آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مانچسٹر ٹیسٹ، اظہر کا کپتانی کو شکست کی وجہ ماننے سے انکار

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مانچسٹر ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی تین وکٹوں کی شکست کے بعد پاکستانی ٹیم انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے ایسے میں کپتان اظہر علی نے ہار کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ کپتانی دیکھنے میں آسان لگتی ہے ہمیشہ کپتانی پر الزام نہیں دینا چاہیے، میں ذمہ داری لینے کو تیار ہوں، میرا فوکس اس سیریز پر ہے۔

سوشل میڈیا کو چھوڑ دیں اس پر بہت کچھ آتا ہے ہمیں اتنا ٹارگٹ دینے کے بعد جیتا چاہئے تھا جو کہ ہم نہیں جیت سکے۔ اولڈٹریفورڈ میں میڈیا کانفرنس میں اظہر علی سے سوال ہوا کہ کیا آپ نے خراب کپتانی کی یا ٹیم اچھا نہیں کھیلی، اس پر انھوں نے کہا کہ بطور کپتان میں اس شکست کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں مگر آپ میری قیادت کو شکست کی وجہ قرار نہیں دے سکتے۔

بطور ٹیم ہم اچھا نہیں کھیلے،10سالہ تجربے سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے، بیٹنگ کرتے ہوئے کپتانی اور کپتانی کرتے ہوئے بیٹنگ کا نہیں سوچتا، اس لیے دونوں ایک دوسرے کو متاثر نہیں کر رہیں۔ پہلی اننگز میں شان مسعود نے اچھی بیٹنگ کی۔ چوتھے روز پچ اچانک آسان ہوگئی، ہم ریورس سوئنگ نہ ہونے پر حیران ہیں، بہرحال جب 5 وکٹیں حاصل کیں تو حالات حق میں جا رہے تھے مگر پھر جوز بٹلر اور کرس ووکس کی شراکت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

اظہر علی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری اننگز میں پاکستان بہتر بیٹنگ کرتے ہوئے 350 کے قریب ہدف دے سکتا تھا، ہم بڑا اسکور کرتے تو انگلینڈ کو آؤٹ کلاس کردیتے، بہرحال کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے 277 بھی آسان ہدف نہیں تھا لیکن انگلش ٹیم کی چھٹی وکٹ کیلیے شراکت میں چیزیں مختلف نظر آئیں، انھوں نے جوابی حملہ کیا اور میچ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ کپتان نے کہا کہ شکست پر مایوسی ہوئی لیکن یہ ایک شاندار ٹیسٹ میچ تھا، میدان میں کراؤڈ ہوتا تو بڑا اچھا محسوس ہوتا لیکن گھروں میں بیٹھے شائقین کو اچھی تفریح حاصل ہوئی ہوگی۔

اظہر علی نے کہا کہ پچ کو دیکھتے ہوئے شاداب خان کو بطور آل راؤنڈر کھلانے کا فیصلہ کیا، چوتھے روز پیسرز کو پچ سے تھوڑی مدد مل رہی تھی، اس لیے شاداب سے زیادہ بولنگ نہیں کرائی۔ انھوں نے کہا کہ چھٹا بیٹسمین نہ کھلانے سمیت ٹیم سلیکشن میں کوئی خرابی نہیں تھی، شاداب کی بیٹنگ سے پہلی اننگز میں ٹیم کو فائدہ پہنچا۔

دس سال کرکٹ کھیلنے کے بعد اب اتنا ضرور پتہ چل گیا ہے کہ کیا کرنا ہے ۔ واضح رہے کہ انگلینڈ نے 1982میں لیڈز میں پاکستان کے خلاف 218رنز کا ہدف عبور کیا تھا۔2010میں انگلینڈ نے برمنگھم ٹیسٹ میں 208رنز کا ہدف عبور کیا تھا۔ ہوم گراؤنڈ پر انگلش ٹیم اب تک سات بار 250سے زائد رنز کا ہدف عبور کرچکی ہے ۔

انگلش ٹیم نے ہوم گراؤنڈ پرسب سے بڑا ہدف آسٹریلیا کے خلاف 359رنز کا عبور کیا تھا۔ انگلینڈ نے دو مرتبہ اولڈ ٹریفورڈ کے میدان میں دو سو سے زائد رنز کا ہدف حاصل کیا ہے۔

اسپورٹس سے مزید