آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

معروف چینی ادیب ’’وانگ دولو‘‘

دنیا کی قدیم تہذیبوں میں سے ایک چینی تہذیب بھی ہے۔ ہم نے آج جس چینی ادیب کا انتخاب کیا ہے، جدید چینی ناول نگاری میں ان کا اہم مقام ہے، ان کا خاندانی نام’’وانگ بائوشیانگ‘‘ ہے، مگر بطور ادیب اپنے لیے انہوں نے قلمی نام’’وانگ دولو‘‘منتخب کیا۔وہ 1919 میں چین کے شہر بیجنگ میں پیدا ہوئے، جبکہ 1977 میں ان کی رحلت ہوئی۔ انہوں نے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی۔ 1935 میں’’لی ڈان کوان‘‘ نامی خاتون سے ان کی شادی ہوئی، جس سے تین بچے ہوئے۔ ان کی زندگی کا ایک طویل حصہ بیوی بچوں سے دور گزرا، عمر کے آخری دور میں ان کی سب سے شدید خواہش یہی تھی کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے پاس رہیں، مگر زندگی کے جبر نے ان کو اپنے خاندان سے دور رہنے پر ،مجبور کیا۔ ان کی زندگی مشکلات سے عبارت تھی، پھر بھی خوشی سے جینے کا سلیقہ برقرار رکھا۔

’’وانگ دولو‘‘ کی مقبولیت کی وجہ چینی ادب میں ناول نگاری کو ایک نئی جہت دینا ہے، اس صنف اور اندازِ تحریر کو چینی زبان میں’’ووشا‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں کہانی اور اس کے کردار معروف چینی کھیل’’مارشل آرٹ‘‘ کے اردگرد گھومتے ہیں۔ انہوں نے مارشل آرٹ کے پس منظر میں کہانی کو کہنے کی نئی جدت فراہم کی، اس میں تجسس اور رومان کے رنگ بھرے، اسی لیے جدید چینی ناول نگاری میں ان کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ وہ ایک ہی مرکزی خیال پر سلسلہ وار ناول لکھنے کے ماہر تھے۔انہوں نے ناولوں کی سیریز میں ایک ہی تھیم پر چار اور پانچ کی تعداد میں کئی ناول لکھے، جو بظاہر الگ الگ ہوتے ، لیکن کہانی ایک دوسرے سے پوری طرح مربوط ہوتی تھی۔

انہوں نے ابتدائی طور پر کئی طرح کی نوکریاں کیں، جن میں چھوٹی موٹی دفتری ملازمتیں بھی شامل ہیں۔ کچھ عرصہ تدریس سے بھی وابستہ رہے، بطور صحافی اور مدیر بھی کام کیا، لیکن زندگی کے ہر موڑ پر ادب کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ چین میں جب خانہ جنگی ختم ہوئی، تو کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے سزا کے طور پر ان کو تدریس کا کام دیا گیا۔ 

یہ ان کی ادیب ہونے کی سزا تھی، کیونکہ ان کو ایک رجعت پسند ادیب تصور کیا جاتا تھا، اس لیے انہیں ادب تخلیق کرنے کی اجازت نہیں تھی، زندگی کا ایک طویل عرصہ اس سزا کی نذر ہوگیا، اس کے باوجود انہوں نے جو کچھ لکھا، وہ انہیں چینی ادب میں اور عالمی ادبی منظر نامے پر نمایاں رکھے گا۔

’’وانگ دولو‘‘ کی سب سے مقبول ناولوں کی سیریز کا عنوان’’کرین آئرن‘‘ ہے،جس کو ہم بوجھ اٹھانے والا پرندہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ پانچ ناولوں پر مشتمل اس سیریز کو قارئین کی طرف سے بے حد پسندیدگی حاصل ہوئی۔ انہوں نے 20 سے زیادہ ناول لکھے اور ان کے متحرک رہنے کا عرصہ 1931 سے لے کر 1949 تک کا ہے۔ پھرناولوں کی مزید چار سیریز لکھیں، ان میں قیمتی تلوار اور بالوں کی سنہری پن۔ تلوار کی طاقت اور چمکتا موتی۔ ٹہلنے والا شیر اور چھپا ہوا اژدھا۔ سورما اور چاندی کا گلدان شامل ہیں۔ 

ان میں سے ’’ٹہلنے والا شیر اور چھپے ہوئے اژدھے‘‘ کو عالمگیر شہرت ہوئی، ناولوں کی اسی سیریز، جس میں پانچ ناول شامل تھے، چوتھے ناول پر فلم بھی بنی، جبکہ دیگرناولوں کی جزیات سے بھی فلم ساز نے استفادہ کیا۔اس صنف پر لکھنے والے بے شمار ہیں،لیکن انہوں نے اس کی بنیاد رکھی اور ان کے چند ہم عصروں نے اس انداز کو مزید آگے بڑھایا، ان میں ’’گولونگ‘‘اور’’جن یونگ‘‘ کے ساتھ ساتھ’’ لیانگ یوشینگ‘‘ شامل ہیں۔

ان کے ناول’’ٹہلنے والا شیر اور چھپا ہوا اژدھا‘‘ پر تائیوان کے عالمی شہرت یافتہ فلم ساز’’اینگ لی‘‘ نے اسی نام سے فلم بنائی ، جس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اس فلم کا اسکرین پلے تین رائٹرز نے مل کر لکھا، فلم ساز’’اینگ لی‘‘ اس فلم کے ایک پروڈیوسر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر بھی تھے اور جداگانہ طور پر مغربی سینما میں بھی اپنا بلند مقام رکھتے ہیں۔ اس فلم کی تخلیق میں مشرق اور مغرب کی سینما صنعت کے کئی بڑے فلم ساز ادارے شامل ہوئے، جن کا تعلق چین ، تائیوان اورامریکا جیسے ملکوں سے ہے۔ 17 ملین ڈالرز سے بننے والی اس فلم نے 213 ملین ڈالرز سے بھی زیادہ کا بزنس کیا اور امریکا کی تاریخ میںمہنگی ترین غیرملکی فلم کاشاندار ریکارڈ بناکر سب کو حیران کردیا۔

اس فلم کے اداکاروں میں بھی مختلف قومیت کے فنکاروں نے کام کیا، جن میں ہانگ کانگ، تائیوان، چین اور ملائشیا سے تعلق رکھنے والے فنکار ہیں، ان میں ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے اداکار’’چائے یون فاٹ‘‘ تو مارشل آرٹ کے موضوعات پربننے والی فلموں میں وہی مقام رکھتے ہیں، جس پر کبھی بروس لی فائز تھے یا اب موجودہ سینمامیں’’جیکی چن‘‘ جو مقام رکھتے ہیں۔ یہ فلم 2000 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اور آسکر ایوارڈز کے دس شعبوں میں نامزد ہوئی، جن میں سے بہترین غیر ملکی فلم سمیت چار آسکر ایوارڈز اپنے نام کیے۔ 

مارشل آرٹ کے موضوع پر بننے والی فلموں کے تناظر میں یہ فلم رجحان ساز ثابت ہوئی، اس فلم کو بناتے وقت فلم ساز ’’وانگ دولو‘‘ کی زوجہ سے بھی ملے۔ اس کہانی کا مرکزی خیال خیر اور شر کی لڑائی ہے، جس میں آخرکار جیت خیر ہی کی ہوتی ہے۔ ذیلی موضوعات میں اچھی اور بری خواتین کا تقابل، استاد کا شاگرد سے رشتہ اور روحانی آزارشامل ہیں۔

آج کے جدید چین میں’’وانگ دولو‘‘ ایک معتبر ادیب کا نام ہے، ان کے ناولوں میں کئی فلمیں بن چکی ہیں، ان کے کرداروں اور کہانیوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے،انہوں نے طویل گمنامی کی زندگی گزاری لیکن ادب سے سچی لگن نے ان کو صلہ دیا، ان کو عالمی ادب میں یاد رکھا جائے گا۔