آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک بات جواچھی ہورہی ہےوہJIT رپورٹ کاپبلک ہونا ہے،تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ نے سوال کیا کہ ناصر حسین شاہ اور مرتضی وہاب کی پریس کانفرنس، عزیر بلوچ، نثارمورائی اور سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر لانے کا اعلان ، کیا علی زیدی کو مرتضیٰ وہاب کا چیلنج قبول کرنا چاہیے اس حوالے سے تجزیہ کاروں نے کہا کہ ایک بات جواچھی ہورہی ہےوہJIT رپورٹ کاپبلک ہوناہے۔

دونوں ہی آدھا سچ بول رہے ہیں پورا سچ نہیں بول رہے ،عزیر بلوچ اپنی مرضی سے پولیس افسر تبدیل کر دیتے تھے لیکن رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس شخص کی منظوری پر وہ ایسا کرتے تھے۔سنیئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ دونوں ہی آدھا سچ بول رہے ہیں پورا سچ نہیں بول رہے علی زیدی کو معلوم ہونا چاہیے ذوالفقار مرزا ان کے سرپرست رہے ہیں جو آج ان کے اتحادی ہیں عزیر بلوچ کی جی آئی ٹی کی بات کی جائے تو قانونی طور پر جی آئی ٹی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔

جی آئی ٹی میں نام نہیں ہیں بیان حلفی میں پیپلز پارٹی کے کئی لوگوں کے نام ہیں۔ مرتضی وہاب کو سوچنا چاہیے 2008-11 تک عزیر بلوچ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے زیر اثر کارروائیاں کرتا رہا اور یہ کھلی بات ہے ذوالفقار مرزا کھلے عام کہتے تھے کہ پیپلز امن کمیٹی کو میں نے اسلحہ کے لائسنس دیئے بجائے اس کے آپ ایم کیو ایم کے مبینہ عسکریت پسند گروپ کو قانون کے ذریعے ختم کرتے آپ نے دوسرا طریقہ اپنایا۔

نوازشریف جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے جنرل شفیق الرحمٰن کی سربراہی میں ایک مشن یہاں بھیجا تھا اس زمانے میں سمیع اللہ مروت عرفان اللہ مروت کا ایک واقعہ ہوا تھا بہت سی شکایات تھیں یعنی پولیس میں جو بھرتیاں اورجرائم ہوتے رہے ہیں پولیس جن جرائم کی سرپرستی کرتی ہے وہ چاہے آپ عزیر بلوچ کا اعترافی بیان اٹھا لیں یا جنرل شفیق الرحمٰن کے بیان اٹھا لیں جب ہم یہ بات کرتے ہیں تو علی زیدی کو چاہیے جس طرح جنرل شفیق الرحمٰن کا کمیشن بنا تھا آپ بھی بنا دیں۔

نبیل گبول نے آصف زرداری کو 2008 میں متنبہ کیا تھا کہ عزیر بلوچ کو سپورٹ کر کے غلطی کر رہے ہیں۔سنیئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ بانی متحدہ کی کہانی دیکھ لیں ہڑتالیں قتل و غارت ، عزیر بلوچ، رحمٰن ڈکیت ، ارشد پپو سانحہ بلدیہ فیکٹری اور نہ جانے کیا کیا جو جو کہانیاں سنا گئے یا سن رہے ہیں جیسے اُن باتوں پر کچھ نہیں ہوا ویسا ان جے آئی ٹی رپورٹ پر بھی کچھ نہیں ہونا بس چند دنوں کا شور ہے۔ 198 لوگوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے اپنی مرضی کے ایس ایچ او لگواتے تھے اور ہتھیار 2008-12 تک کیسے خریدے یہ ایک ایسی خوفناک کہانی ہے۔

ایران سے پیدائشی سرٹیفکیٹ بنوایا، شناختی کارڈ بنوایا ،پاسپورٹ لینے کا اعتراف ہے، ملا منصور ایران سے نکلتے ہیں ،کلبھوشن ایران سے نکلتے ہیں عزیر بلوچ سارا کچھ ایران سے بنواتے ہیں۔کچھ ثابت نہیں ہونا عزیر بلوچ آتے رہیں گے الطاف پیدا ہوتے رہیں گے یہ اس ملک کی بدنصیبی ہے ۔تجزیہ کار محمل سرفراز نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا نام جے آئی ٹی رپورٹ میں تو نہیں ہے ۔

چیلنج انہیں قبول کرنا چاہیے کیا ان کے پاس ثبوت ہے یا کس بنیاد پر انہوں نے بات کی ایک بات جو اچھی ہو رہی ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ پبلک ہو رہی ہیں۔

تجزیہ کار بینظر شاہ نے کہا کہ بی بی سی کی ایک رپورٹ آئی تھی اس میں کہا گیا ہے کہ جی آئی ٹی میں نہ ہی آصف زرداری کا نام ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کی قیادت کا نام ہے کہ وہ اس میں ملوث تھے ۔ جے آئی ٹی میں لکھا ہے کہ عزیر بلوچ اپنی مرضی سے پولیس افسر تبدیل کر دیتے تھے لیکن رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس شخص کی منظوری پر وہ ایسا کرتے تھے ۔

شیخ رشید جب سے وزیر بنے ہیں اتنے حادثات ہوچکے ہیں وہ کبھی استعفیٰ دیں گے۔تجزیہ کار ریما عمر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سی جھوٹی رپورٹس گھوم رہیں تھیں اس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام لکھا ہوا ہے اور پی ٹی آئی کے لیڈران کا جو ریکارڈ ہے اگر ان کے مطلب کی بات ہو تو وہ بغیر تصدفیق کے مان لیتے ہیں۔  

اہم خبریں سے مزید