آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عیدالاضحی سے ایک روز قبل جمعہ 9ذوالحج (31جولائی 2020ء) کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور معاونِ خصوصی معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا اس کا مقصد ایک سال سے بدترین لاک ڈائون کا سامنا بہادری سے کرتے اور حق خود ارادیت کے موقف پر ڈٹے ہوئے کشمیر عوام سے یک جہتی اور پاکستان کی حکومت سمیت تمام سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کے آزادی ٔ کشمیر کے عزم کا اعادہ کرنا تھا۔ کل یعنی 5اگست 2020کی تاریخ وہ سیاہ تاریخ ہے جب بھارت کی انتہا پسند اور ہٹلر کے فسطائی فلسفے پر عمل پیرا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کےاس جنونی اقدام کو ایک سال ہو جائے گا جس کے تحت بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی برادری سے کئے گئے خود اپنے وعدوں کو پامال کرتے ہوئے متنازع علاقے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتی یونین کا حصہ بنانے اور علاقے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی۔ بعد ازاں بھارت نے ڈومیسائل سمیت قوانین کا ایک مجموعہ ری آرگنائزیشن ایکٹ کے نام سے نافذ کیا جس سے مسلم اکثر یتی ریاست میں آبادی کا توازن تبدیل کرنے کے ارادے کھل کر سامنے آگئے مگر ہوا یوں کہ کشمیری عوام کے جذبہ حریت نے اس مسئلے کو کرہ ارض پر انسانی اقدار سے محبت رکھنے والے ہر فرد تک پہنچا دیا۔ جن ملکوں کے

حکمراں کورونا وبا کے باعث اختیار کردہ چند مہینوں کے آزاد شہریوں والے لاک ڈائون سے پریشان نظر آتے ہیں انہیں یہ احساس ہو جانا چاہئے کہ لاک ڈائون کیسا عذاب ہوتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو جس کیفیت کا سامنا ہے اس کا ذکر تو خود بھارت کے سابق وزیر اور موجودہ رکن ایوان بالا (راجیہ سبھا) چدم برم نے ایک آرٹیکل میں مقبوضہ کشمیر کے ایک بڑی جیل میں تبدیل کئے جانے کے اعتراف کے ساتھ کیا ہے اور نئی دہلی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ 5اگست 2019ء کے اقدام سے مودی سرکار جو کچھ حاصل کرنا چاہتی تھی وہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بدھ 5اگست کو یوم استحصال منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کے لئے کشمیری لیڈ کریں، ہم پیچھے کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 5اگست 2019کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا نیا موڑ ہے۔ ہماری منزل سری نگر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے 5اگست کو یوم استحصال منانے کے اعلان کے ساتھ ایک لائحہ عمل بھی واضح کیا جس کا آغاز ملک بھر میں صبح دس بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی صورت میں ہوگا جبکہ دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے اور اس کے حل کے لئے پہلے سے جاری رابطوں کو موثر بنانے کے مزید اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیر خارجہ نے آزادی ٔ کشمیر کا عزم دہرانے کے ساتھ عوامی سطح پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کےبھرپور مظاہرے کی جو اپیل کی ویسی ہی اپیل مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنما سید علی گیلانی کی طرف سے کشمیری اور پاکستانی عوام اوردنیا بھر کے لوگوں سے کی گئی ہے۔اس باب میں ترکی کے صدررجب طیب اردوان کا عیدالاضحی کے موقع پرصدر عارف علوی کو کئے گئے ٹیلیفون میں کشمیر کے معاملے میں پاکستان اور ترکی کےاہداف یکساں ہونے کا اعلان بلاشبہ کشمیری اور پاکستانی عوام کے لئے باعثِ تقویت ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کنٹرول لائن کے اگلے مورچوں پر عید منانے والے جوانوں سے خطاب میں کہی گئی باتوں اور وزیر خارجہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو یہ پیغام واضح ہو جاتا ہے کہ: کشمیری بھائیو اور بہنو! پاکستان کا ہر فرد آپ کی آواز دنیا بھر میں پہنچانے اور آپ کی منزل کے حصول کا عزم رکھتا ہے۔ ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔