آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

زندگی رہی تو عیدیں بہت، فریضہ قربانی ایس او پیز کیساتھ ادا کریں

بات چیت: عالیہ کاشف عظیمی

دُنیا بَھر میں مسلمان عید الفطر کی طرح عیدالاضحی بھی کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرتے ہوئے منارہے ہیں کہ عیدِ قرباں پر بھی بعد نمازِ عید نہ اپنے پیاروں سے روایتی انداز میں گلے مِل سکیں گے، نہ ہی چھوٹے بچّوں کو عید کی نماز کے لیے جاسکیں گے، جب کہ اس بار بیش تر افراد نےقربانی کے فریضے کے لیے بھی مختلف اداروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

چوں کہ کورونا وائرس کے سبب مُلکی حالات ذرا مختلف ہیں، تو ہم نے شوبز انڈسٹری سے وابستہ چند چمکتے دمکتے ستاروں سے پوچھا کہ’’ وہ اس عیدالاضحی کا تہوار ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے کس طرح منارہے ہیں،اپنے فینز کو کیا مشورے دینا چاہیں گے اور اُن کے لیے یہ عید، ماضی کی عیدوں سے کیسے مختلف ہے‘‘، تو اُن کی جانب سے جو جوابات سامنے آئے، وہ قارئین کی نذر ہیں۔

دیبا بیگم: فلم انڈسٹری کی نام وَر اداکارہ دیبا بیگم کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں تو یہ کورونا وائرس کی وبا اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے۔ اس وبا سےبچاؤ کے لیے ہم صرف اپنی حفاظت ہی کرسکتے ہیں، ورنہ تو زندگی جتنی اللہ نے لکھ دی ہے، اُتنی ہی رہے گی۔ رسول پاک ﷺ نے کسی بھی وبا سے تحفّظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید فرمائی ہے،لہٰذا احتیاط تو لازم ہے۔ اس عید پربھی ایک دوسرے سے گلے نہیں ملنا، فاصلہ رکھ کر ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دینی ہے، ماسک کا استعمال کرنا ہے اور رَش والی جگہوں پر بھی نہیں جانا۔ 

سنّتِ ابراہیمیؑ ادا کرتے ہوئے بھی صفائی کا خاص خیال رکھیں گے،کیوں کہ اگر ہماری ذرا سی بےاحتیاطی سے کوئی فرد لپیٹ میں آگیا اور خدانخواستہ اُس کی جان کے لالے پڑگئے، تو ہم تو خود کو ساری زندگی معاف نہیں کرسکتے۔اگر گھر میں قربانی کرتے ہوئے احتیاط ممکن نہیں، تو اجتماعی قربانی میں حصّہ ڈال لیں۔ بہرحال، مَیں جنگ، سنڈے میگزین کے توسّط سے یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ ہمیشہ باوضو رہیں کہ یہ سب سے اچھا سینیٹائزر ہے۔اللہ سے توبہ استغفار کریں اور تفرقے میں پڑنے کی بجائے متحد رہیں کہ اِسی میں ہماری بقا ہے۔

سیّد نور: معروف فلم ڈائریکٹر، رائٹر اور پروڈیوسر سیّد نور کا کہنا ہے کہ اس بار عید کی خوشیاں منانے سے کہیں زیادہ زندہ رہنا ضروری ہے۔ جان ہے، تو جہان ہے۔ زندہ رہے تو خوشیاں تو زندگی میں آتی رہیں گی، لہٰذا اپنی اور دوسروں کی زندگی کی قدر کرتے ہوئے عید کی خوشیاں اپنے اپنےگھر وں میں رہ کر منائیں اور اِمسال عید الاضحی کے موقعے پر جانور کی قربانی کے ساتھ اپنے اُن احساسات کی بھی قربانی دیں، جو منہگا جانور خرید کر دکھاوے کی نیّت سے دِل میں پیدا ہوتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ مَیں اپنے پرستاروں کو یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ کورونا وائرس سے پوری ہمّت کے ساتھ مقابلہ کریں۔ اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں،تاکہ آپ بھی اس وبا سے محفوظ رہیںاور دوسرے بھی۔ نیز، اس موقعے پر مستحقین کو ہرگز نہ بھولیں۔

شبیر جان: منجھے ہوئے اداکار شبیر جان نے کہا کہ مَیں ہر سال عیدالاضحی کے موقعے پر حسبِ توفیق بکرے قربان کرتا ہوں اور اِمسال بھی بکرے ہی قربان کررہا ہوں۔مَیں یہی پیغام دینا چاہوں گا کہ اس اہم دینی فریضے کی ادائی کے دوران اپنے نصف ایمان یعنی صفائی کو ہرگز نہ بھولیں اور اس سال خاص طور پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب صفائی کا خیال رکھا جائے،جب کہ قربانی کا گوشت زیادہ سے زیادہ اُن افراد میں تقسیم کریں،جو نادار ہیں اور کم آمدنی کی وجہ سے گوشت خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

اس وقت ہر فرد ایک اَن جانے ڈر اور خوف کا شکار ہے،مگر اللہ پر بھروسا رکھیں۔ان شاء اللہ ہم اس مشکل گھڑی سے نکل جائیں گے۔ ہاں البتہ ہمیںاپنے اعمال پر بھی اِک نظر ضرور ڈالنی چاہیے کہ آخر ایسی کیا غلطی ہوئی ہے کہ آج ہم ان حالات کا سامنا کررہے ہیں۔

عدنان صدیقی: وَرسٹائل اداکار، ماڈل، پروڈیوسر عدنان صدیقی نے کہا مَیں ہر سال حسبِ توفیق قربانی کی مَد میں کچھ رقم ٹرسٹ کو دیتا ہوںاور اس سال بھی قربانی کی مَد میں رقم ٹرسٹ ہی میں دی ہے۔ویسے تو مَیں سادہ سا آدمی ہوں، زیادہ نمود و نمایش پسند نہیں کرتا، لیکن عیدِ قرباں کے موقعے پر قریبی دوستوں، رشتے داروں کی دعوتیں ضرور کرتا تھا، لیکن اس بار تو بھئی کورونا وائرس کی وجہ سے سارا کا سارا نظام ، معمولات ہی در ہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں۔ 

نہ کوئی کسی سے مِل سکتا ہے، نہ کہیں آجا سکتا ہے۔ مُلک اس وقت سخت مشکل دَور سے گزر رہا ہے، تو ایسے میں، مَیں نے بھی تمام دعوتیں، فیملی گیدر نگز وغیرہ منسوخ کر دی ہیں۔ویسے بھی ہمیں صرف اپنے متعلق نہیں، ان تمام لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے، جو اس وبا کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں یا مالی بحران کا شکار ہیں ۔

شہود علوی: معروف اداکار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر شہود علوی نے کہا کہ عید الاضحی کومَیں جانوروں کا موسم کہوں گا کہ ذوالحج کا چاند نظر آتے ہی ہر طرف جانور ہی جانور نظر آتے ہیں۔ لیکن میرے ذہن میں ہمیشہ ہی یہ بات رہتی ہے کہ مجھے صرف جانور کی قربانی نہیں کرنی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی اَنا ، نفس ، لامحدود خواہشات اور خامیوں کی بھی قربانی کرنی ہے۔ 

قربانی کے حوالے سے مَیں ہر سال کچھ بجٹ مختص کردیتا ہوں، پھر چاہے اس رقم میں ایک گائے آئے یا گائے کے ساتھ کوئی اور جانور۔ عموماً ہم ایک بچھیا خرید کر گھر ہی میں اُس کے سات حصّےکرلیتے ہیں، جن میں ایک حصّہ میرا، دوسرا والد مرحوم، تیسرا والدہ، چوتھا اہلیہ کا اور باقی تین حصّے میرے بچّوں کے ہوتے ہیں۔

اس بار بھی ہم نے بچھیا ہی خریدی ہے۔ جہاں تک عید کی تیاریوں کی بات ہے ، تو چوں کہ گھر میں اکثریت خواتین کی ہے، تو ان کی تیاریاں توکبھی ختم ہی نہیں ہوتیں۔ مَیں اپنے لیے کچھ خاص شاپنگ نہیں کرتا، البتہ بیوی بچوں کی تیاریاں دیکھ کر خُوب خوش ہوتا ہوں۔مگر بد قسمتی سے اس بار کی عید ،ماضی کی عیدوں سے خاصی مختلف ہے، عید الفطر پر بھی ہم نے سادگی ہی اختیار کی تھی اور اس عید کی بھی زیادہ تیاریاں نہیں کیں کہ کورونا وائرس کے سبب ویسے ہی سب پریشان ہیں کہ تہوار، تہوار ہی نہیں لگ رہا۔

فضیلہ قیصر: سدا بہار اداکارہ فضیلہ قیصر کا کہنا ہے کہ اس وقت کورونا وائرس کے باعث ہونے والی اموات سے مُلک بَھر میں اداسی کی فضا طاری ہے، لہٰذا ہم عید الاضحی بالکل سادگی سے منارہے ہیں، جیسا کہ عید الفطر پر بھی ہم نےخاصی سادگی اختیار کی تھی۔

ویسے تو ہم ہر سال قربانی کی مَد میںایک فلاحی ادارے کو رقم دے دیتے ہیں اور اس بار بھی یہی کیا ہے، مگر میرا سب کے لیے یہی پیغام ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو سنّتِ ابراہیمیؑ ادا کرنے کی توفیق دی ہے، تو خدارا دکھاوا نہ کریں۔ لاک ڈاؤن کے باعث منہگائی اور بے روزگاری کی شرح بہت بڑھ گئی ہے،تو ایسے میں ہم سب نے مل جُل کر ہی ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے،جب کہ اس عید پر بھی کورونا وائرس سے تحفّظ کے لیے احتیاطی تدابیر لازماً اختیار کریں کہ اِسی میں سب کی بھلائی ہے۔

شبنم مجید: معروف گلوکارہ شبنم مجید کہتی ہیں کہ مَیں ہر سال اپنے بھائیوں کے ساتھ قربانی میں حصّہ ڈالتی ہوں اور اس سال بھی یہی کیا ہے۔ اس وقت مُلک بَھر میں لوگ پریشان ہیں۔متعدّد افراد نے جو رقم جوڑ بھی رکھی تھی،اب اُس سے گھر کے خرچے پورے کررہے ہیں۔ہم پچھلی عید کی طرح یہ عید بھی بہت سادگی سے منارہے ہیں۔ کورونا وائرس ہمارے لیے ہی نہیں ،دُنیا بَھر کے لیے آزمایش بنا ہوا ہے۔

کچھ لوگ اس وبا کے ہاتھوں مَر رہے ہیں، تو کچھ بھوک سے۔غرض کہ ہر شعبے سے وابستہ افراد کسی نہ کسی وجہ سے پریشان ہی ہیں۔ کسی ادارے میں تن خواہیں تاخیر سے مل رہی ہیں، تو کہیں آدھی تن خواہ مہینے بھر کے لیے دی جارہی ہے۔نام وَر فن کار بھی کام کے لیےقطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔یہ سب دیکھ کر کلیجہ ہی چھلنی ہوتا ہے،لہٰذاان حالات میں عید کی بھر پور خوشیاں منانے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔

نازلی سومرو: سینئر اداکارہ نازلی نصر کا کہناہے کہ الحمدُ للہ !ہر سال کی طرح اس بار بھی اللہ تعالیٰ نے قربانی کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق دی ہے۔چوں کہ اس عید پر سارا فوکس قربانی پر ہوتا ہے، تو مَیں کپڑوں وغیرہ کی زیادہ خریداری نہیں کرتی۔ اس بار تو ویسے بھی عید، عید جیسی نہیں لگ رہی کہ میٹھی عید بھی گھر ہی میں گزر گئی اور ا ب عیدالاضحی بھی بس فیملی ہی کی ساتھ منائیں گے۔ 

البتہ، ہر سال کی طرح اس سا ل بھی عیدِ قرباں کے موقعے پر زیادہ سے زیادہ مستحقین کی مدد کرنے کی کوشش کروں گی۔ لہٰذا اپنے پرستاروں سے بھی یہی کہنا چاہتی ہوں کہ ایک ایسے وقت میں جب سب ہی معاشی مشکلات میں گرفتار ہیں، تو گوشت اپنے فریزرز میں جمع کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ نادار افراد میں تقسیم کریں۔

جنید خان: ہر دِل عزیز اداکار ،گلوکار، جنید خان کہتے ہیں،اُمّتِ مسلمہ کے لیے عیدقرباںسب سے بڑا تہوار ہے،جو سنّتِ ابراہیمیؑ کی یاد تازہ کرتا ہے۔مَیں یہ عید لاہور میں اپنی فیملی کے ساتھ مناؤں گا۔ جہاں تک بات ہے قربانی کی، تو اس برس جن حالات میں ہم عیدِ قرباں منا رہے ہیں، بہتر تو یہی تھا کہ گھرکی بجائے، کسی ادارے میں قربانی میں حصّہ لے ڈال لیا جاتا، تاکہ صاف ستھرے ماحول میں جانور ذبح ہوسکے۔ تاہم، اس بار میری یہی کوشش ہے کہ عید کی خوشیوں میں ان لوگوں کو بھی شامل کروں، جو معاشی بد حالی کا شکار ہیں۔ 

انعم اسد: سلجھی ہوئی اداکارہ انعم اسد کہتی ہیں کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی ہم بکرا قربان کررہے ہیں۔ ہمارے مذہب میں سال میں دو ہی بڑے تہوار آتے ہیں، جن میں باقاعدہ طور پر خوشیاں منانے کی اجازت دی گئی ہے، لہٰذا خوشیاں ضرور منائیں، مگراحتیاط کے ساتھ۔یہ عید میرے لیے اس وجہ سے بھی خاص ہے کہ یہ میرے بیٹے، محمّد سالار کی پہلی بڑی عید ہے، تو ایک ماں کے لیے اپنے بچّے کے ساتھ عید منانے سے بڑھ کر اور کوئی خوشی کیا ہو سکتی ہےاور چوں کہ یہ اُس کی پہلی عیدالاضحی ہے، تو ہم سب نے صرف اُسی کی تیاریوں پر سارا فوکس رکھا۔

مَیں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ دودو ماسک لگا کر گھروں سے باہر نکل رہےہیں، تو مَیں اپنے پرستاروں کو یہی پیغام دیناچاہوں گی کہ کورونا وائرس سے احتیاط ضرور کریں، لیکن اس کا خوف سَر پر سوار نہ کریں۔ صحت بخش غذائیں کھائیں اور صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں۔ ربّ کی ذات سے پُر اُمید رہیں اور اپنی ذہنی صحت متاثر نہ ہو نے دیں۔