آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پاکستان میں11مئی کو ہونے والے انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی امداد دینے والے مختلف بین الاقوامی اداروں نے یہ سوچنا شروع کردیا ہے کہ یکم جولائی کے بعد پاکستان کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں امریکہ اور یورپ سمیت مختلف ممالک کے سفارتکاروں نے غیراعلانیہ طور پر پاکستان کے موجودہ معاشی حالات کی بہتری اور نئی سیاسی قیادت کے ساتھ معاملات اپنی توقعات کے مطابق ٹھیک رکھنے کی حکمت عملی مرتب کرنا شروع کردی ہے تاکہ پاکستان کو بین الاقوامی مفادات کے ایجنڈے میں مناسب مالی سپورٹ دے کر چلنے پھرنے کے قابل بنایا جائے، ورنہ ان کا خدشہ ہے کہ اگر مستقبل میں دائیں بازو کی سیاسی قیادت کسی نہ کسی طرح اقتدار میں آجاتی ہے تو کہیں اس سے دہشتگردی کے رجحانات میں اضافہ نہ ہوجائے، اس سلسلہ میں انہیں پاکستان کی فوجی قیادت سے بھی بڑی توقعات ہیں کہ وہ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے سرگرم رہے گی۔ خاص کر عام انتخابات کے انعقاد سے قبل مختلف سیاسی اجتماعات یا معتبر شخصیات کو ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے حوالے سے اس نقطہ نظر سے پاکستان کے معاشی ماہرین بھی بڑے فکر مند ہیں جبکہ صنعتی و تجارتی طبقہ یہ توقع کررہا ہے کہ مستقبل میں قائم ہونے والی حکومت کی پہلی ترجیح

معیشت کی بحالی اور توانائی کے بحران کا حل اور گورننس کی بہتری ہوگا۔ اس لئے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ان تینوں شعبوں کی بری کارکردگی نے غریبوں اور بے روزگار وں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ کردیا ہے جبکہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ان معاملات کے حوالے سے کئی دعوے تو کئے ہیں مگر کسی بھی پارٹی نے ان کے حل کے لئے کب اور کیسے کی وضاحت نہیں کی۔اس لئے کہ اس وقت80فیصد سے زائد افراد کسی نہ کسی ایک سے زیادہ معاشی اور سماجی مسائل سے دو چار ہیں جبکہ قوم کی اکثریت کے روزمرہ اخراجات اس کی آمدن سے کئی گنابڑھ چکے ہیں جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی نئی نسل ہے جوعملاً ہماری آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں مگر ان میں اکثریت پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بے روزگار اور بے حال ہیں۔
بین الاقوامی اداروں کو نئے متوقع انتخابات کے پس منظرمیں اس نوجوان نسل کے معاشی مسائل اور روزگار کی فراہمی کے حوالے سے خاصی تشویش ہے اس لئے وہ پاکستان کو مشکل ترین معاشی صورتحال سے نکالنے کے لئے ”ایمرجنسی مالیاتی سپورٹ“ کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں دہشتگردی کے خاتمہ کے حوالے سے نئی حکومت کو موثر اور بروقت اقدامات کرنے میں آسانی ہوسکے۔ یہ ادارے سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت امن و امان کی صورتحال اور گورننس کے معاملات اطمینان بخش نہیں ہیں اس سلسلہ میں وہ نگران حکومتوں کی کارکردگی سے بھی مطمئن نظر نہیں آرہے بلکہ انہیں فکر ہے کہ انتخابات کے ا نعقاد کے موقع پر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہوجائے جس سے انتخابات2014ء میں چلے جائیں حالانکہ بزنس کمیونٹی اس وقت ایک نئی امید کے ساتھ انتخابات میں تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طور پر سپورٹ کررہی ہے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ نگران حکومت آنے کے باوجود ملک میں توانائی کا بحران حل ہونے کی بجائے بڑھتا جارہا ہے۔
دوسری طرف نہ تومختلف اشیاء کی گرانی میں کمی ہوئی ہے اور نہ ہی روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں جس سے اربن اور دیہی آبادی دونوں متاثر ہورہے ہیں۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی حکومت کو بین الاقوامی ادارے جتنی مرضی سپورٹ کریں، وہ ایک متوازن بجٹ کیسے بنائے گی، جسے تقریباً 1200ارب روپے کا بجٹ خسارہ تحفہ میں ملے گا۔ دوسراقومی محاصل کی آمدن کیسے بڑھے گی کیونکہ کسی بھی بڑی سیاسی پارٹی کے منشور میں ٹیکسوں کی آمدن بڑھانے کے لئے کوئی ایسا حل نہیں دیا گیا ہے جس سے ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھ سکے حالانکہ ملکی حالات کا تقاضاہے کہ پارلیمنٹ سمیت تمام بااثر طبقوں کو ٹیکس دینے کی عادت ڈالنے کے لئے قومی سطح پر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں غریبوں کو ریلیف مل سکے۔ وہ ریلیف ایسا نہ ہو جو انرجی سیکٹر یا آٹے وغیرہ کی فراہمی میں دی جانے والی سبسڈی کی طرح نہ ہو جو ملتی تو غریبوں کے نام پر ہے مگر اس کا فائدہ امیر طبقہ زیادہ اٹھاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ملک میں مساوی معاشی نظام لانے کی ضرورت ہے،مگر وہ تو نگران حکومت کے بس کی بات نہیں ہے جو ابھی تک ا پنے وزیر خزانہ کا انتخاب نہ کرسکی۔ وہ ملک و قوم کے معاشی مسائل کا حل کیسے تلاش کریگی، یہی سوال بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور کئی غیر ملکی سفارتکاروں کی محفلوں میں بھی زیر بحث ہے مگر کسی کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے وہ اس صورتحال کا ذمہ دار سیاسی قیادت کی کمزوریوں کو قرار دیتے ہیں جبکہ سیاسی قیادت اس کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال رہی ہے۔