• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت : سسرالیوں نے 4 ماہ کی حاملہ بہو کو قتل کرکے لاش جلادی

فوٹو: بھارتی میڈیا
فوٹو: بھارتی میڈیا 

بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع دھول پور میں 4 ماہ کی حاملہ خاتون کو مبینہ طور پر جہیز کے مطالبات پر اس کے سسرالیوں نے قتل کر دیا۔

ملزمان نے مقتولہ کے والدین کو اطلاع دیے بغیر اس کی لاش جلا دی اور گاؤں سے فرار ہو گئے۔

مقتولہ کی شناخت 24 سالہ گڑیا کے نام سے ہوئی ہے، جس کی شادی پنکج ٹھاکر سے ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گڑیا کو ہفتے کے روز اس کے سسرال، گاؤں انچھاپورا میں قتل کیا گیا، جس کے بعد سسرالیوں نے گائے کے گوبر کے اُپلے جمع کر کے چتا بنائی اور آخری رسومات ادا کر دیں۔

واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب گڑیا کی بڑی بہن نے والدین کو اطلاع دی، جب اہلِخانہ گاؤں پہنچے تو چتا ابھی جل رہی تھی۔ انہوں نے آگ بجھا کر پولیس کو اطلاع دی۔

موقع پر سینئر پولیس افسران اور فارنزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم پہنچی، چتا سے شواہد اکٹھے کیے گئے جبکہ ضلعی اسپتال کی میڈیکل ٹیم نے موقع پر ہی پوسٹ مارٹم کیا، ڈی این اے جانچ کے لیے نمونے بھی لیے گئے۔

پولیس کے مطابق گھر کے اندر خون کے دھبے ملے ہیں جبکہ کلہاڑی، پھاوڑا، لاٹھیاں اور دیگر ہتھیار بھی برآمد کیے گئے۔

فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مقتولہ کے شوہر پنکج ٹھاکر کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر سسرالی رشتہ دار فرار ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔

مقتولہ کے والد دیویندر سنگھ پرمار جو اترپردیش کے ضلع آگرہ کے رہائشی ہیں، نے اپنی شکایت میں بتایا کہ گڑیا کی شادی 28 مئی 2025 کو ہوئی تھی، اور شادی کے وقت 15 لاکھ روپے نقد، موٹر سائیکل، گھریلو سامان اور زیورات دیے گئے تھے۔

ان کے مطابق اس کے باوجود سسرالی کار، سونے کی چین اور بھینس کا مطالبہ کر رہے تھے اور گڑیا کو ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

والد نے یہ بھی بتایا کہ گڑیا 4 ماہ کی حاملہ تھی اور گھر میں کئی کمروں میں خون بکھرا ہوا تھا۔

پولیس اس الزام کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ شوہر گڑیا پر کردار کشی کے شبہے میں تشدد کرتا تھا، ملزم شوہر پولیس حراست میں ہے اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید