آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شجرکاری... صدقہ جاریہ، ایک باعثِ اجروثواب عمل

مولانا زبیر احمد صدیقی

درخت اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ ہے، جس کے ساتھ دنیا میں بھی رفاقت ہے اور جنت کی تو پہچان ہی باغات اور درختوں کے ساتھ ہے ۔اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ درخت جنت کا بھی ساتھی ہے، درخت انسان، جانور چرند وپرند بلکہ درندوں کی بھی حقیقی ضرورت ہیں۔ درندوں کی تو زندگی ہی جنگلات اور درختوں کی مرہون منت ہے۔ جب سے جنگلات کا خاتمہ شروع ہوا، یہ درندے معدوم النسل ہوتے جارہے ہیں، جبکہ درخت انسانی آکسیجن، سایہ، پھل اور ٹھنڈک کابھی ذریعہ ہیں۔ محققین کے مطابق درختوں کی بدولت انسان سانس لیتے ہیں۔ درخت آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ 

نیز چرندو پرند، انسان، چلملاتی دھوپ میں درخت کی آغوش میں پناہ لیتے ہیں، ان ہی کی بدولت ہماری غذا و خوراک ایندھن اور فرنیچر وغیرہ حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ شجر کاری انسانی ضرورت ہے، اس لیے قرآن وسنت نے اپنے پیروکاروں کو شجر کاری جیسے عظیم فریضہ کی جانب متوجہ کیا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے قرآن و سنت کی ہدایت پیش کی جارہی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے درختوں اور درختوں کے مختلف الگ ذائقوںکو اپنی نشانی قرار دیا ہے ملاحظہ ہو:

’’ اور زمین میں مختلف قطعے ہیں جو پاس پاس واقعے ہوئے ہیں اور انگور کے باغ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت ہیں، جن میں سے کچھ دہرے تنے والے ہیں، اور کچھ اکہرے تنے والے۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں، اور ہم ان میں سے کسی کو ذائقے میں دوسرے پر فوقیت دے دیتے ہیں۔یقیناً ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں‘‘۔ (سورۃ الرعد)

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے درختوں کو اپنی نعمتوں میں سے ایک نعمت قرار دیا ہے، ارشاد فرمایا:’’ بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ؟ پھر ہم نے اس پانی سے بارونق باغ اگائے، تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ان کے درختوں کو اُگا سکتے۔ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں! بلکہ ان لوگوں نے راستے سے منہ موڑ رکھا ہے‘‘۔(سورۃ النمل)

رسول اللہ ﷺ نے شجر کاری کو ایسا نیک عمل قرار دیا ہے جس کا اجر انسان کو دنیا سے جانے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، صحیح مسلم میں حدیث ہے:’’جو بھی مسلمان درخت لگائے یا کھیت کاشت کرے، پھر اس سے انسان، جانور، پرندے کھائیں،تو اس کے بدلے اسے صدقہ کا ثواب ملتا ہے ‘‘۔مسند احمد کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ دمشق میں شجر کاری فرمارہے تھے، ان کے پاس ایک شخص گزرا اور کہنے لگا کہ آپ صحابی رسولؐ ہوکر یہ عمل کر رہے ہیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کرو، اس سلسلے میں، میں تمہیں رسول اللہ ﷺکا طریقہ بتاتا ہوں۔ میں نےرسول اللہﷺ سے سنا کہ جس شخص نے درخت لگایا اس سے انسان یا کسی اور مخلوق نے کھایا تو یہ لگانے والے کے لیے صدقہ ہوگا۔

اہل علم نے شجر کاری کو صرف صدقہ ہی نہیں، بلکہ صدقہ جاریہ قرار دیا ہے، صدقہ جاریہ سے مراد وہ صدقہ ہے جس کا اجرو ثواب دنیا سے جانے کے بعد بھی جاری رہے۔ چناںچہ اس سلسلے میں رسول اللہﷺ کی حدیث پیش خدمت ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا ’’سات اعمال کا اجر مرنے کے بعد قبر میں بھی جاری رہتا ہے۔(۱)علم سکھانا (۲)نہر جاری کروانا (۳)کنواں کھدوانا (۴)کھجور(درخت) لگانا (۵)مسجد کی تعمیر کروانا (۶) کسی کو قرآن کریم دے دینا(۷)ایسی اولاد چھوڑ جانا جو والدین کے لیے ان کے جانے کے بعد بھی استغفار کرتی رہے( بیہقی)

رسول اللہ ﷺ نے بلاوجہ جنگلات یعنی درخت کاٹنے سے منع فرمایا ہے، آپ جب کسی لشکر کو جہاد کے لیے بھیجتے تو اسے نصیحت فرماتے درختوں کو نہ کاٹنا، گھروں کو نہ گرانا۔ سنن ابو داؤد اور نسائی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی بیری کو کاٹ ڈالا، اللہ تعالیٰ اس کے سر کو جہنم میں لٹکائیں گے۔ شراح حدیث نے اس حدیث کی وجہ سے دوسرے کے درخت کو بلا اجازت کاٹنے کو منع کیا۔ بعض فقہاء نے فرمایا، یہ وعید ایسے درخت سے ہے جس کے سایہ یا پھل سے انسان اور جانور نفع مند ہوتے ہوں، اس لیے کہ ایسے درخت کا ظلماًکاٹنا حرام ہے۔