آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بہت سے طالب علم جب کسی نان پرافٹ آرگنائزیشن یعنی غیر منافع بخش ادارے کے بارے میں سنتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہی آتاہے کہ یہاں ملازمت نہیں کرنی، انہیںلگتا ہے کہ شاید یہاں انہیں کام کا معاوضہ نہیں ملے گایا کیریئر جمود کا شکار ہوجائے گا۔ دراصل غیرمنافع بخش تنظیم اور خیراتی ادارے میں فرق ہوتاہے، آئیے اس بارے میں جانتے ہیں۔

نان پرافٹ آرگنائزیشن ایک اصطلاح ہے ، لیکن یہ بہت سارے بزنس ماڈلز کا احاطہ کرتی ہے۔ اگرچہ نان پرافٹ کی کئی درجہ بندیاں ہیں لیکن سب کیلئے ایک ہی اصطلاح یعنی نان پرافٹ استعمال ہوتی ہے۔

تعریف

ایک نان پرافٹ آرگنائزیشن ایسا ادارہ ہوتی ہے جو کسی سماجی بہبود، مشترکہ مقاصد یا کسی مشن کی تکمیل کیلئے کام کرتی ہے۔ بحیثیت مجموعی نان پرافٹ کی درحقیقت 25سے زائد درجہ بندیاں ہوتی ہیں یعنی جس مقصد کیلئے جو آرگنائزیشن وجود میں آتی ہے، وہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ حکومتیں اور نجی ادارے کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلیٹی کے تحت غیر منافع بخش اداروں کی مالی مدد کرتے ہیں لیکن اس کیلئے کچھ بنیادی اصول وضع کیے گئے ہیں،جن پر لازمی عمل کرنا ہوتاہے۔ کسی بھی نان پرافٹ آرگنائزیشن کو درج ذیل ضابطوں پر پورا اترنا ضروری ہوتاہے۔

1۔ یہ ادارے لازمی طور پر پرائیویٹ ہوں اور حکومت سے بالکل الگ تھلگ ہوں۔

2۔ ادارہ لازمی طور پر مستحکم اور خودمختار ہو ۔

3۔ ادارے پر لازم ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی منافع شیئرنہ کرے اور حاصل شدہ منافع ادارے کی ترقی اور بہتری کیلئے استعمال کرے۔

اس کے علاوہ بھی نان پرافٹ آرگنائزیشن کیلئے بے شمار پابندیاں ہوتی ہیں، لیکن اگرکوئی غیرمنافع بخش ادارہ درج بالا بنیادی اصولوں کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتاتو پھر اس ادارے کے نان پرافٹ آرگنائزیشن کے طور پر تسلیم کیے جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

غیر منافع بخش اور خیراتی ادارے میں فرق

غیرمنافع بخش اور خیراتی اداروں کو عموماً ایک جیسا ہی سمجھا جاتا ہے، درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ خیراتی ادارے (Charity Organization)صرف مستحقین کو فائدہ پہنچاتے ہیں جبکہ غیرمنافع بخش ادارے عوام الناس یا کمیونٹیز کے فائدے کیلئے کام کرتے ہیں یعنی ان کے کام سے وہ لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں جو غریب یا مستحق نہ ہوں۔ خیراتی اداوں کے پاس ایسے ہسپتال ، اسکول یا گھر ہوتے ہیں ، جہاں مستحق افراد کیلئے علاج ، تعلیم یا کھانا کھانے کی مفت سہولت دستیاب ہو۔ اگر خیراتی ادارے کسی غیرمنافع بخش ادارے کے تحت کام کررہے ہیں تو یہ True Nonprofitکہلاتے ہیںاور یہ ٹیکس سے کُلی طور پر مستثنیٰ ہوتے ہیں۔

ہم اگر غیرمنافع بخش اداروں کی بات کریں تو یہ عوام الناس کو اشیا و خدمات کی فراہمی ممکن بناتے ہیں لیکن اسے خیرات یا چیریٹی تصور نہیںکیا جاسکتا۔ ان اداروں کے تحت چلنے والے تعلیمی ادارے اور ہسپتال آپ کو عمدہ خدمات فراہم کرتے ہیں لیکن وہ آپ سے منافع طلب نہیں کرتے کیونکہ یہ ادارے معاشرے کی فلاح کیلئے کام کرتے ہیں۔ 

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ ان کے فلاحی کاموں کی کوئی حد نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کاموں کی حتمی فہرست مرتب کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں غیر منافع بخش ادارے اپنی نوعیت اور استطاعت کے مطابق معاشرے کو منفرد قسم کا فائدہ پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ یہ فلاحی کام مفت تعلیم سے لے کر مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو بیماری سے متعلق آگاہی پھیلانے تک کے مقاصد پر مشتمل ہوسکتے ہیں۔

ہر غیرمنافع بخش ادارے کا بنیادی مقصد سماج کی فلاح کیلئے کام کرنا ہوتاہے، اسی لیے ایک مقصد کی تکمیل کے بعد یہ نئے منصوبوں پر کام کرتے ہیں، لوگوں کو ان میں شامل کرتے ہیں اور اس وقت تک کام کرتے رہتے ہیں جب تک نئے منصوبے مکمل نہ ہوجائیں۔ اس مقصد کیلئے یہ فلاحی کاموں کے ذریعے فنڈز جمع کرتے، لوگوں سے بات چیت کرتے اور ان سے رابطہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وسیع پیمانے پر تحقیق کرتے ، عطیات دینے کیلئے لوگوں کو ترغیب و تعلیم دیتے ہیں، ساتھ ہی عوام الناس کی ضروریات کی نشاندہی کرتے اور آگاہی پھیلاتے ہیں۔

غیرمنافع بخش ادارے یہ سب کچھ ڈونرز (عطیات دینے والوں ) کی مدد سے کرتے ہیں۔ ان اداروں کے بارے میں ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ یہ اپنا پیسہ منافع میں تبدیل نہیں کرتے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ غیرمنافع بخش ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ادارہ عطیات، ممبرشپ فیس، فنڈریزنگ یاکسی بھی قسم کی کاروباری سرگرمی سے حاصل ہونا والا نیٹ پرافٹ کسی بھی مخصوص فرد کو ادا نہیں کرتا ہے۔ 

فرض کریں ، آپ غیر استعمال شدہ اشیا سے چیزیں تیار کرواکر مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں جس سے آمدنی حاصل ہوتی ہے لیکن آپ یہ منافع ادارے کی ترقی و بہتری کیلئے استعمال کریں گے نہ کہ اسے ممبران میں تقسیم کریں یا چیئر مین کے اکائونٹ میں منتقل کردیں۔ دراصل غیرمنافع بخش اداروں کے مالک نہیں ہوتے، اسی لیے ان کی آمدنی اور فنڈز کی فراہمی دوسروں کے عطیات اور اپنی ساکھ پر منحصر ہوتی ہے۔

تعلیم سے مزید