آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مجیب نام پڑھ کر.....

تازہ دَم، گلابی بارڈر میں محصور سرِورقی شمارہ، ’’مَیں اُس کو دیکھوں، تو نظر ٹھہر جاتی ہے…‘‘ کی خوش کُن اطلاع لیےٹھنڈےپہرےملا۔ ماڈل بی کے خمیدہ کاسہ سر نے سنڈے میگزین کی لوح تو رُوپوش ہی کردی، لیکن لفظ ’’ٹھہر‘‘ پڑھ کر بخش دیا کہ ابھی درست اردو زندہ رکھنے والے شرافت کے نمونے پائےجاتے ہیں۔ ’’سرچشمۂہدایت‘‘ کے دونوں مضامین پڑھے، اوّل الذکر کی ایک سطر ’’راہِ حق سے لوگوں کی دُوری‘‘ پر اعتراض ہے، لوگوں کی جگہ ’’مسلمانوں‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ ویسے کسی مضمون پر مجیب نام پڑھ کر دل پر گھونسا سالگتا ہےکہ یہ نام تو ’’ناقابلِ اشاعت‘‘ کی فہرست کے لیے مختص ہے، چَھپا کیوں کر؟؟ رئوف ظفر، سائنسی محاذ پر کورونا مقابلے کی مساعی کارانہ اطلاعات پرمبنی دوصفحاتی بہترین الفاظ و تصاویر سے مزیّن تحریر لائے۔ عرفان جاوید کے پُرفکر جائزے سفید کوّوں کی پانچویں قسط میں بائو میسر، اولاتونجی، ھمکاران اور ورجینا کے شہرہ آفاق محقّق، لوہر گہل وغیرہ کی تحقیقات کے تذکرے پڑھ کر مَن اش اش کر اٹھا۔ عالیہ کاشف نے ہما اقبال کے پہناووں پر رائٹ اپ ناصر کاظمی کی مختصر ترین بحر والی غزل کےساتھ لکھا۔’’ہیلتھ اینڈفٹنس‘‘میں پروفیسر سعدیہ ادریس اور ڈاکٹر عمران یوسف کی تحریریں عُمدہ تھیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ اپنی ہلکی پھلکی دل چسپ رنگینیوں کے ساتھ طلوع ہوا، ملک محمد اسلم کے مضمون میں شُکرالحمدللہ، درست لفظ ’’خوردبرد‘‘ شایع ہوا، خرد برد نہیں۔ جیو سن ڈے میگزین والو، جیتے رہو! اگلے شمارے کا سرِورق، عروسی پیراہن میں ملبوس ماڈل کے حُسن نوخیز سے مرصّع تھا۔ منورمرزا ’’حالات و واقعات‘‘ میں عرصۂ دراز سے لکھ رہے ہیں، مگر مجال ہے کسی ہفتے قلم یا فکر و ذہن کے منور ہونے میں کوئی کمی رہ جائے؟ شمالی ہند کی رسیلی زبان اور برملا اظہار میں رنگا تجزیہ بقول شخصے ’’بھگو بھگو کر مارنے‘‘ والا ہوتا ہے۔ عرفان جاوید کے ’’سفید کوّے‘‘ چھٹی قسط میں اپنی پروان روک بیٹھے، مگر ’’آخری قسط‘‘ ثابت کرگئی کہ عرفان جیسا نڈر اور وقیع مفکّر، اپنے قارئین کو ’’سچ‘‘ پالینے کی حقیقی خوشی سے روشناس کرواتا ہے۔ ڈاکٹر سیّد منصور علی کی رپورٹ ’’تمباکو نوش افراد‘‘ پڑھ کر تلخ ترین لیکن حقائق پر مبنی معلومات حاصل ہوئیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم کی کہانی ’’اسٹیشن‘‘ کے منظرنامے نے ’’مکتبۂ انتظار حسین‘‘ کے ’’تجریدی افسانوں‘‘ مثلاً ’’ہم سفر‘‘ (افسانہ) کی یاد دلادی۔ حلقۂ حجال یعنی ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں برادرم محمّد سلیم راجا کے انعامی خط میں کورونا کے لیے ’’کرمِ قیامت خیز‘‘ کی اصطلاح پڑھ کر پنجاب کے معصوم وزیر اعلیٰ یاد آگئے، جنہوں نے کسی آفیشل میٹنگ میں برجستہ پوچھا تھا کہ ’’یہ کورونا کاٹتا کیسے ہے؟‘‘ (پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی، گلبرگ ٹائون، کراچی)

ج:آپ کے دل پر ایک نام پڑھ کر گھونسا سا پڑتا ہے، تو خیر ہے کہ ہم پر بھی آپ کے یہ 20-20 صفحاتی خطوط کسی ہتھوڑے ہی کی طرح برستے ہیں۔

قلم کی روشنی سے منوّر

’’عفو و درگزر‘‘ کی فضیلت پر علاّمہ محمّد ابراہیم خلیل نے الفاظ کے موتی پروئے۔ مجیب الرحمٰن صدیقی کی تحریر بھی سیدھی دل میں اُتری۔ منور مرزا اپنے اچھوتے طرزِ تحریر کے ساتھ موجود تھے۔ سنڈے اسپیشل زبردست رہا۔ منور راجپوت نے معروف محقّق اور سیرت نگار سے معلوماتی بات چیت کی۔ عرفان جاوید کے کوّے تو بڑے سیانے نکلے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں سعدیہ ادریس متوازن غذا کے حوالے سے اچھی معلومات فراہم کررہی تھیں اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں اس بار عشرت جہاں بازی لے گئیں۔ تو صفحے کے دوسرے ساتھی بھی کھٹّے میٹھے الفاظ و خیالات کے ساتھ اپنی موجودی کا پتا دے رہے تھے۔ اگلے جریدے میں منور مرزا جو اِک جہاں کو اپنے قلم کی روشنی سے منور کرتے ہیں، یہ نکتہ زیرِ قلم لائے کہ بجٹ اس بار ہرگز روایتی نہیں ہونا چاہیے۔ ’’سفید کوّے‘‘ کی آخری قسط کے ساتھ قلم کےجادوگر، عرفان جاوید نےمیدان مارلیا۔ ’’رپورٹ‘‘ میں نسرین جبیں خواجہ سرائوں کی کتھا سنارہی تھیں۔ ماڈل نیہالج کی ہر ایک ادَا میں قوسِ قزح کے رنگ دکھائی دیئے۔ آہ! علم دوست، بےلاگ مقرراور بہترین ماہرِ تعلیم، پروفیسر انوار احمد زئی بھی چلے گئے۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم ’’اسٹیشن‘‘ اور سیّد محسن علی ’’عوامی نمائندہ‘‘ کے ساتھ چھا گئے۔ (ضیاء الحق قائم خانی،جھڈو، میرپورخاص)

میرا قلم، میری مرضی

ہاں! تو مَیں کہہ رہا تھا کہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے ڈاکٹرز شاید کہیں مصروف ہوگئے ہیں۔ ایک طویل عرصےسےکافی ڈاکٹرگم ہیں؟ کیاکہنے سنڈے میگزین کے کہ لاک ڈائون کے دوران بھی اپنا معیار برقرار رکھا ہوا ہے۔ در شہوار قادری کا ’’صبح خیزی کے کمالات‘‘ جامع آرٹیکل تھا۔ اس موضوع پرمزید مضامین بھی شامل ہونے چاہئیں۔ سعیدہ ادریس کی وبائی امراض سے متعلق تحریر بہترین تھی۔ ممکن ہو تو کسی معروف شخصیت کی آٹو بائیوگرافی بھی شاملِ اشاعت کریں۔ بس اب اور نہیں لکھا جارہا کہ ’’میرا قلم، میری مرضی‘‘۔(سمیع عادلوف، جھڈو، ضلع میرپورخاص)

ج: بہت شکریہ، ہم تو مختصر تحریروں کی شکل کو ترس گئےہیں۔ ایسی مرضیاں کوئی لاکھ کرتا رہے، ہمیں ہر گز کوئی اعتراض نہیں۔

پتا نہیں کیا معیار ہے؟

بیس پچیس سال پہلے مَیں نے بچّوں کے لیے ایک دل چسپ کہانی لکھی تھی، جس کا عنوان تھا ’’بیس ہزار کا تکیہ‘‘، کہانی میرے نام سےایک اخبار میں شایع ہوئی اور مجھے اُس کا اعزازیہ بھی ملا۔ کچھ عرصہ قبل ایک صاحب نے وہی کہانی نقل کرکے آپ کو بھیج دی، جو آپ نے بلاتحقیق شایع بھی فرما دی۔ اُن صاحب نے تبدیلی صرف یہ کی کہ کہانی کا عنوان ’’پچاس ہزار کا تکیہ‘‘ کر دیا۔ کہانی شایع ہونے پر اس نقل چور نے آپ کو شُکریےکاخط لکھااورآپ نے وہ بھی شایع فرمادیا۔ کہنے کامقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ تحریریں نقل کرکے اپنے نام سے شایع کرواتے اور بڑے فخر سے اپنے دوست احباب کو دکھاتے ہیں، تو کیا اُن کا ضمیر ملامت نہیں کرتا۔ ویسے مجھے آپ پر بھی حیرانی ہے کہ میری بھیجی ہوئی دو تین کہانیاں تو آپ نے ناقابلِ اشاعت میں ڈال دیں، جب کہ میری نقل شدہ کہانی بڑے طمطراق سے شایع کی۔ تو آپ کا بھی پتا نہیں کیا معیار ہے۔ میرے خیال میں تو آپ کے سب ایڈیٹرز کو بھی مزید ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ (بشیر احمد بھٹی،فوجی بستی، بہاول پور)

ج:اگر کوئی شخص اپنےنام، پتے کے ساتھ ایک کہانی بھیج رہا ہے اور وہ ہمارے فارمیٹ کے مطابق ہے، معیار پر پوری اُتر رہی ہے، تو ہم اُسے کیوں کر شایع نہ کریں۔ اوّل تو ’’50 ہزار کا تکیہ‘‘ بچّوں کی کوئی کہانی ہرگز نہیں تھی، ایک ناقابلِ فراموش واقعہ ہی تھا۔ دوم، آپ نے ہمیں کیا سمجھ رکھا ہے کہ ہمیں25سال پہلے کے کسی اخبار، رسالے میں شایع شدہ ایک چھوٹی سی کہانی کا بھی ریکارڈ رکھنا چاہیے تھا، کیسے بھئی، اس کے لیے تحقیق کا طریقہ آپ ہی سمجھادیں۔ اب آپ منٹو یا اشفاق احمد تو ہیں نہیں کہ آپ کی چوری شدہ کہانی کا ایک جملہ پڑھتے ہی اندازہ ہو جاتا اور ہمیں اپنے سب ایڈیٹرز پر بھی پورا بھروسا ہے۔ وہ اُن ہی تحریروں کو ناقابلِ اشاعت قراردیتےہیں، جو واقعی اشاعت کے قابل نہیں ہوتیں۔

اللہ سے اُمید

یہ آپ نے کیا بات کر دی کہ ’’نیک نیّتی یا آئوٹ آف دی وے جا کر کام کرنے کا کوئی دَور نہیں ہے‘‘ یعنی آپ انسانوں سے صلہ چاہتی ہیں۔ آپ کوئی بھی نیکی کریں تو اُس کے اجر کی اُمید اللہ سے رکھیں، اُس کی مخلوق سے نہیں۔ کارل مارکس جیسے فلسفیوں پر لکھی تحریروں کو میگزین میں جگہ دینےکامقصد سمجھ نہیں آتا۔ آخر ان لوگوں کا ہمارے دین، مُلک سے کیا واسطہ ہے۔ ’’عجائب خانہ‘‘ پڑھ کر بہت مزہ آیا، لیکن ایک بات کہنا چاہوں گا کہ بدترین یا بہترین دَور کا تعیّن دنیا کے مال و متاع سے نہیں ہونا چاہیے۔ پروفیسر محمّد یاسین کی بات چیت اچھی لگی۔ منور مرزا ایک طرف تو کہہ رہے تھے کہ قیاس آرائیوں کی بجائے انکوائری رپورٹ کا انتظار کرلیا جائے، دوسری طرف خود بحث مباحثے کا پٹارا بکس کھول دیا۔ شاہان الحق نے بھی ارسطو ہی کا قول نقل کیا، کسی نبی، صحابی، ولی، بزرگ کی بات بھی تو نقل کی جا سکتی تھی۔ دُرشہوار قادری نے صبح خیزی کے کمالات کا تذکرہ کیا، مگر سچ یہی ہے کہ ہم بدلنے والی قوم نہیں۔ اگلے شمارے کے ’’ڈائجسٹ‘‘ کی دونوں تحریروں نے دل موہ لیا۔ واقعی ہمیں نہیں پتا کہ ہمارا اسٹیشن کب آجائے، اس لیےہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ ڈاکٹرسیّد منصور تمباکو نوشی کی تباہ کاریوں سے آگاہ کررہے تھے، مگر شرم ناک بات تو یہ ہے کہ خود اکثر معالجین بھی اس علّت کا شکار ہیں۔ ’’اسٹائل‘‘ میں بھاری کام دار شراروں نے گرمی کا احساس کچھ اور بھی بڑھادیا۔ اس لیے جلدی سے آگے بڑھ گئے۔ ’’سفید کوّے‘‘ تو اختتام پذیر ہوا۔ دیکھتے ہیں، عرفان جاوید اب کون سے نئے، اچھوتے سلسلے کے ساتھ حاضر ہوتےہیں۔ (مسٹر معذرت خواہ، نارتھ کراچی، کراچی)

جنگ کا بھرم، وقار

جنگ سنڈے میگزین، میں مرحوم احفاظ الرحمٰن کی مختلف الجہات شخصیت کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا، پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ نہ صرف یہ کہ ان کی فطرت، ان کی خصوصیات کا ادارک ہوا، سب سے بڑھ کر ان کے اپنے معاونین کے ساتھ حُسنِ سلوک کا تذکرہ لاجواب تھا۔ اللہ اس کا اجر آپ کو بھی ضرور دے گا۔ ایسے ہی صاف ستھرے اچھے مضامین سے جنگ کا بھرم اور ادارے کا وقار قائم ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ (غالب عرفان، کراچی)

ج : ’’جنگ گروپ‘‘ محض ادارہ نہیں، ایک مادرِ علمی ہے، جس کی کوکھ سے کئی دّرِنایاب جنمے، پروان چڑھے تو یہ اس ادارے کا استحقاق بھی ہے کہ اس کا بھرم، وقار قائم و دائم رہے۔

منڈیر پر کائیں کائیں

’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے بجٹ سے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے بے اطمینانی کا اظہار کیا۔ ’’عا لمی افق‘‘ کے تحت بھی منور مرزا ہی کا مضمون تھا، جس کی سُرخی متاثر کن تھی کہ ’’مارٹن لوتھر کنگ کا خوب چکنا چُور ہوگیا؟‘‘ ’’عجائب خانہ‘‘ میں عرفان جاوید مغالطے اور حقائق بیان کر رہے ہیں۔ ’’سفید کوّے‘‘ تو میں نے بھی اپنے گھر کی منڈیر پر کائیں کائیں کرتے دیکھے ہیں۔ بہرحال، مضمون نگار کا ذہن زرخیز ہے۔ ’’رپورٹ‘‘ میں نسرین جبیں خواجہ سرائوں کے مسائل بیان کررہی تھیں۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ میں بھی اچھی کہانیاں منتخب کی گئیں۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم کی ’’اسٹیشن‘‘ اور محسن علی کی ’’عوامی نمائندہ‘‘ لائقِ تحسین نگارشات تھیں۔ باقی رہا آپ کا صفحہ، تو اس کے تو کیا ہی کہنے۔ اگلے ایڈیشن میں عالمی یومِ والد منایا گیا۔ کامران اکمل سے اچھی گفتگو تھی اور ان کا فوٹو شوٹ بھی زبردست تھا۔ منور مرزا نے کورونا وائرس کی پسپائی کا ذکر کیا، بہترین تجزیہ تھا۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس کے صفحے پر کورونا وائرس ہی سے متعلق دو مضامین شایع ہوئے۔ افشاں مراد اور فرحی نعیم کے مضامین پڑھنے والے تھے۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں شان دار ترک ڈرامے ’’ارطغرل غازی‘‘ کے پروڈیوسر، ڈرامانگار، مہمت بوزداع کا انٹرویو شاملِ اشاعت کر کے تو آپ نےکمال ہی کردیا۔ (صدیق فنکار، دھمیال روڈ، جھاورہ، راول پنڈی کینٹ)

’’اتوار میگزین ‘‘کردیں

سنڈے میگزین میں یہ عالمی ایّام منانے کا سلسلہ کب ختم ہوگا۔ براہِ مہربانی عالمی ایّام نہ منایا کریں اور یہ سنڈے میگزین کا نام سنڈے میگزین کیوں رکھا ہوا ہے۔ اِسے مہربانی فرما کر ’’اتوار میگزین‘‘ کردیں۔ یا اردو کا کوئی بھی اور ثقیل سا نام رکھ لیں، مگر ’’سنڈے میگزین‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ (نواب زادہ خادم ملک، سعید آباد، کراچی)

ج: آپ اپنا نام خادم ملک سے بدل کر’’ احمقِ اعظم‘‘ کیوں نہیں رکھ لیتے۔ کم از کم تسلّی تو رہے گی کہ اونگیاں بونگیاں ایویں ہی نہیں مارتے، شخصیت پر نام کا اثر ہے۔

                                                                                         فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

سال ٹی ٹوینٹی کے گرم ترین مہینے، جون کا شمارۂ اوّل، رُخِ زیبا پہ آڑی بندیا(افقی شہ سُرخی) مع ٹُو شیڈڈ لپ اسٹک (دو ذیلی سُرخیاں) سجائے نظر نواز ہوا، اس کی جھلک سے کورونا کی حدّت سے کُملائے گل ہائے دل کِھل سے اُٹھے گویا ؎ تیری یاد آگئی، غم خُوشی میں ڈھل گئے… اِک چراغ کیا جَلا، سو چراغ جَل گئے۔ سرِورقی مصرع تھا ؎ مَیں اُس کو دیکھوں تو نظر ٹھہر جاتی ہے..... مگر معاملہ ٔ عاشقان ذرا و کھرا ہے کہ؎ اُسے دیکھیں تو سزا ٹھہر جاتی ہے۔ (وے عشقے تیرا گھر دُپھے پایا) سرچشمہ ٔ ہدایت سے جامِ روح افزا و ایمان افروز (فضیلت عفوو درگزر) نوش کر کے سرداران قوم کو یہ ٹیکسٹ ایس ایم ایس کیا’’لڑائی لڑائی معاف کرو، کرونا دا گند صاف کرو‘‘۔ حالات و واقعات میں منور مرزا نے کراچی طیارہ حادثے کےتناظر میں واقعتاً بجا فرمایا ’’وقت کی دھول میں سب چُھپ جاتا ہے‘‘۔ یہ مٹّی پائو اور گونگلو جھاڑ رویہ ہماری اداراتی روایت بن چُکی ہے۔ سنڈے اسپیشل میں رئوف ظفر نے قارئین کی سائنسی حِس کو یوں جگایا ’’سائنسی محاذ پر کیا ہو رہا ہے؟‘‘ ہمیں تو حبیب بینک پلازے کی چھت پر وزیر سائنس اور مفتی محترم کی War of tug for moon نظر آرہی ہے۔ ’’جھوٹ بولے، کالا کوّا کاٹے‘‘ تو عرفان جاوید کے قلمِ امرت دھارا میں بہتے ہوئے ہم اسے یوں موڈیفائی کیے دیتے ہیں ’’جو سفید جھوٹ بولے، اُسے سفید کوّا کاٹے‘‘ بزم حُسن و جمال (سینٹر اسپریڈ) میں عالیہ کی ہمالیائی ماڈل کے نظرنظر چرچے تھے۔ تاہم، ہمیں ٹھہرنے کا یارا نہ تھا۔ کیوں کہ اس طلسم کدےمیں جو رُک گئے، وہ سُک گئے۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس میں ڈاکٹر عمران کے ذہنی صحت پر لکھے مضمون کا عنوان ’’پاگل ہونا ضروری نہیں!!‘‘ بہ روئے عقلِ سلیم یوں ہونا چاہیے ’’پاگلوں کے سر پر سینگ نہیں ہوتے‘‘ (کیوں کہ دل تو پاگل ہے!!) پیارا گھر میں آرٹیکل بابت ’’سادہ کھانا‘‘ کی گیارہ لفظی شہ سُرخی دیکھ کر دل جھلّا سوچیں پے گیا کہ یہ شاہ خرچی ہے یا انتہائے سادگی۔ ’’نئی کتابیں‘‘ میں ڈیڑھ دو سو صفحاتی دو کتب کی قیمت پندرہ پندرہ سو روپے پڑھ کر جھٹکا سا لگا۔ چٹھی پنڈال (آپ کا صفحہ) میں اس بار پروفیسر حمیدی کا تیرا غم میرا غم۔ قائم خانی کا خوشبو نامہ نازلی کا قلم بیدار بخت اور شری مرلی کی تازہ ہوائی قابلِ ذکر رہے۔ جب کہ عشرت جہاں نے چار شماروں پر تبصرہ کرکے ’’نور جہاں آف دی ویک‘‘ کا اعزاز پایا، مبارک ہو۔ ویسےبندے نے بھی ایک بار چار شماری اختر شماری کرکے رات کارانا (مسندِ خصوصی) کا اعزاز پایا تھا۔ (محمد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)

ج: آپ تو یک شماری، دو شماری، سہ شماری بلکہ ہر ہر شماری تبصرے کر کے نہ جانے کتنی ہی مسندیں اپنے نام کر چُکے ہیں۔ آپ کی کیا بات ہے۔

گوشہ برقی خُطوط
  • بس کہنا یہ ہے کہ آج کل میگزین میں کچھ خاص مزہ نہیں ہے۔ منور مرزا عالمی اُفق سے نہ جانے کہاں غائب ہوگئے ہیں۔ آتے بھی ہیں، تو تحریر میں سنسنی خیزی نہیں ہوتی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ سے خادم ملک بھی رُوپوش ہیں۔ ملک صاحب کا ذکر کرنا نہیں چاہتی تھی، لیکن اُن کی کمی بہرحال سب ہی محسوس کرتے ہیں اور ایک وہ بھائی بھی غائب ہیں، جو الفاظ کے املا کی تصحیح کرتے تھے اور ہاں، اب تو عالمی ادارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ کورونا کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہے، تو بس آپ بھی کورونا، کورونا کا رونا ختم کردیں۔ (نورین فتح، حیدرآباد)

ج:عالمی ادارئہ صحت نے تو اور بھی بہت کچھ کہا ہے۔ آپ نے کون سا اُن تمام ہدایات پر عمل کرلیا۔ ہم کورونا کا رونا ضرور ختم کر دیں گے، پہلے آپ کورونا کے ساتھ جینا تو سیکھ لیں اور ویسے لگ نہیں رہا کہ آپ میگزین کا مطالعہ بھی کرتی ہیں کہ منور مرزا تو مسلسل ’’عالمی اُفق‘‘ پر چھائے ہوئے ہیں اور خادم ملک نے کہاں رُوپوش ہونا ہے۔ ان کی نہ صرف ’’آنیاں جانیاں‘‘ لگی ہوئی ہیں، بلکہ ہمیشہ کی طرح اب بھی کوئی کَل سیدھی نہیں۔

  • جنگ، سنڈے میگزین کا پانچ سال سے قاری ہوں، مگر تبصرہ پہلی بار کررہا ہوں۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں وقت کی قدر و قیمت پر بہت شان دار تحریر تھی، کیوں کہ کورونا کی اس وبا میں ہم لوگوں نے وقت کو بُری طرح ضائع کیا ہے۔ طیارہ حادثے پر مدلّل تجزیہ کیا گیا، اور ہونا بھی یہی ہے، جس کا اندیشہ منور مرزا نے ظاہر کیا۔ ’’سفید کوّے‘‘ کا تو جواب نہیں۔ بلاشبہ، عرفان جاوید دورِ حاضر کے چند نام وَر ادیبوں میں سے ایک ہیں۔’’وبائی امراض سے تحفّظ اور متوازن غذا‘‘ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ بالآخر اِسی رستے پر آنا ہوگا۔ جاپانی بادشاہت سے متعلق تحریرمعلوماتی تھی اورپروفیسر مجیب سے درخواست ہے کہ تبصرہ ذرا مختصر کیا کریں تاکہ دیگر لوگوں کو بھی جگہ مل سکے۔(دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکا، لودھراں)

ج:بڑی جلدی وقت کی قدروقیمت کا احساس ہوگیا۔ خیرسےوقت کے زیاں پر تو اس قوم کو عبور حاصل ہے اور پروفیسر مجیب اور مختصر تبصرہ… دو متضاد باتیں ہیں۔

قارئینِ کرام!

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk