پیراگراف تک تو قاری کو یہ سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیتا کہ وہ کر کیا رہا ہے اور پھر ایک دَم سے کہتا ہے کہ یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے، جو پہلے مر چکا ہے اور یہ بیانیہ خود قاری کی قابلِ قبول تجرباتی حقیقت (Empirical Reality) پر گویا ایک مہلک حملہ ثابت ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد کی ساری کہانی اُس خیال کو سمجھانے میں بیان ہوجاتی ہے کہ کیسے ایک مُردہ زندہ ہوا۔ 

چوں کہ یہ پہلی کہانی تھی، تو اُس میں گارشیا کہیں کہیں شش و پنج میں مبتلا نظر آتا ہے، وہ کئی باتوں کو ایک ساتھ بیان کرنا چاہتا ہے، جس میں ناکامی پر وہ ایک اور کہانی ’’موت کی دوسری طرف‘‘ (The Other Side of the Death) لکھتا ہے، جس میں وہ ایک بار پھر سے دوسری حقیقت کو پیش کرتا ہے، لیکن بالکل مختلف زاویے سے۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو اپنے دو بھائیوں کی موت کے بعد بے خوابی (Insomnia) میں مبتلا ہوکر خواب کی دنیا میں منتقل ہوجاتا ہے۔ جہاں اُسے لگتا ہے اُس کے بھائیوں کے ساتھ ساتھ اُس کی بھی موت واقع ہوچکی ہے۔ 

جس سے خوف زدہ ہوکر آخر کار وہ آہستہ آہستہ فسوں میں مبتلا ہوکر خود بھی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ گارشیا کی کہانیاں اور ناولز میں جو تنوع اور تخلیقیت نظر آتی ہے، وہ صرف اُس کی خالص تخلیقی صلاحیت کا کمال ہے، جو ذاتی مشاہدے اور مطالعے کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ اُس کی کہانیوں کے پلاٹ بظاہر بے ربط و منتشر نظر آتے ہیں، لیکن اس کے باوجود گارشیا جس خوب صورتی سے اپنی بے ربطگی کا استعمال کرتے ہوئے کہانیوں کو مکمل کرتا ہے، وہ لاجواب انداز ہے اور یہی انداز اُسے ادبی دنیا میں ممّیز و ممتاز کرتا ہے۔