آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لندن کے کمیوٹر ٹائونز میں بینیفٹ کلیمز میں تیزی سے اضافہ

لندن ( پی اے ) کورونا وائرس لا ک ڈائون کے آغاز کے بعد لندن کے کمیوٹر ٹائونز میں بینیفٹ کلیمز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بی بی سی کی ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے لندن کے کمیوٹر ٹائونز میں یونیورسل کریڈٹ کی جانب موو کرنے والے افراد کا سب سے زیادہ تناسب دیکھا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق گلڈفورڈ ،سٹیونج اور ہیمل ہیمپسٹڈ کے لوگوں کی جانب سے بینیفٹس کلیمز کیلئے اپلائی کرنے کا تناسب بہت بلند تھا ۔ برطانیہ میں اب تقریباً 5.5 ملین افراد بینیفٹس کلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ مارچ کے بعد سے 81 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں آفس بیسڈ ورکنگ میں کمی آنے کا اثر کمیوٹر ٹائونز میں ایمپلائمنٹ پر پڑا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے ایسے یونیورسل کریڈٹ کیلئے اپلائی کرنے پر مجبور ہوئے جو کہ حکومت کی دیگر سپورٹ سکیمز فرلو سیکم یا سیلف ایمپلائمنٹ کیلئے مدد کے اہل نہیں تھے۔ ڈپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پنشنز کے سرکاری پوسٹ کوڈ ڈیٹا کا بی بی سی نے تجزیہ کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ سرے کے علاقے گلڈ فورڈ میں ورکنگ ایج بینیفٹ سے فائدہ اٹھانے والوں کے تناسب میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ جون میں اس شہر میں یونیورسل کریڈٹ پر 37000 افراد تھے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے بعد

148 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لندن کے دو بیرونی باروز ہیرو اور کنگسٹن اپان ٹیمز میں بھی بینفٹ کلیمز میں قومی اوسط سے کہیں زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کم اور درمیانی آمدنی والے افراد کے معیار زندگی پر تحقیق کرنے والے تھنک ٹینک ریزولوشن فاؤنڈیشن ریسرچ ڈائریکٹر لورا گارڈینر نے کہا کہ لندن میں ورکرز کی بڑی تعداد جو اب بھی اپنے دفاتر میں واپس نہیں آئی ہے اور وہ یونیورسل کریڈٹ کے کے دعووں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ کچھ ورکرز شاید گھر سے کام جاری رکھنے کے اہل ہیں لیکن ان کے ارد گرد کی بہت سی انڈسٹریز ‘کیفے ‘ ریستورنٹس ‘ ریٹیل سیکٹر سے وابستہ افرد جو کہ دفتر میں کام کرنے والوں کو سروسز دینے کیلئے شہروں کا سفر کرتے ہیں ان کے پاس ان حالات میں کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد شہروں کے مضافاتی علاقوں میں رہتے ہیں اور اور خاص طور پر لندن میں ان کے لیے حالات سخت ہیں ۔

یورپ سے سے مزید