آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہمیں دُنیا میں کوئی اچھی مثال دی جائے تو کوئی نہ کوئی توجیح پیش کرکے ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس مثال کا اطلاق ہم پر نہیں ہوتا۔ اس رویہ سے ہم اپنے سیکھنے کے دروازے بند کر لیتے ہیں حالانکہ اگر دشمن سے بھی سیکھنے کا موقع ملے تو سیکھ لینا چاہئے بلکہ دشمن سے تو ہر صورت سیکھنا چاہئے۔ یہ ہمارا قومی المیہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، جنگ کی شکست اور مکمل تباہی کے بعد کیسے زندہ رہنا اور واپس ایک عظیم کامیابی کی طرف آنا ہے، ہمیں جرمنی اور جاپان سے سیکھنا چاہئے۔ تصادم سے کیسے بچیں اور صحیح لمحے کا انتظار کریں، ہم چین سے سیکھ سکتے ہیں۔

غیردوستانہ یا دشمن پڑوسی اور وہ بھی اپنے سے کئی گنا بڑا، اس سے کیسے بچنا اور کیسے ترقی کرنی ہے، ہم اسرائیل، تائیوان اور سنگاپور سے سیکھ سکتے ہیں۔ کسی صحرا کو نخلستان میں تبدیل کرنے کا طریقہ، ہم دبئی سے سیکھ سکتے ہیں۔ سال میں دنیا کی بیس بڑی اقتصادی طاقتوں میں کیسے آتے ہیں، ترکی سے سیکھ سکتے ہیں۔ ملک کو ایشین ٹائیگر سے انتہائی کمزور ملک بنانے کا طریقہ، پاکستان کے پچھلے 50برسوں سے سیکھا جا سکتا ہے۔ علیحدہ ہوکر اور ایک نئی شناخت اور ایک نیا ملک بن کر پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرنا، ہم بنگلہ دیش سے سیکھ سکتے ہیں۔ پچاس سال میں بنگلہ دیش کم وسائل کے باوجود کیسے پاکستان سے آگے نکل گیا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر ہمارے اداروں اور دانشوروں کو سوچنا چاہئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں نہ صرف سیکھنے کی مثالیں ہی پسند نہیں، بلکہ ہم ہر مثال میں کیڑے نکال لیتے ہیں۔ پچاس برسوں میں ہم سے وہ کیا غلطیاں ہوئیں اور کیا ہم اب بھی اُن غلطیوں کو دہرا تو نہیں رہے؟ ان پچاس برسوں میں ملٹری نے 22سال، پیپلز پارٹی نے 15سال، مسلم لیگ (ن) نے دس سال، پی ٹی آئی نے اب تک دو سال حکومت کی ہے، ایک سال نگراں حکومتیں رہی ہیں۔ آج اس ملک کی بربادی کو پی ٹی آئی کے ذمہ لگایا جا رہا ہے جس کا حکمرانی کا تناسب پچھلے پچاس سال میں صرف 4ہے۔ فوجی حکومت کا تناسب 44 فیصد ہے۔ پیپلز پارٹی کا تناسب حکمرانی30فیصد ہے۔ مسلم لیگ ن کا تناسب 20 فیصد ہے۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضیاء الحق، پرویزمشرف، بینظیربھٹو، نواز شریف اور زرداری اس ملک کی بربادی کے بڑے ذمہ دار ہیں۔ 48سال کی بربادی کو دو سال میں ٹھیک کرنا ایک معجزہ تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت میں ایک ناممکن چیلنج ہے۔

پاکستان کی موجودہ بربادی کے تین بڑے کھلاڑیوں کو اب پی ٹی آئی کو 5سال دینا ہوں گے۔ اگر پی ٹی آئی کارکردگی نہ دکھا سکے تو عوام خود اس کا حساب الیکشن میں کر لیں گے۔ غیر جمہوری قوتوں کا حکومتی معاملات میں اتنا ہی دخل ہونا چاہئے جتنا انڈیا اور بنگلہ دیش میں ہے۔ بلاتفریق احتساب ایک ہی راستہ ہے جو ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ کشمیر کو حاصل کرنے کا موقع 1947ء میں بھی ضائع ہوا،1962ءمیں انڈیا چین جنگ میں بھی ضائع ہوا، جب ایوب خان نے اس موقع پر انڈیا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا۔ 1965میں بھی ضائع ہوا جب جرنل اختر ملک کو اکھنور کی طرف پیش قدمی سے روک دیا گیا۔ اگر پاکستان میں کسی ایک شخص کو پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرانا ہو تو وہ شخص یحییٰ خان تھا لیکن ہم آج تک نہ اس کا احتساب نہ کر سکے۔ ہم تو ایوب خان کی اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن ایوب خان کی 1962ءاور1965ءمیں کی گئی تاریخی غلطیوں کو بھول جاتے ہیں۔ ایوب خان کا فاطمہ جناح کے ساتھ سلوک بھی بھول جاتے ہیں۔ جب امریکہ اور یورپ کو پاکستان کی سوویت یونین کے خلاف ضرورت تھی، ضیاء الحق نے اس موقع کو صرف اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے استعمال کیا۔ پھر جب امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر ضرورت پڑی تو پھر پرویز مشرف نے اسے اپنے اقتدار کی سیڑھی سمجھا۔ ہم تو ایک ٹیلی فون پر امریکہ کے صدر جارج بش کو لبیک کہنے کی بھی مذمت نہیں کر سکے۔ ہم تو عافیہ صدیقی کو امریکہ کو حوالگی بھی بھول گئے۔ ہم تو اسامہ بن لادن کے پاکستان کی حدود میں امریکی آپریشن کو بھی بھول گئے جس سے پاکستان کی پوری دُنیا میں سبکی ہوئی۔ ہم تو کشمیر لیتے لیتے سیاچین کو کھونے کو بھی بھول گئے۔ ہاں ہم نے ہر شکست اور ناکامی کو کامیابی کے بیانیہ میں بدلنے کا فن سیکھ لیا۔ یہی ہماری کامیابی بن گیا ہے۔ یہی ہماری اسٹرٹیجی بن گئی۔ جب 72برسوں میں کچھ نہ سیکھ سکے تو اب عمران خان سے چاہتے ہو کہ وہ چند سال میں اس قوم کے بہتر برسوں کا بگاڑ درست کر دے۔ ہاں اس نے یہ چیلنج قبول کر لیا ہے لیکن قوم اور میڈیا کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس ملک کے نظام میں تبدیلی لانی ہوگی۔ طاقتور کو عوام کے تابع لانا ہوگا۔ تاریخ کو درست کرنا ہوگا۔ اپنی نئی نسل کو اپنے کرتوت اور اعمال بتانا ہوں گے، حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ کامیابی صرف انہی کو ملتی ہے جو یا تو دوسروں سے سیکھتے ہیں یا پھر اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں۔ ہم دونوں ہی اصولوں پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ یہ تو دنیا میں کبھی نہیں ہوا۔ آئیے اپنی نئی نسل کو حقائق بتائیں تاکہ وہ ہماری غلطیوں کو مت دہرائیں۔

(صاحب ِ تحریر سینٹرل سیکریٹری انفارمیشن پی ٹی آئی)

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)