آپ آف لائن ہیں
منگل20؍ذی الحج 1441ھ 11؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ناموس کے لغوی واصطلاحی معنیٰ کی تحقیق

تفہیم المسائل

سوال: ہم ’’ناموسِ رسالت ﷺ‘‘کے کلمات اکثر استعمال کرتے ہیں، اس ضمن میں سوال یہ ہے کہ ناموس کےکیا معنیٰ ہیں؟(عبداللہ ، پشاور)

جواب: ناموس کا لفظ مؤنث ہے ، یہ لفظ عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں موجود ہے ،ماہرِ لُغت علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں:’’ عربی میں اس کے معنیٰ ہیں : ’’شیر کی کمین گاہ ، پس یہ شیر کی کچھار کے مشابہ ہے ، اس کے معنیٰ ’’علم کا برتن ‘‘بھی ہے ، جبرائیل امینؑ کو بھی ناموس یا ناموسِ اکبر کہتے ہیں ، اہلِ کتاب اُنہیں اسی نام سے تعبیر کرتے تھے ۔حدیثِ بعثت میں ہے : جب رسول اللہ ﷺ پر پہلی وحیِ ربانی نازل ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو لے کر وَرَقہ بن نوفل کے پاس آئیں ، وہ رشتے میں آپ کے چچا زاد بھائی لگتے تھے اور مذہباً نصرانی تھے ، اُنہوں نے تورات وانجیل پڑھی ہوئی تھیں ،پس اُنہوں نے کہا: ’’آپ جو بیان کرتی ہیں ،اگر یہ سچ ہے ،تو ان کے پاس وہ ناموس ضرور آئے گا ،جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور ایک روایت میں ہے : ناموسِ اکبر آئے گا ، ابو عبید نے کہا: ناموس بادشاہ کے راز داں یا اُس مُقرّب شخص کو کہتے ہیں جو اس کے راز اور اندرونی اُمورپر مُطلع ہو ، ایسی چیزیں جنہیں وہ دوسروں سے چھپانا چاہتاہے ، اِسے بطورِ خاص بتاتاہو، اسی لیے کسی شخص کے رازداں کو بھی اُس کی ناموس کہتے ہیں ۔

ایک قول کے مطابق ’’اُمورِ خیر کے رازداں ‘‘کو ناموس اور اُمورِ شَر کے رازداں کوجاسوس کہتے ہیں ، ظاہر ہے ناموس سے وَرَقہ کی مراد جبرائیل علیہ السلام تھے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں وحی اور غیب کے اُن امور پر مطلع کیاتھا ، جن پر دوسرے مُطلَع نہیں تھے ۔ (لسان العرب:جلد 6،ص: 244)علامہ مرتضیٰ زبیدی لکھتے ہیں:ترجمہ:راہب کے گھر ،علم کے برتن اور راز کو ناموس کہتے ہیں،(تاج العروس:جز:16،ص:584)‘‘۔

ترجمہ:’’عَمروبن عاصؓ نے حَبشہ کے بادشاہ اَصحمہ بن ابجر نجاشی سے عَمْروبِن اُمَیَّۃ اَلضَّمْرِی کی سپردگی کا مطالبہ کیا تو نجاشی نے کہا: ’’تم مجھ سے اس شخص کے نمائندے کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہو تاکہ تم اسے قتل کرو ، یہ تو اُس شخص کا پیغام رساں ہے ،جن کے پاس وہ ناموسِ اکبر (جبرائیلِ امینؑ) آئیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتے تھے ‘‘ ۔ عَمروبن عاصؓ بیان کرتے ہیں:میں نے نجاشی سے کہا:’’ اے بادشاہ !کیا یہ سچ ہے؟، نجاشی نے کہا:اے عمرو ! تجھ پر افسوس ہے ،میری بات مان لو اور ان کی اتباع کرو، کیونکہ بخدا یہ حق پر ہیں ،یہ اپنے مخالفین پر غلبہ پائیں گے ، جیسے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے لشکر پر غلبہ حاصل ہواتھا ‘‘۔ عَمرو بن عاص ؓبیان کرتے ہیں : میں نے کہا:ان کی طرف سے اسلام پر میری بیعت لیجیے، نجاشی نے کہا: بہتر ، پس نجاشی نے اپنا ہاتھ بڑھایا اورمیں نے اسلام پر ان کی بیعت کی،پھر میں نکل کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا، میری رائے اُن کے بارے میں قائم ہوچکی تھی ، لیکن میں نے اپنے اسلام کو اپنے ساتھیوں سے چھپائے رکھا ،پھر میں اسلام قبول کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا ، تو میری ملاقات خالد بن ولید سے ہوئی اور یہ فتح مکہ سے پہلے کا واقعہ ہے اور وہ مکہ سے آرہے تھے ، میں نے اُن سے کہا: ابو سلیمان! کدھر کا ارادہ ہے ، اُنہوں نے کہا: واللہ ! راستہ سیدھا ہوگیا ہے بے شک یہ شخص نبی ہے ، بخدا میں جاکر اسلام قبول کروں گا ۔ عَمر وبن عاصؓ بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: میں بھی اسلام قبول کرنے ہی کے لیے آیا ہوں ،وہ بیان کرتے ہیں : پس ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے ، خالد بن ولید نے پہل کی ،وہ اسلام لائے اور بیعت کی ، پھر میں قریب ہوا ، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں اس شرط پر بیعت کرنا چاہتاہوں کہ میرے ماضی کے گناہ معاف ہوجائیں ، عَمروبن عاصؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عَمر و بیعت کرو ، کیونکہ اسلام ماضی کے گناہوں کو مٹادیتاہے اور ہجرت ماضی کے گناہوں کو مٹادیتی ہے ، وہ کہتے ہیں : پس میں نے بیعت کی اور میں چلاگیا ، (مُسندِاحمد:17777)‘‘۔

(جاری ہے)