آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بیروزگاری الاؤنس کی میعاد ادائیگی ختم ہوتے ہی امریکی معیشت کو خطرہ لاحق

واشنگٹن: جیمز پولیتی، ایمی ولیمز

امریکی قانون سازوں کو معیشت کو درپیش خطرات کے سلسلے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے انتباہات کا سامنا ہے جیسا کہ کانگریس اور وائٹ ہاؤس ایک نئے مالیاتی محرک پیکج کیلئے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس سے نہ صرف کسی اہم حفاظتی خالص ادائیگی کے بغیر لاکھوں امریکیوں کے پسماندہ ہونے اور امریکا بلکہ عالمی بحالی بھی خطرے میں ہے۔

گزشتہ اتوار کو وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مارک میڈوز نے کہا کہ بے روزگاری سے متعلق ہنگامی فوائد کی مدت ختم ہونے کے بعد ہفتے کے آخر میں پیشرفت کے باوجود دونوں فریق معاہدے سے بہت دور ہیں۔

کپیٹل ہل پر تعطل ماضی میں دیگر امریکی بجٹ کی کشمکش کی بازگشت ہے،جو طویل سیاسی دشمنی کی علامت تھیں، تاہم وبائی مرض کورونا وائرس کی وجہ سے کساد بازاری نے بہت کچھ داؤ پر لگادیا ہے۔مارک میڈوز نے سی بی ایس چینل کے پروگرام فیس دی نیشن پر کہا کہ ہمیں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ مارک میڈوس جو وزیر خزانہ اسٹیون منچن کے ہمراہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کررہے ہیں، نے کہا کہ ہفتے کے روز ایک اجلاس اچھا ہوا تھا تاہم وہ ابھی پرامید نہیں کہ عنقریب کوئی معاہدہ طے پاجائے گا۔

31 جولائی تک کسی سمجھوتے تک نہ پہنچنے کی وجہ سے 600 ڈالر فی ہفتہ مالیت کے فوائد کی مدت ختم ہونے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی 25 لاکھ سے زا ئد آبادی فوری کفایت شعاری کا شکار ہوچکی ہے۔

ڈیموکریٹس 2021 کے اوائل تک اسی سطح پر ان کی تجدید چاہتے تھے، لیکن ریپبلکن نے اس کی مخالفت کی ہے،ابتدائی طور پر ان کا استدلال تھا کہ نیا مالیاتی محرک ضروری نہیں اور بعد ازاں اس سے بہت کم ادائیگیوں پر زور دیا گیا،اور اسے مذاکرات کو سب سے بڑی رکاوٹ اور معاشی طور پر نتیجہ خیز نقطہ بنادیا۔

موجودہ تعطل مارچ اور اپریل کے بالکل برعکس ہے، جب پہلے لاک ڈاؤن کے دوران معیشت کو برقرار رکھنے کیلئے 3 ٹریلین ڈالر کی مالی اعانت کے لئے وائٹ ہاؤس اور کانگریس فوری متفق ہوگئے تھے، جس سے امریکی اور عالمی منڈیوں کو سہارا دینے میں مدد دینے ملی۔

اب معاہدے کی عدم موجودگی فیڈرل ریزرو میں پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے، جس کے سربراہ جے پاؤل نے بارہا کنگریس کو معیشت کے لئے مزید معاونت کی پیش کش کی ہے۔

امریکی مرکزی بینک کے اعلیٰ عہدیداروں کی اوسط پیش گوئی یہ ہے کہ رواں برس امریکی معیشت 5.6 فیصد سکڑ جائے گی، تاہم مالیاتی محرک کو واپس لیا گیا تو مندی مزید شدید ہوسکتی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق امریکی معیشت کی غیر کامل بحالی کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جو رواں سال 9.4 فیصد کم ہوجائے گی۔

اوباما انتظامیہ کے سابق سینئر عہدیدار ڈگلس ریڈیکر نے کہا کہ عالمی سطح پر دیگر معیشتوں نے امریکی ردعمل کے ذیلی نتیجوں سے کہیں ذیادہ اپنی مقامی اور ملکی مالی اور مالیاتی پالیسیوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔لیکن امریکی جارحانہ قیادت کے اشارے کی حیثیت طور پراتنی ہی اہمیت کی حامل تھی جتنا کہ اس کا بالواسطہ عالمی محرک فراہم کرنا تھا۔

امریکی معاشی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ جب تک بے روزگاری سے متعلق فوائد پر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے ، صارفین کے اخراجات میں کمی سے کاروباری اداروں میں ملازمتوں کے اضافی نقصانات ہوسکتے ہیں ، جس سے انسانی مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔

شمٹ فیوچرز کی اقتصادی تحقیق کی مینیجر مارتھا گیمبل کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ملازمتوں سے نکال دیا جائے گا، وہ اپنے کنبے کو کھانا کھلانے کے قابل نہیں رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بہت بڑی مالیت کی رقم کے بارے میں تصور کریں جو اس معیشت سے نکل گئی ہے، حکومت کواسے بے خوفی کے ساتھ واپس معیشت میں داخل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اتوار کو اسٹیون منچن نے کہا تھا کہ وہ پیر کو متوقع مذاکرات کے ایک نئے دور کے ساتھ اس معاہدے کے لئے پرامید ہیں۔انہوں نے اے بی سی چینل کو بتایا کہ صدر چاہتے ہیں کہ ہم جلد از جلد یہ معاہدہ کریں کیونکہ یہ امریکی عوام کیلئے اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جماعتوں مختلف چیزیں متنازع ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے کاروباری اداروں کے لئے امدادی پروگرام میں توسیع جیسے معاہدے کے شعبے تھے۔

ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹک اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا کہ ان کے اصرار پر ان کی پارٹی متحد ہے کہ بے روزگار امریکی شہری ہنگامی فوائد میں ریپبلکن پارٹی کے تجویز کردہ 200 ڈالر کی بجائے فی ہفتہ 600 ڈالر وصول کرنا جاری رہنا چاہئے۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ یہ معاہدہ کب تک ہوسکتا ہے تو نینسی پیلوسی نے جواب دیا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم معاہدہ اس وقت کریں گے جب ہم اس پر اتفاق کے قریب ہوں گے۔

نیواڈا سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز اسٹیون ہار فورڈ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ریپبلکن کے زیر کنٹرول سینیٹ امریکیوں کی اکثریت کے پیروں تلے سے زمین کھینچنا چاہتی ہے جو ابھی بھی مسائل کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیرذمہ دارانہ،بے ضمیرانہ، واقعی غیرانسانی اور غیر اخلاقی ہے کہ سینیٹ نے اپنا کام کیے بغیر ہفتے کے آخر کے لئے چھوڑ دیا،مستقبل قریب میں کچھ کرنا ہی ہوگا۔

ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے مابین معاہدے کے شعبوں میں امریکی شہریوں کو فی کس 1200 ڈالر براہ راست ادائیگی کا ایک نیا دور شامل ہے۔بیروزگاری کے فوائد کے ساتھ ساتھ فریقین اس پر متفق نہیں کہ آیا کاروباری اداروں کو کورونا وائرس کے انفیکشن کی ذمہ داری سے تحفظ دینا ہے یا نہیں، آیا ریاست اور مقامی حکومتوں کے لئے مالی امداد فراہم کی جائے،ریپبلکنز کی جانب سے ایک آئیڈیا پیش کیا گیا،ڈیموکریٹس کی ترجیح کیا ہے۔

گزشتہ ایک عشرے کے دوران اوباما انتظامیہ کے دور میں قرض کی پہلے سے طے شدہ حد میں اضافے کے لئے ریپبلکنز کی مزاحمت، 2012 میں جارج ڈبلیو بش کے ٹیکسوں میں کمی سے بچنے کے لئے مذاکرات اور متعدد حکومتوں کے شٹ ڈاؤن سمیت امریکا نے مالی اعانت کے متعدد مواقعوں کا سامنا کیا۔

تجزیہ کاروں اور ماہرین اقتصادیات کو امید ہے کہ موجودہ امریکی تعطل کو جلد سے جلد حل کیا جاسکتا ہے، لیکن تفصیلات سے فرق پڑے گا۔

آکسفورڈ اکنامکس نے ایک نوٹ میں لھا ہے کہ پیکج کا حجم اور گنجائش اہم ہوگی، بیروزگاری فوائد میں کسی بھی قسم کی کٹوتی سے صارفین کے اخراجات پر غیرمتناسب اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اس سے آبادی کے ایک بڑے طبقے کو نقصان پہنچے گا جو عملی طور پر آمدنی کا ایک ایک پیسہ صرف کردیتی ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید