آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قُربانی: سنتِ ابراہیمیؑ کی عظیم یادگار

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

ارشادِ ربانی ہے: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَر یعنی پس نماز پڑھو اپنے رب کے واسطے اور قربانی کرو۔’’قربانی‘‘ کا لفظ قربان سے نکلا ہے،عربی زبان میں قربانی اس عمل کو کہتے ہیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے ،خواہ ذبیحہ ہو یا صدقہ و خیرات، لیکن عرفِ عام میں یہ لفظ قربانی کے جانور کے ذبیحہ کے لیے بولا جاتا ہے ۔چناں چہ قرآن کریم میں یہ لفظ چند جگہ مستعمل ہوا ہے اور اکثر مواقع پرقربانی کے جانور کا ذبیحہ ہی مراد ہے ۔

رسول اکرم ﷺکا ارشادِ گرامی ہے: قربانی کے دن اللہ کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ لایا جائے گا۔ نیز فرمایا: قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کے یہاں سندقبولیت حاصل کر لیتا ہے،اس لیے تم قربانی خوش دلی سے کیا کرو۔ (ترمذی)

حضرت زید بن ارقم ؓسے راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے صحابۂ کرامؓ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟آپﷺ فرمایا: تمہارے باپ اِبراہیم علیہ السلام کا طریقہ (یعنی اُن کی سنت) ہے، صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر اس میں ہمارے لیے کیا (اجر وثواب) ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: (جانور کے) ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ عرض کیاگیا کہ (دُنبہ وَغیرہ اگر ذبح کریں تو اُن کی) اُون (میں کیا ثواب ہے؟)آپ ﷺنےفرمایا: اُون کے ہربال کے بدلے ایک نیکی۔ (مشکوٰۃ۱۲۹ )

حضرت اِبن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عید الاضحی کے دِن اِرشاد فرمایا: آج کے دِن کسی آدمی نے خون بہانے سے زیادَہ افضل عمل نہیں کیا، ہاں! اگر کسی رِشتے دار کے ساتھ حسن سلوک اس سے بڑھ کر ہو تو ہو۔( الترغیب والترہیب)

حضرت ابو سعید ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے (اپنی بیٹی حضرت سیّدہ فاطمہؓ سے فرمایا: اے فاطمہ! اُٹھو اور اپنی قربانی کے پاس رہو (یعنی اپنی قربانی کے ذبح ہوتے وقت قریب موجود رہو) کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے کے ساتھ ہی تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، حضرت فاطمہؓ نے عرض کیا! اللہ کے رسولﷺ! یہ فضیلت ہم اہل بیت ؓکے ساتھ مخصوص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہمارے لیے بھی ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی۔( الترغیب والترہیب)

حضرت علیؓ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت فاطمہ ؓ سے) فرمایا: اے فاطمہ! اُٹھو اور اپنی قربانی کے پاس (ذبح کے وقت) موجود رہو، اِس لیے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی تمہارے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، یہ قربانی کا جانور قیامت کے دِن اپنے گوشت اور خون کے ساتھ لایا جائے گا اور تمہارے ترازو میں ستر گنا (زیادہ) کرکے رَکھا جائے گا۔

حضرت ابوسعیدؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! یہ فضیلت خاندانِ نبوت کے ساتھ خاص ہے جو کسی بھی خیر کے ساتھ مخصوص ہونے کے حق دار ہیں یا تمام مسلمانوں کے لیے ہے؟ فرمایا: یہ فضیلت آلِ محمد کے لیے خصوصاً اور عموماً تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے“۔(ایضاً)

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا اے لوگو! تم قربانی کرو اور ان قربانیوں کے خون پر اجر وثواب کی اُمید رَکھو، اِس لیے کہ (اُن کا) خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے، لیکن وہ اللہ کے حفظ وامان میں چلاجاتاہے۔ (ایضاً)

حضرت اِبن عباس ؓ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاندی (یا کوئی بھی مال) کسی ایسی چیز میں خرچ نہیں کیا گیا جو اللہ کے نزدِیک اُس اُونٹ سے پسندیدہ ہو جو عید کے دِن ذبح کیا گیا۔(ایضاً )

حضرت ابو ہریرہؓ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنے کی گنجائش رَکھتا ہو، پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہمارِی عیدگاہ میں نہ آئے۔(ایضاً)

حضرت حسین بن علی ؓ سے مروِی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص خوش دِلی کے ساتھ اجر وثواب کی اُمید رَکھتے ہوئے قربانی کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رُکاوَٹ بن جائے گی۔(ایضاً )

قربانی جانور ذبح کرنے اور گوشت کھانے کا نام نہیں ہے ، یہ ایثار وجاں نثاری ، تقویٰ وطہارت ،مومنانہ صورت وسیرت اور مجاہدانہ کردار کا حامل ہے ،اس لئے قربانی کرنے والوں کو اپنی نیت خالص اور قربانی لوجہ اللہ کرنی چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َ ترجمہ:بلاشبہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اسی ایک اللہ کے لیے ہے جو کل جہانوں کا پروردگار ہے ۔(سورۂ الانعام:162)

دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ترجمہ: اللہ تک تمہاری قربانیوں کا گوشت یا خون ہر گز نہیں پہنچتا، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔(سورۃالحج :37) اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور شیطانی قوتوں کو خائب وخاسر بنانا ہے اور قربانی کی اصل روح انسان میں تقویٰ کو پروان چڑھانا ہے۔

نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : ترجمہ: بے شک اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا ،بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے ۔(صحیح مسلم)

لہٰذا قربانی کا مقصد جذبۂ ایثار کو بیدار کرنا اور اپنی عزیزسے عزیزترچیز کوحکم ربانی کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول میں قربان کرنے کا حوصلہ پیداکرنا ہی قربانی کا مقصد ہے۔

آج کل ہم میں سے بہت سارے لوگ ذاتی نمود ونمائش کے لیے قربانی میں غلو کرنے لگے،اپنی دولت کا رعب جمانے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں اخلاص وتقویٰ سے اپنا دامن خالی کر کے ریاکاری کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔ بہت فخریہ انداز میں جانوروں کی قیمتیں بتاکر لطف لیتے ہوئے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم نے اعلیٰ سے اعلیٰ نسل کے اتنے جانور ذبح کیے۔ وہ یہ بھول چکے ہیں کہ قربانی کی قبولیت کا انحصار ریاکاری پر نہیں، بلکہ خلوصِ نیت پر ہوتا ہے اور جہاں اخلاص نہ ہو، وہاں قبولیت بھی نہیں ہوتی۔

قربانی کا بنیادی مقصد اپنے رب کے ہر حکم کے آگے سرتسلیم خم کردینا اور اہل ایمان میں جذبہ ایثار پیدا کرنا ہے۔قربانی کرنے والے شخص کی نیت یہ ہونی چاہیے کہ آج ہمارے رب نے جانور کی قربانی کا حکم دیا ہے تو ہم اسے بہ خوشی تسلیم کرتے ہیں اور کل اگر ہمارا رب ہماری جان کی قربانی مانگے گا تو ہمارے مالک وخالق کے نام پر یہ جان بھی قربان ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام صاحب حیثیت مسلمانوں کو اخلاص نیت سے قربانی کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

اقراء سے مزید