آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جامعہ سندھ کی املاک ،مافیا نے2ہزارایکڑ رقبےپر گھرو دکانیں تعمیرکر دیں

حیدرآباد( نمائندہ جنگ) جامعہ سندھ کی املاک پرقبضہ خوروں کی نظر،2ہزار ایکڑ رقبے پر مافیا نے گھر اور دکانیں تعمیر کردیئے،یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ،چیف سیکریٹری،ڈپٹی کمشنر جامشورو اور دیگر متعلقہ ذمہ داران کو سرکاری اراضی خالی کروانے کے لیے بارہا درخواستیں ارسال کی جاچکی ہیں، لیکن کوئی تدارک نہ ہوسکا، جبکہ اینٹی کرپشن کی رپورٹ پر بھی من و عن عملدرآمد کرنے کے بجائے اس کو سرد خانے کی نذر کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع جامشورو میں سرکاری املاک پر قبضے کرنا معمول بن گیا ہے،لیکن محکمہ ریوینیو،کمشنر حیدرآباد اور ڈپٹی کمشنر جامشورو دفاتر کے متعلقہ افسران قبضہ مافیا کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں،جامعہ سندھ کے باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے 1951اور 52میں جامعہ سندھ کے نام پر دیہہ موڑو میں 3ہزار500ایکڑ،دیہہ لاڑ سونو میں 5 ہزار ایکڑ زمین دی گئی تھی،جس میں سے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے 2 ہزار ایکڑ مہران یونیورسٹی اور 450ایکڑ لمس یونیورسٹی کی انتظامیہ کو دی تھی۔ جامعہ سندھ کے ذارئع کے مطابق علامہ آئی آئی قاضی کے دور میں جامعہ کی انتظامیہ نے دیہہ خانپور جاگیر میں 910ایکڑ اور دیہہ رائلو میں 782ایکڑ زمین خریدی گئی تھی اور مذکورہ تمام رقبے پر گھر اور دکانیں بنادی گئی ہیں،جبکہ دیہہ موڑو اور دیہہ لاڑ سونو میں 500 ایکڑ رقبے پر بھی قبضہ کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف سندھ کی انتظامیہ کی جانب سے مختلف ادوار میں حکومت سندھ،چیف سیکریٹری،کمشنر حیدرآباد،ڈپٹی کمشنر جامشورو کو قبضے خالی کروانے کے لیے درخواستیں دی گئیں،مگر تاحال جامعہ سندھ کی زمین پر قبضے برقرار ہیں۔دوسری جانب 2015کے بعد اینٹی کرپشن نے بھی معاملے کی جانچ کرکے رپورٹ تشکیل دی تھی،مگر قبضہ مافیاکو بچانے کےلئے مذکورہ رپورٹ بھی سرد خانے کی نذر کردی گئی۔جنگ کے رابطہ کرنے پر جامعہ سندھ کے وائس چانسلر فتح محمد برفت نے کہا ہےکہ قبضوں کے معاملات ان کے آنے سے بہت پہلے کے ہیں،اس ضمن میں عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں اور ہم کسی صورت سرکاری زمین پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے اور ایف آئی آر بھی درج کروائی جائیں گئیں۔

ملک بھر سے سے مزید