آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تحریک انصاف کا دعویٰ: مسئلہ ہی کوئی نہیں پانچ سال پورے کریں گے

وزیراعظم عمران خان کی دیانت اور اخلاص ملک کے لئے کچھ کر گزرنے کی خواہش اپنی جگہ درست ہے مگر ان کی حکومت کے نقائص زبان زد عام اور گڈ گورننس کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران کی حکومت کا المیہ یہ ہے کہ ان کے بعض وزرا نااہل اور سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری ہیں عمران خان کے اچھے کاموں کو ڈبو دیتے ہیں اور ان کا کریڈٹ ملیا میٹ کر دیا جاتا ہے پیٹرول اسکینڈل چینی آٹا سے لگتا ہے عمران خان کی آنکھیں کھول دی ہیں اور انہیں کہنا پڑا جو وزیر اور بیورو کریٹ حکومت کی نیک نامی کے لئے اچھا کام یا اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا۔ 

شکر ہے وزیراعظم صاحب نے نااہل اور کرپٹ وزرا اور مشیروں کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور توقع ہے آئندہ ماہ کے آخر تک کابینہ میں وسیع پیمانے پر ردوبدل ہو گا متعدد وزرا اور نان الیکٹڈ مشیر فارغ کردیئے جائیں گے اور ان کی جگہ منتخب ارکان اسمبلی کو ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ وزیراعظم صاحب کو پیٹرول اسکینڈل کے بعد کابینہ میں تبدیلیاں کر دینا چاہیں تھیں چلو دیر آید درست آید۔ 

کسی وزیر مشیر کو یہ شکوہ نہیں رہے گا کہ انہیں کیوں نکالا۔ پی ٹی آئی حکومت کی خوش قسمتی ہے انہیں انتہائی کمزور اپوزیشن ملی ہے جو نہ اکٹھی ہو سکتی ہے نہ ہی کوئی تحریک چلا سکتی ہے مولانا فضل الرحمان آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی ہے اور بلاول بھٹو کا میاں شہباز شریف کے ساتھ بھی رابطہ ہوا ہے دو تین حکومت کی اتحادی جماعتوں کا بھی آصف زرداری مولانا فضل الرحمان سے رابطہ ضرور ہوا ہے مگر دو بڑی پارٹیاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت نیب کیسوں میں الجھی ہوئی ہیں میاں شہباز شریف کو خطرہ ہے کہ وہ گرفتار ہو جائیں گے اس لئے وہ کسی تحریک کا حصہ بننے سے کترا رہے ہیں مولانا فضل الرحمان کو بھی خطرہ کہ ملک کی دو بڑی پارٹیاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن انہیں ماضی کے دھرنے کی طرح بیچ چوراہے میں نہ چھوڑ دیں وہ وہ پھر کچھ حاصل کئے بغیر کروڑوں کے خرچ کر کے واپس چلے جائیں مسلم لیگ ن کی قیادت بکھری ہوئی ہے مریم نواز خاموش ہیں۔ 

میاں شہباز شریف بھی محض بیانات کی حد تک متحرک ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ورکرز اپنی قیادت سے مایوس ہیں جبکہ پیپلزپارٹی پنجاب میں ابھی اس قدر مقبول نہیں ہوئی کہ وہ تنہا پنجاب میں کوئی موثر تحریک چلا سکے۔ مسلم لیگ ن کی پوری سیکنڈ لیڈر شپ نیب کیسوں میں جکڑی ہوئی ہے یہ بات بھی درست ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام پی ٹی آئی سے بھی خوش نہیں یہ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اپوزیشن سے اس کی حکومت کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔

حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہم پانچ سال پورےکریں گے۔ عمران خان نے ا سمبلی سے خطاب میں مائنس ون کا فلر چھوڑا تھا جس کے بعد اپوزیشن لیڈروں کے چہروں پر ایک مسکراہٹ آئی مگر چند دن بعد یہ مسکراہٹ بھی ختم ہو گئی اپوزیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ بجٹ منظوری نہیں ہونے دیں گے مگر اس میں بھی اپوزیشن کو کامیاب نہ ملی اب اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ حکومت اپنی اکثریت کھو چکی ہے تو پھر عدم اعتماد کا آپشن کھلا ہے وہ کیوں نہیں استعمال کرتے ۔ 

درحقیقت اگر حکومت کی اتحادی دو تین جماعتیں حکومت کو چھوڑ جاتی ہیں تو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے متعدد ارکان حکومت سے رابطے میں ہیں مناسب وقت آنے پر ان کی نقاب کشائی ہوگی جیسے پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مسلم لیگ ن کے سات ارکان اور ایک پیپلزپارٹی کے رکن کو توڑ لیا ہے جونہی کوئی خطرے والی بات ہوئی وہ ارکان حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیں گے۔ 

اس طرح ایک تیر سے دو شکار کئے گئے اس طرح مسلم ق کو بھی پیغام دیدیا گیا ہے کہ آپ کے جانے سے حکومت نہیں گرے گی۔ عمران خان لکی (Lucky) وزیراعظم ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں فوج پوری طرح عمران حکومت کے ساتھ ہیں گزشتہ تین چار چھوٹے چھوٹے فنکشن ہوئے ہیں جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اگر ان تقریبات میں آرمی چیف نہ بھی شریک ہوتے تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ پاک فوج بھی عمران حکومت کے بعض اقدامات سے خوش نہ ہو مگر موجودہ سرحدی حالات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغان امن معاہدے کیوجہ سے پاکستان میں سیاسی تبدیلی فوج کسی صورت درست نہیں سمجھتی۔ 

چین بھارت جنگ کے حالات اور پاکستان کو اس کے فوائد کے باعث ملک میں قبل از وقت الیکشن نہیں ہو سکتے جبکہ پوری قوم کورونا وائرس میں مبتلا ہے ملک سیاسی ہلچل کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا اپوزیشن کو مزید دو سال انتظار کرنا ہوگا پاکستان میں گڈ گورننس کے لئے فوج کے علاوہ عدلیہ بھی میدان میں کود پڑی ہے اور پنجاب کے چیف جسٹس قاسم خان نے پیٹرول اسکینڈل کا نوٹس لیا ہے ایک اعلیٰ سطح کا انکوائری کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ دیا اور اٹارنی جنرل سے کمیشن کے لئے نام بھی مانگے ہیں عدلیہ کی نگرانی میں پیٹرول مافیا کے خلاف تحقیقات ہو گی اور مافیا کو بے نقاب کیا جائے گا ہو سکتا ہے ۔ 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ذمہ داروں کے خلاف سزائوں کا بھی فیصلہ کریں دوسری طرف چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے بھی کرپٹ مافیا کے خلاف جلد از جلد فیصلہ کرنے کے لئے 120احتساب عدالتوں کے قیام کا حکم دیا ہے توقع ہے کہ وزارت قانون جلد ہی اس حکم پر عملدرآمد کرے گی ۔وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ کے حوالے سے نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے اور قومی اسمبلی میں جے آئی ٹی کے حوالے انکشافات کئے ہیں جس سے تہلکہ مچ گیا سندھ حکومت کے وزرا ان کی رپورٹ کو غلط قرار دیا جبکہ حبیب جان بھی کھڑے ہوگئے عزیر بلوچ ان دنوں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں یہ بات تو درست ہے کہ عزیر بلوچ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے بہت قریب رہا ہے اور اس سے کام لیتے رہے ہیں اسی وجہ سے لیاری پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا عزیر بلوچ اور اس کا گینگ بہت طاقتور تھا مگر حبیب خان نے پی ٹی آئی پر بھی الزام لگا دیا ہے کہ کراچی میں عمران خان عزیر بلوچ کی مدد سے جلسہ کرتا تھا۔ یہ بات تو طے ہے کہ انڈیا اور پاکستان میں ایک جیسی سیاست ہے۔ 

بھارت میں بھی ایسے بااثر گروپوں کی مدد اور عیانت سے الیکشن جیتے جاتے ہیں پاکستان کے پنجاب اور سندھ میں بھی اراکین پارلیمنٹ اپنے بدمعاش گروپوں کی مدد سے الیکشن جیتتے ہیں اور یہ گینگ ہر علاقے میں سیاسی شخصیات کے دست و بازو بن جاتے ہیں پھر انہیں کھلی چھٹی مل جاتی ہے جو چاہے کریں پولیس انہیں ہاتھ نہیں لگا سکتی اب تو شریف آدمی الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے جس کے پاس پیسہ اور ایسے غنڈے ہیں وہی الیکشن میں کامیابی حاصل کریں اس وقت چین اور بھارت میں ٹھنی ہوئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے تسلیم کیا ہے کہ جہاں چینی فوج بیٹھی ہے وہ چین کا ہی علاقہ ہے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید