آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ پانچ مہینوں سے کورونا کورونا کا شور دنیا بھر میں تھا۔ موسم کے بدلنے کے ساتھ میڈیا اور سیاست کی لغت بدل گئی۔ ہم نے آتے جانا تو سیکھا ہی نہیں ہے ہم پھر گزشتہ کو یاد کرتے رہے کہ فلاں نے 198؍ بندے مارے، فلاں کو قتل کرنے کے بعد فوراً اس کے نام کا چوک بنادیا گیا۔ بس نہ چلا تو لاش کو بوری میں بند کرکے سڑک کے کنارے پھینک دیا گیا۔ اسی طرح جس کا جی چاہا، اس پلاٹ پر شادی ہال، اس پلاٹ پر جلدی جلدی سات منزلہ بلڈنگ کھڑی کردی، لوگوں کے ہاتھوں رقم بٹوری اور کسی اور ملک میں گھر بسایا۔ الطاف حسین کو دعائیں دیں، اگر کہیں کروڑوں روپے عرضانے کے نہیں ملے تو دیا سلائی کہاں گئی، کیا ہوا 259؍ لوگ جل کر خاک ہوگئے۔ یہاں تو ایک غیر ملکی کمپنی بھی شامل تھی۔ اسے کچھ دے دلا کر لوگوں کے منہ بند کئے، مقدمہ چلتا رہا، وارداتیے کبھی اس ملک میں کبھی نئی شادی میں مصروف رہے۔ کراچی پورٹ جس کے ہاتھ لگی اس نے مہینوں کو دنوں میں بانٹا، جہاز پانی کے ہوں کہ اڑنے و الے سامان لادا، نو دو گیارہ ہوئے۔

جیسے اب یکدم ٹڈیوں کی طرح لفافے، کھلنے شروع ہوئے ہیں۔ کہیں نام اور کہیں بدنامی کا سلسلہ چل نکلا۔ آج مرے کل دوسرا دن، کو ن پوچھتا ہے کہ بے نظیر کے جلوس میں کتنے سینکڑوں مارے گئے، کتنوں کے گھر لوٹے گئے، مارے گئے۔ کتنے صحافیوں کو تحریر کے جواب میں قبر بھی نہ ملی۔ سوچیں بھلا کس کی حکومت تھی۔ میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا کہ ہمارے بہت سے سینئر صاحبان اقتدار نے بھائی کا ساتھ دیا، ان کے ہاتھ کی پکی ہوئی حلیم کھائی، ان کے رنگ میں کڑے پائنچوں کے پاجامے پہنے، گھروں، بازاروں اور ہر گلی میں پتنگ لگائی۔ ستم کی بات یہ ہے کہ سب کو معلوم تھا اور سب دیکھا کئے، ہوتا رہا کہ اخباروں کے دفتروں میں پرنٹر لگادیئے گئے کہ اس پرنٹر پر جو لکھا آئے گا وہی اگلے دن اخبار میں شائع ہوگا۔ احمد علی خان نے بات نہ مانی، باقیوں نے جان کی امان پائی۔

ابھی سوشل میڈیا نہیں آیا تھا مگر ہونٹوں نکلی، کوٹھوں چڑھی۔ گھر گھر، ہر چوک قصہ تھا کہ ارشد پپو کون ہے، عزیر بلوچ کون ہے، لیاری والا کون ہے اور سرخرو ایک ہی شخص نکلا جسے حسن کارکردگی بھی ملا، جس نے برملا سب کے سامنے کہا کہ فلاں کو ہفتہ وار اتنے کروڑ اور فلاں کو اتنا سرمایہ دینا میرا فرض تھا۔ وہ ایسا سلطانہ ڈاکو تھا کہ ادھر ڈوبے، ادھر نکلے، کبھی اس کا نام لیا، کبھی اس کا، مگر وہ تو شاہانہ طرز پر کبھی پولیس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس دھج سے گیاکہ لوگ اس کے چہرے کی طمانیت دیکھ کر حیران ہوتے اور اخبار والے اعلیٰ عہدہ داروں کے ساتھ تصویریں شائع کرکے، خود کوسرخرو کرتے۔ دن مہینے گزرتے، لوگ اس کا نام بھولنے لگتے کہ پھر میڈیا پہ عزیر بلوچ کا نام، اضافے اور پھر نئی پارٹیوں میں ابھرنےوالے، جو پہلے بھی عباس حیدر کی طرح چمکتے تھے، اب پارلیمنٹ میں لفافے لہرانے لگے۔مسلم لیگ کی طرح ، وہ جو ایک پارٹی تھی، اب کہیں پاکستان پارٹی کہیں وطن پارٹی کی شکل میں کوئی یہاں گرا، کوئی وہاں گرا۔ جو بندہ لندن میں مروا دیا گیا۔ اس کے مارنے والوں کے نام تو انگریز فوج بھی نہ سمجھ سکی۔ البتہ ابھرتے سورج کی طرح پھر ٹی وی اسکرین پر عزیر بلوچ پرسکون، طمطراق سے سامنے آنے لگا۔ ادھر لندن میں بیٹھے کارندے شاید بہک کر وہ نام لینے لگے جن کا ذکر ہمارے اداروں میں ممنوع تھا۔ ان لوگوں نے اپنی گڈی چڑھانی چاہی مگر سر چڑھ کر وہی ایک نام ’’عزیر بلوچ‘‘۔

اس پارٹی کا ایسا غلغلہ تھا کہ سڑک پر جاتی ٹیکسی کو جمال، احسانی، ’’جئے مہاجر‘‘ کہہ کر ہوائی جہاز کی طرح روک لیتا تھا۔ وہ بے چارہ تو گزر گیا مگر اب بھی بہت سے ہیں، ان کانام نہیں لیتے، مشاعرے بھی پڑھتے اور ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔ ظاہر نہیں کرتے کہ ہم بھی حلیم کھانے والوں میں تھے۔ہر چند بے شمار شادی ہال اور بلڈنگیں، جو کسی اور کی جگہ پر بنائی، بیچی گئیں۔ بھائی کا نام، میڈیا پر کیا بین ہوا ساری بلڈنگیں گرادی گئیں، نہ کوئی چیخا نہ کوئی بولا کہ سرمایہ تو میںنے لگایا تھا۔ کہ ان میں سے بیشتر لٹیرے جنہیں بھائی کہا جاتا تھا، کوچ کر گئے تھے۔

آج سے پہلے ہرچند پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ مگر حکم بھائی کا چلتا تھا۔ جھنڈا پتنگ پر کونے میں تھا۔ کراچی بے چارہ، ادھر حکومت کرنے والی پارٹی اور دوسری طرف حکومت کرانے والی پارٹی سلطانہ ڈاکوئوں کے ہاتھ میں تھا۔ انکار کرنے کی کسی میں سکت نہیں تھی۔ اب طارق ہو کہ ہارون کہ اظہار الحسن، سب پھر رہے ہیںبے کارواں ہو کر، جس کا سرمایہ بولتا ہے وہ اپنے جہاز میں باہر چلا جاتا ہے۔ جو بہت ہی امیر ہو وہ بیمار بن کر لندن میں رہتا ہے اور جو کینسر کے بہانے کبھی اسپتال تو کبھی ڈاکٹروں کی ہدایت پر باہر نہ نکلنا، بس ایک ہمارا سیاسی گروپ کمال کرامات کرتا ہے۔ ساری تھالیوں میں کھا بھی لیتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں مارتے۔ صلح کار بھی بن جاتے ہیں اور حکومت ساز بھی بیماری تو ہر رخ پہ سیاسی ہوتی ہے۔ سوچو یہ سارے سیاسی کارساز اتارک کی طرح دنیا سے اٹھادیے جائیں۔ وہ جو اپنے ملک میں چین سے ہوگیا ہمیں کون لیڈر ملے گا کہ خدا نہ کرے انڈیا کی طرح ، امریکا کی طرح ٹرمپ، بے وقوف ملیں اور ہمارے سارے سربراہ دیکھتے رہیں کہ انڈیا کا نقشہ کیسے بدل رہا ہے۔ دنیا کے نقشے پر پاکستانی جہازوں کا اڑنا منع ہورہا ہے ویسے غلام سرور صاحب کی دانشمندی کو سلام کہ ملک کی پوری ایئر لائن اور وہ جو ایک عزت تھی اس کو خاک میں ملا کر ڈگری ہولڈر بھی بن گئے، اسے کہتے ہیں ’’سرکڑاہی میں‘‘۔