• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہوم آفس کا یوٹرن، دوہری شہریت رکھنے والے کچھ افراد کو یورپی پاسپورٹ پر برطانیہ واپسی کی اجازت

— تصویر بشکریہ رپورٹر
— تصویر بشکریہ رپورٹر

برطانوی حکومت نے دوہری شہریت رکھنے والے افراد کے لیے سفری قواعد میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے وہ شہری جو بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں سیٹلمنٹ اسٹیٹس رکھتے ہیں، اب برطانیہ واپس آنے کے لیے لازمی طور پر برطانوی پاسپورٹ پیش کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔

ہوم آفس کے مطابق اگر کسی شخص نے یورپی یونین سیٹلمنٹ اسکیم کے تحت برطانیہ میں رہائش اختیار کرنے کے بعد برطانوی شہریت حاصل کی ہے تو وہ برطانیہ کا سفر اپنی دوسری شہریت کے پاسپورٹ یا یورپی یونین، ناروے، آئس لینڈ، لِکٹنسٹائن یا سوئٹزرلینڈ کے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے بھی کر سکتا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب 25 فروری کو نافذ ہونے والے نئے قوانین پر شدید تنقید کی گئی۔ ان قوانین کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو برطانیہ آنے کے لیے لازمی طور پر برطانوی پاسپورٹ یا سرٹیفکیٹ آف انٹائٹلمنٹ پیش کرنا ضروری تھا جس کی فیس 589 پاؤنڈ مقرر کی گئی تھی۔

ناقدین کے مطابق ان قوانین کے باعث ہزاروں افراد مشکلات کا شکار ہو گئے تھے، خاص طور پر وہ یورپی شہری جنہوں نے برطانوی شہریت کے لیے درخواست دی تھی مگر انہیں ابھی تک برطانوی پاسپورٹ جاری نہیں ہوا تھا۔ اس صورتِ حال میں وہ عملاً برطانیہ واپس آنے سے محروم ہو گئے تھے۔

حکومت کی جانب سے جاری نئی وضاحت کے بعد ایسے افراد کو اب اپنے یورپی پاسپورٹ کے ذریعے برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ تبدیلی خاموشی سے اپنی ویب سائٹ پر اپ ڈیٹ کر دی، جس پر کئی متاثرہ افراد نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید