آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارت کا اروناچل پر غیر قانونی قبضہ

چین اور بھارت کی حالیہ بد مزگی کو صرف کسی وقتی حکمت عملی یا طیش کی کیفیت قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کسی چھوٹے سے علاقے پر ہیںدرحقیقت دونوں ممالک میں اختلافات کی جڑیں برصغیر میں برطانوی نوآبادیاتی دور سے جڑی ہوئی ہیں اور چین ایک مضبوط پس منظر کے ساتھ بھارت کے زیر قبضہ اروناچل پردیش جو درحقیقت جنوبی تبت ہے، پر دعویٰ ملکیت رکھتا ہے۔ اس دعوے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے کبھی بھی اس حوالے سے کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا اور وہ ہمیشہ اپنے اس موقف پر قائم رہا ہے کہ تبت چین کا حصہ ہے اور چین برطانوی نوآبادیاتی دور سے لیکر آج تک اپنے اس دعوے پر مضبوطی سے جما ہوا ہے۔ یہ بات واضح رہنا چاہیے کہ تبت چین کا حصہ ایک طویل عرصے سے ہے اور جب میں تبت کا ذکر کر رہا ہوں تو دہراتا چلوں کہ اس سے میری مراد موجودہ تبت اور جنوبی تبت دونوں ہیں۔جنوبی تبت پر اس وقت بھارتی قبضہ ہے، بھارت اس کو اروناچل پردیش کہتا ہے۔ Qing خاندان کی بادشاہت کے اختتام جو 1913ء میں ہوئی، تک تبت چین کا حصہ رہا لیکن جب برطانیہ کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا تو برطانیہ نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنا شروع کر دی۔ برطانیہ کی مہم جوئی کا احساس چین کی حکومت کو ہو گیا اور اس نے اپنے دفاع کا اہتمام شروع کر دیا۔ یہ Qingکی چین میں بادشاہت کا دور تھا لہٰذا انگریز سرکار کو سمجھ آ گئی کہ ان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس پر ابھی قبضہ کر سکیں۔ جب صورتحال گمبھیر ہونے لگی تو چین اور برطانیہ دونوں مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے۔ برطانوی نوآبادیاتی حکومت اور چین نے 1890ء میں کلکتہ کے مقام پر مذاکرات کیے اور ایک معاہدہ طے پایا جو معاہدۂ کلکتہ 1890ء کہلاتا ہے۔ اس معاہدے میں انگریز سرکار نے تبت پر چین کی حاکمیت کو تسلیم کیا اور تبت کو چین کا حصہ مانتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو روک دیا۔

گزشتہ صدی کے آغاز میں چین میں ایک سیاسی بے چینی موجود تھی، انگریز سرکار نے اس بے چینی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور 1903ء میں تبت پر حملہ کر دیا۔ یہ مہم 1903ء سے 1904ء تک جاری رہی مگر تاجِ برطانیہ کے لیے تبت پر قبضہ کرنا ممکن نہیں ہو پا رہا تھا لہٰذا 1904ء میں تبت کی مقامی حکومت کے ساتھ انگریزوں نے معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کو Treaty of Lhasaکے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس معاہدے میں بھی انگریزوں اور تبت کی مقامی حکومت نے تبت کے چین کا حصہ ہونے اور اس پر چین کی حاکمیت کو تسلیم کیا۔ البتہ اس معاہدے میں برطانیہ کو تجارتی مراعات دیدی گئیں۔ اس معاہدے کے تسلسل کے طور پر انگریزوں اور چین کے درمیان 1906ء میں ایک اور معاہدہ ہوا اس معاہدہ میں ازسرنو اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ تبت چین کا حصہ ہے۔ ان دنوں کے برطانوی سرکار کے جاری کردہ سرکاری نقشوں میں تبت کو چین کا حصہ ہی دکھایا گیا ہے۔ معاملہ درحقیقت اس کے بعد خراب ہوتا ہے، 1913ء میں چین میں سیاسی افراتفری اپنے عروج پر پہنچ گئی اور Qingخاندان کی بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا تو چین کی مرکزی حکومت کمزور پڑ گئی، مقامی حکومتوں نے چھوٹی ریاستوں کا درجہ حاصل کر لیا، اس کی بہترین مثال ہمارے ہاں مغلوں کے زوال کے بعد کا ہندوستان ہے۔ تبت میں بھی مقامی حکومت خود سر ہوگئی۔ تاک میں بیٹھے انگریزوں کو اسی وقت کا انتظار تھا، لہٰذا اب ان کے سامنے تبت کی ایک چھوٹی سی کمزور ریاست تھی، سرحدوں کے تعین کے نام پر انگریز سرکار نے 1914ء میں شملہ میں 10فریقی مذاکرات کا انعقاد کیا۔تبت کی مقامی حکومت انگریزوں سے بہت ڈرتی تھی، انگریزوں نے اس ڈر کا فائدہ اٹھایا اور Tawangاور تبت کے جنوبی علاقے (موجودہ اروناچل پردیش) زبردستی اپنی عملداری میں شامل کر لیے اور مقامی حکومت سے بھی اس معاہدے پر دستخط کروا لیے۔ چین نے اس معاہدے کو، جسے شملہ کنونشن 1914ء کہتے ہیں، تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ برطانیہ نے تبت پر قبضہ جما لیا مگر اپنی سیاسی حالت کی وجہ سے شملہ کنونشن کو دو عشروں کے بعد شائع کیا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ یہ امر ہے کہ 1935ء تک برطانوی ہند کے سرکاری نقشوں میں جنوبی تبت یعنی موجودہ اروناچل پردیش کو ہندوستان میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ انگریز سرکار نے 1935ء کے بعد کے سرکاری نقشوں میں اس علاقے کو برطانوی ہندوستان کا حصہ دکھانا شروع کیا تھا۔ آخر برطانیہ تبت پر قبضہ کیوں کرنا چاہتا تھا، جہاں اس کا جواب توسیع پسندی کی خواہش ہے، وہیں پر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانیہ اس راستے تجارت کرنا چاہتا تھا اسکے علاوہ برطانیہ روس سے خائف رہتا تھا۔ اس لیے برطانیہ کی خواہش تھی کہ تبت ایک بفر اسٹیٹ کے طور پر وجود میں آ جائے اور اس کو روس کا براہِ راست مقابلہ نہ کرنا پڑے۔ برطانیہ کے جانشین بھارتی حکمران بھی قبضہ کرنے پر یقین رکھتے تھے اور رکھتے ہیں لہٰذا انہوں نے جنوبی تبت کو چین کے حوالے کرنے کے بجائے اس پر قبضہ برقرار رکھا، جب کسی کے حق پر قبضہ کیا جائے گا تو پھر کسی وقت وادی گلوان والے واقعات بھی پیش آئیں گے۔