آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ تو ہم جانتےہیں کہ خاندان کچھ افراد سے مل کر بنتا ہےاور یہ افراد ایک ہی چھت تلے مل جل کر مختلف رشتوں میں جڑ کر اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔ عموماً یہ خاندان والدین کی سر پرستی ہوتے ہیں ۔ہر ماں باپ کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا گھر بنائے ، جس میں ان کے بچے محفوظ اور مل جل کر آرام دہ زندگی بسر کریں ۔دنیا کی دھوپ چھائو ں اور ماحول کی سردی گرمی سے سائبان ان کے بچوں کو محفوظ رکھیں ۔ اس سائبان کی تمام تر بنیادیں گھر کے تمام افراد کے اتحاد واتفاق سے جڑی ہوتی ہیں ۔یہ اُس وقت تک ہی مضبوط رہتا ہے جب تک اہل خانہ خلوص اور اپنائیت کے ساتھ مل کر رہتے ہیں ۔دنیا کی سطح پر معاشرہ دو خاندانی نظام میں بٹ چکا ہے ۔

ایک اتحاد واتفاق سے عاری خاندان جسے الگ تھلگ کا نام دیا جاتا ہے۔ خاندانی غم و خوشی سے دور ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ ایک یا دو افراد اپنے بچوں کے ساتھ باقی خاندان سے کٹ کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ عموماً انہیں آزاد زندگی سمجھا جاتا ہے، جس کی شرح وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔اوراب لوگ آزاد زندگی گزار نا ہی پسند کرتے ہیں ۔ دوسرا خاندان وہ ہے، جس میں سب گھر کے بزرگ بچے نوجوان سب مل جل کر رہتے ہیں۔ 

سب کا اپنا مقام و مرتبہ ہوتا اور اپنی اپنی حدود و قیود میں وہ آزاد بھی ہوتے ہیں مقید بھی۔اگر ہم گزشتہ وقت کے گھروں اور حویلیوں کا مطالعہ کریں تو ان خاندانوں کو ایک چھت کے نیچے ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہوئے پائیں گےاورمشترکہ خاندانی نظام تقریباً ہر گھر میں رائج تھا۔ جہاں ڈھیروں افراد ایک خاندان کی طرح ایک چھت تلے سکون اور مزے سے زندگی بسر کرتے نظر آتے تھے ان کے دکھ سانجھے اور خوشیاں اپنائیت بھری ہوا کرتی تھیں۔ ایک کو چوٹ لگتی تو پورے گھر میں فکر اور درد کی لہر دوڑ جاتی۔ 

اگر ایک فرد خوش ہوتا تو پورا گھر اس کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہر فیصلے میں بڑے بزرگوں کی رائے سر تسلیم خم ہوتی ۔ آپس میں رشتوں کی ڈور نہایت مضبوط ہوتی۔ نہ ہنسی کسی سے چھپی رہتی اور نہ ہی درد کسی سے بے خبر ہوتا۔ ہنستے مسکراتے یہ لوگ رشتوں کو اپنے خون سے سینچتے اور ایک ہی خاندان کا حصہ ہوتے تھے۔ یوں سمجھ لیا جائے کہ جیسے گھر ایک مرکز ہوتا تھا اور پورا خاندان چھوٹے بچوں سے لے کر بڑوں تک سب اس ایک چھت کے تلے ایک ساتھ رہتے تھے۔مگر جیسے جیسے وقت گزررہا ہے ویسے ویسے ہم اس اتفاق و اتحاد کی نعمت اور مشتر کہ خاندانی نظام سے محروم ہورہے ہیں۔ 

اب یوں لگتاہے کہ جیسے ہم اکیلے ہوکر رہے گئے ہیں۔ ایک یا دو کمرے کے الگ تھلگ مکان میں قید و بندی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ خاندانی محبت اور خلوص کا شیرازہ ہم نے مغرب کی تقلید میں بکھیر کر رکھ دیا ہے۔علیحدہ مکان کی سوچ ہمیں سمندر پار سے ملی ہے۔ مغرب زدہ معاشرے نے اپنے عزت و احترام کے قابل والدین اور بڑے بزرگوں کو گھر کے لئے ناکارہ قرار دے کر ان کے لیے ’’اولڈ ہوم‘‘ بنائے اور پھر انہیں وہاں زندگی بھر کے لیے چھوڑ آئے۔ کبھی کبھار جا کر ان سے مل آئے ورنہ سالانہ بنیادوں پر والدین کا دن منا کر اپنی محبت کا ثبوت دے دیا۔

لاشعوری طور پر شاید ہم بھی اپنے والدین اور اس خاندانی نظام سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اس قدر خود ساختہ مجبوریاں اور مصروفیات بناڈالی ہیں کہ والدین کے لئے وقت نکالنا بھی مشکل لگتا ہے۔شایدہم بھولتے جارہے ہیں کہ ہم اتنی بڑی نعمت سے محرومی کی طرف جارہے ہیں۔ یہ وہ نعمت ہے کہ جسے ہم برسوں بھی ڈھونڈنے نکلیں تو شاید کبھی نا پا سکیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں یہ دور جدت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ 

اس دور کے بچے نوجوان سب ایڈوانس ہوگئے ہیں ،تاہم اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ آج بھی گھروں میں بچوں کو بہلانے، لوریاں سنانے، کلمے یاد کرنے اور انہیں اخلاق آموز قصے کہانیاں سنانے کے لیے بوڑھی دادیوں کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی پہلے ہوا کرتی تھی ۔ جنہیں آج ہم جزو نکارا کی طرح خود سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں زندگی کے راستے پر بچوں کا پہلا قدم اٹھوانے کے لیے بوڑھے دادا کی انگلی آج بھی انہیں جذبوں کے ساتھ سرشار ہے۔ محبت سے گندھے ان رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی جو اپنے محبت بھرے لمس سے ننھے منے دلوں کو مسرت بخشتے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی انگلیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر زندگی کے راستے پر اعتماد سے قدم اٹھانا سکھاتے ہیں۔ دادا، دادی، پھوپھی، چچا یہ وہ رشتے ہیں جو خونی رشتے ہونے کے ساتھ ساتھ مخلص اور اپنائیت بھرے ہوتے ہیں۔معاشرہ پسماندہ ہو یا ترقی یافتہ اس میں رہنے اور زندگی گزارنے کے کچھ آداب طور طریقے اور اصول ہوتے ہیں۔ دور حاضر میں ہونےوالی ترقی نے دنیا کے کئی انسانی معاشروں کو آپس میں مدغم کردیا ہے ۔ 

اس وجہ سے بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے ہماری معاشرتی اور ثقافتی قدریں بدل گئیں ہیں ،مشترکہ خاندانی نظام آج کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہے، آج اس جدید دور کے لوگ الگ الگ زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں ،اسی لیے ان میں عدم برداشت اور تنہائی کا احساس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ مل جل کر رہنے میں برکت سمیت دیگر بہت سے فائدے پنہاہیں۔ 

یہ وہ بے لوث رشتوں سے بندھا خاندانی نظام ہوتا ہے کہ جو ہماری زندگی کی رفتار کو سہل بناتا ہے۔ہمارے غموں اور پریشانیوں کو بانٹ کر ہمیں مایوسی جیسے ماحول میں جانے سے بچاتا ہے۔ اس خاندانی نظام سے بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی ہوتی ہے۔ ماں باپ سارا دن اپنے اپنے حصے کی ذمے داری نبھاتے ہیں اور بچوں کی طرف سے غافل ہوجاتے ہیں۔ بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے اگر ان کو مناسب محبت اور توجہ نہ ملے تو بچے دوسری غیر اخلاقی سرگرمیوں میں پڑ جاتے ہیں۔ 

یہ خاندانی نظام بچوں کے لئے بہترین تربیت گاہ اور توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔دور حاضر کے نوجوان مشترکہ خاندانی نظام سے گھبراتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ذاتی زندگی ہے جو آج کے ہر بڑے چھوٹے کے لیے ضروری ہوگئی ہے، شاید اس وجہ سے چور راستے نکل آئے ہیں۔ مشاہدہ کرنے پر یہی بات سامنے آتی ہے کہ الگ رہنے سے بہت سے مسئلوں نے جنم لیا ہے ۔ اس سے ذمہ داریاں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔ 

وہی رشتوں میں دوری اور بے حسی عروج پر پہنچ چکی ہے مشینی انداز میں زندگی گزارتے یہ لوگ آپس کے خلوص پیار و محبت سے دور ہوگئے ہیں۔ ذہنی تھکاوٹ ، عدم برداشت اور متعدد امراض میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ تبدیلیاں زندگی کا نا گزیز حصہ ہے لیکن فیملی کے ساتھ مل جل کر رہنے سے رشتوں میں اپنائیت کا احساس اور تعلق ہمیشہ قائم رہتا ہے۔اور زندگی کی بڑی سے بڑی مشکل کا مقابلہ ڈٹ کر کرنے کا حوصلہ ملتا ہے ۔