آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

منگل کے روز حکومت پاکستان نے ملک کا جو نیا سیاسی نقشہ جاری کیا وہ اگرچہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں 5اگست 2019کو کئے گئے اقدامات اور سرکریک سمیت دیگر متنازع علاقوں کے بارے میں برسوں سے جاری عیارانہ حربوں کے تناظر میں عالمی برادری کو درست حقائق سے غیرمبہم طور پر آگاہ کرنے کی ایک ضرورت کے طور پر دیکھا جارہا ہے مگر کئی دیگر حوالوں سے بھی اس کی اہمیت مسلّم ہے۔ مذکورہ نقشے کے لئے حکومتی اتحاد اور حزب اختلاف کے رہنمائوں کے علاوہ کشمیری قیادت کو بھی اعتماد میں لیا گیا اور ان کی حمایت کے بعد وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ نیا نقشہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔ اسے پاکستان کے سرکاری نقشے کی حیثیت حاصل ہوگی اور یہ نقشہ پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت نے 5اگست 2019کو جو قدم اٹھایا یہ نقشہ اس کی نفی ہے، مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور یقین ہے کہ وہ اپنی منزل جلد حاصل کرلیں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری منزل سری نگر ہے۔ انہوں نے 5اگست 2019کے بھارتی اعلانات کو غیرقانونی اور نئی دہلی کی طرف سے جاری کئے گئے نقشے کو دنیا

کے ساتھ مذاق قرار دیا۔ واضح رہے کہ بھارت نے اقوامِ متحدہ کی طرف سے متنازع اور خود اپنے آئین میں خصوصی حیثیت کے حامل قرار دیے گئے علاقے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے کی حیثیت تبدیل کرنے کے لئے آئین کے آرٹیکل 370اور 35-Aمیں ایسی ترمیمیں کیں جو قانوناً کی ہی نہیں جا سکتی تھیں۔ نئی دہلی کے حکمرانوں نے متنازع علاقے کو تین حصوں( جموں، کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کرکے انہیں نام نہاد یونین کا حصہ قرار دیتے ہوئے پچھلے برس 31اکتوبر کو ایک ایسا نقشہ جاری کیا تھا جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی بھارت کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اس نقشے کو فوری طور پر چین، پاکستان اور نیپال نےمسترد کر دیا تھا۔ اسلام آباد کے جاری کردہ نئے سیاسی نقشے کو وزیراعظم عمران خان نے 73سال پرانے تنازع کے حل کی سمت پہلا قدم قرار دیا ہے۔ نئی دہلی کے گزشتہ سال 5اگست کو کئے گئے اقدامات کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ اسلام آباد عالمی برادری کو نہ صرف تنازع جموں و کشمیر کے حقائق سے آگاہ کرے بلکہ پاکستان سے الحاق کرنے والی ریاستوں مثلاً جونا گڑھ اور مناودر پر فوج کے ذریعے کیا گیا بھارتی قبضہ ختم کرانے کا مطالبہ کرے۔ حکومت پاکستان کے جاری کردہ نئے سیاسی نقشے میں گلگت بلتستان اور سری نگر سمیت جن علاقوں کی سبز رنگ کے ذریعے نشاندہی کی گئی ان کے بارے میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ علاقہ متنازع ہے جس کی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا باقی ہے۔ چنانچہ ’’غیر طے شدہ سرحد‘‘ کی وضاحت کے ساتھ مشرقی سمت کی بین الاقوامی سرحدہماچل پردیش سے ملتی دکھائی گئی ہے۔ سرکریک جو 1914کے حکومت سندھ اور ریاست ’’کَچھ‘‘ کے معاہدے کے تحت پاکستان کا حصہ ہے، اسکے مشرقی کنارے تک سرحد دکھائی گئی ہے۔ قبائلی علاقے، جو بفرزون سمجھے جاتے تھے، فاٹا کے مئی 2018میں انضمام کے بعد صوبہ خیبر پختوا کا حصہ ہیں۔ تمام سرحدوں کی درست حیثیت پیش کرکے ایک اعتبار سے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے سامنے حقائق مسخ کرنےکی کوششوں کا راستہ بند کردیا گیا ہے۔ نقشے کو دیکھ کر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد عالمی قراردادوں، باہمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کے اعتبار سے نئی دہلی کے مقابلے میں اخلاقی طور پر بہت بلند مقام پر کھڑا ہے۔