آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سرکاری میڈیا کے سرمایہ کاروں کوبھاری سرمایہ کاری کی تاکید کے بعد چین کے اسٹاک میں اضافہ

ہانگ کانگ: ڈینیئل شین

بیجنگ: ڈان وین لینڈ

چین کی اسٹاک مارکیٹ نے پیر کو ایک سال سے بھی زیادہ عرصے میں اپنا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جب سرکاری میڈیا نے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ میں بھرپور سرمایہ کاری کرنے اور کورونا وائرس کے بعد معاشی عروج کے ثمرات حاصل کرنے کی ترغیب دی۔

سرکاری شنگھائی سیکیرٹیز نیوز نے جمعہ کو ’’ہاہاہاہاہاہا‘ کے عنوان سے اسٹوری دی،یہ اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ میں مزید اور مزید اضافہ واضح ہے۔پیر کو سنہوا نیوز ایجنسی کی ایک اسٹوری میں کہا گیا کہ سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں ملاقاتیں کررہے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر چلنے والے چائنا سیکیرٹیز جرنل میں پیر کو صفحہ اول کے اداریے نے مارکیٹ میں صحت مند اضافے کے امکان پر بات کی، انہوں نے مزید لکھا کہ سرمایہ کار بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دولت پر اثرات کی توقع کرسکتے ہیں۔

ملک کے شنگھائی اور شینزین کے لسٹڈ حصص CSI 300 انڈیکس تجارتی حجم کی حالیہ اوسط سے دگنا سے بھی زیادہ کے ساتھ 5.7 فیصد پر پہنچ گیا۔ سی ایس آئی 300 کے 280 سے زیادہ حصص مثبت علاقےمیں ختم ہوئے ، جبکہ بہت سے بینک اور بروکریج فرم روزانہ زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک بڑھ گئیں۔ لیڈر بورڈ میں مالیاتی شعبے میںمجموعی طور پرنو فیصد اضافہ ہوا۔

بلومبرگ کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ چین میں مارجن لون ، جہاں بروکرز گاہکوں کو اسٹاک کی خریداری کے لئے فنڈز مہیا کرتے ہیں،2015 کے بعد سے وہ اپنی اعلی سطح پر ہیں۔

راببوبانک میں ہانگ کانگ نژاد اسٹرٹیجک مائیکل ایری نے کہا کہ اضافے کا یہ طریقہ کار حیرت انگیز تک خطرناک ہے۔جب آپ حقیقی دنیا کی پریشانیوں پر غور کریں تو ایک روز میں 6 فیصد کے قریب اضافہ آنکھیں کھولنے والا ہے۔

ہانگ کانگ میں ہینگ سینگ انڈیکس مارکیٹ کی تیزی کی فنی تعریف کو پورا کرتے ہوئے 8.3 فیصد اضافے یا حالیہ گراوٹ کی شرح سے 20 فیصد کے ساتھ بند ہوا۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں خوردہ سرمایہ کار جو مین لینڈ کی ایکویٹی مارکیٹ کی ایک غالب طاقت ہیں،کووڈ19 وباء کے پھیلاؤ کو قابو کرنے کے بعد ملک کی معاشی بحالی کی رفتار کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔تاہم دیگر تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے وقت سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے قیمتوں میں اضافے سے متعلق کوششوں سے سرمائے کی پرواز کے خدشات کی عکاسی ہوتی ہے۔

بروکرز نے پیر کے روز حکومت کی نام نہاد قومی ٹیم کے حمایت یافتہ خریداروں کے ذریعے سرگرمیوں کے آثار کو نوٹ کیا،جو غیر یقینی صورتحال کے اوقات میں مارکیٹ میں آگے آنے اور مارکیٹ کی مدد کرنے کے حوالے سے معروف ہیں۔ایک نے مین لینڈ مارکیٹوں میں غیرمعمولی طور پر زیادہ تجارتی حجم اور سرکاری اداروں کی انشورنس کمپنیوں کے اسٹاک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافےکی نشاندہی کی ، جو ایسے اداروں میں مقبول تجارت ہے۔

میزوہو بینک کے حکمت عملی کے ماہر کین چونگ نے کہا کہ چینی تاجر اب مزید اشارے کیلئے سرکاری میڈیا دیکھیں گے،انہیں دوبارہ پرانی کیفیت پر واپس آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے مارکیٹ میں تیزی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید