آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانیہ میں 34فیصدتک ملازمین اپنی نوکریوں پر واپس آگئے

راچڈیل (نمائندہ جنگ)یورپی ممالک کی نسبت برطانیہ میں کورونا وائرس کی شدت کم ہونے اور حالات معمولات کی طرف لوٹنے کے بعد 34فیصد تک لوگ اپنی نوکریوں پر واپس آ چکے ہیں دیگر گھروں میں کام کاج جاری رکھے ہوئے ہیں ۔جاری کردہ نئے اعدادو شمار کے مطابق اپنے دفاتر لوٹنے والے برطانوی شہری فرانس ‘ جرمن ‘ اٹلی اور سپین کے لوگوں کے مقابلے میں ہفتے میں کم از کم پانچ یوم تک کام کر رہے ہیں سرمایہ کاری بینک مورگن اسٹینلے کے محققین کے سروے کے مطابق کورونا وائرس بحران کے دوران ایک لاکھ سے زائد لوگ نوکریوں سے محروم اور لاکھوں کی نوکریاں خطرے میںپڑی ہوئی ہیںکوروناوائرس لاک ڈائون کے باعث ملک کو معاشی طو رپر تین صدیوں سے زائد کساد بازاری کا سامنا ہے ائیر پورٹس ‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت بڑی فرموں سے ہزاروں کی تعدادمیں ملازمین کو فارغ کیا جا چکا ہے جبکہ عالمی سطح پر کورونا وائرس کی دوسری ممکنہ لہر کے خطرے نے بھی لوگوں کو سخت پریشان کر رکھا ہے برطانیہ میں لاک ڈائون میں نرمی کے بعدتجارتی سرگرمیاں کسی حد تک بحال ہو نا

شروع ہو گئی ہیں ‘ ہوٹلز ‘ فیشن ڈیزائنرز ‘ جوئے اور شراب خانوں سمیت دیگر کاروباری اداروں میں کام کاج ٹھپ ہو کر رہ چکے ہیں آفس برائے قومی شماریات (او این ایس) نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حکومتی کوششوں کے باوجود برطانیہ میں بیروزگاری اور معاشی بدحالی کا طوفان برپا ہے کٹوتیوں کا اعلان کرنے والے بڑے ناموں میں پیزا ایکسپریس بھی شامل تھا کیونکہ ان کے مالکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے برطانیہ میں 67 ریستورانوں کو شدید نقصان کا خدشہ ہے وہ ایک ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کر سکتے ہیں کریس پی سی ورلڈ کے مالک ڈکسن کارفون نے بھی آج اعلان کیا ہے کہ سٹور مینجمنٹ ڈھانچے کی بحالی کیلئے 8سو کے قریب ملازمین کو فارغ کیا جا سکتا ہے اگر برطانیہ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر نے جنم لیا تو بیروزگاری کا ایک ایسا طوفان اٹھے گا جس کا سامنا کرنا مشکل ہو جائیگا۔

یورپ سے سے مزید