آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دوسری جنگ عظیم کے بعد، اقوام متحدہ کے قیام اور نو آبادیاتی نظام (Colonialism) کے تیزی سے تحلیل ہونے اور نئے آزاد ممالک قائم ہونے سے، بین لاقوامی تعلقات کی وسیع تر شکل قائم ہوئی۔ اس کی عملاً تین واضح اقسام بنیں (1) اقوام متحدہ، نیٹو، وارساپیکٹ، دولت مشترکہ اور غیروابستہ ممالک کی تحریک (NAM)جیسی عالمی تنظیموں اور فورمز کی رکنیت پہلے سے موجود اور بڑی تعداد میں نو آزاد ممالک کو ایک دوسرے سے باہمی تعلقات کے مواقع ملے۔ (2) ایک آزاد ملک کے کسی دوسرے آزاد ملک سے باہمی مفادات کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات تیزی سے استوار ہونا شروع ہوئے (3) یورپین اکنامک کمیونٹی (ای ای سی) جو ارتقاء کے بعد اب یورپین یونین (ای یو) کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ’’علاقائی بندوبست کی Pioneerبنی۔ یہ ایک مخصوص خطے کے ممالک کے جملہ باہمی خصوصاً اقتصادی مفادات کی بنیاد پر بننے والے ریجنل Arrangementsہیں، جیسے آئسین، افرلیکن یونین، سارک، عرب لیگ، جی سی سی وغیرہ۔

پاکستان نے اپنے بین الاقوامی تعلقات تینوں ہی اشکال میں قائم کئے۔ 73سالہ تاریخ میں ہمارے بین الاقوامی سطح کے تعلقات (بذریعہ عالمی اداروں، تنظیموں اور معاہدوں) کے اور دو طرفہ تعلقات تو بہت قائم ہوئے، لیکن بھارت کی علاقے میں بالادستی قائم کرنے کی ہوس اور پاکستان کی جانب ابتدا سے شدید مخاصمانہ رویے کے باعث پاک بھارت دو طرفہ تعلقات ہی خوش گوار اور مطلوب ضرورتوں کے مطابق قائم نہ ہو سکے، بلکہ دونوں کے لئے وبال جان بن گئے، یہ صورت ہی سارک کے دنیا کا سب سے ناکام ’’علاقائی بندوبست‘‘ ہونے کا بھی سبب بنا۔ عالمی تنظیموں اور معاہدوں کے ذریعے قائم ہونے والے ہمارے تعلقات کا دائرہ جتنا وسیع تھا، اس کے بینی فشری ہم اس سطح کے تو نہیں بنےتاہم بعض صورتوں میں بنے بھی جیسے سیٹو سینٹو کے رکن بن کر ہم نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں سے مختلف اقسام کے بڑے فوائد حاصل کئے لیکن کئی صورتوں میں یہ پارٹنر شپ ہمارے لئے خسارے کا بھی باعث بنی۔ ہم نے اپنی تاریخ میں خالصتاً دو طرفہ بنیاد پر مثالی تعلقات بھی قائم کئے۔ پاکستان کے یہ گہرے اور دو طرفہ تعلقات، ترکی، چین سعودی عرب اور ایران سے قائم ہوئے (کسی حد تک متحدہ عرب امارات سے بھی ) اس میں ہم سب سے بڑے بینی فشری چین سے اور چین ہم سے مستحکم تعلقات کا بینی فشری بنا۔ ترکی سے بہت فطری، گہرے اور با اعتماد مستحکم تعلقات دونوں کے لئے مسلسل اور ہر اچھے برے وقت میں تقویت کا باعث بنے رہے اور ہیں۔ پاکستان ایران مجموعی تعلقات میں دونوں ایک دوسرے سے باہمی فائدہ اٹھا کر دل سے اعتراف کرتے رہے کہ ہمارے مفادات مشترکہ ہیں، اس کے باوجود اِن میں جھول بھی آئے اور اب یہ بحال ہو کر دونوں کی مطلوب ضرورتوں کے مطابق، پھر درست سمت اختیار کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ امارات سے موجود قیادتوں کی سابقہ بزرگ قیادتوں کے ادوار میں تو یہ فطری، پُر خلوص اور بہت اہم رہے، تاہم یہ ایک عرصے سے ڈسٹرب ہو کر فلیکچوئیشن میں ہیں، جنہیں ایک ڈگری پر سیٹ کرنا دو طرفہ مفادات میں ہے۔ انہیں بھارت اور امریکہ نے بھی مختلف مواقع پر ڈسٹرب کیا (یہ بھی ایک طویل اور پیچیدہ کہانی ہے) لیکن اس کو پاکستان دونوں دوست ممالک پر واضح کر چکا ہے اور اِس کی وجہ کو وہ بخوبی جانتے ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جتنے بڑے بینی فشری پاکستان اور چین اپنے طویل تر رواں دواں، پُر خلوص و پُر اعتماد اور دو طرفہ تعلقات کا قابل تقلید ماڈل بنے ہیں دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ آج سے عشروں پہلے اِن کے دور رس ہونے کا یقین کیا جاتا تھا، اور جنوبی ایشیا اور چین کو پاکستان کے بغیر زیر بحث نہیں لایا جا سکتا تھا۔ یہ دور رس نتائج اب سامنے آ رہے ہیں پاک چین آئرن برادر ہڈ علاقائی اور عالمی سیاست میں ایک بڑا ریفرنس رہا۔ اب اس کا اصل رنگ روپ دنیا پر واضح ہو رہا ہے۔ ترک، ایرانی اور عرب اسکالرز اور سیاسی دانشور تو خود بہت جانتے ہیں کہ مصور پاکستان نے پاکستان اور ان کی سرزمین و اقوام سے وابستگی کی کیا کیا تصویریں بنائیں، لیکن چینی دانشور خود جانتے ہیں نہ ہم نے کبھی انہیں متوجہ کیا کہ اقبال نے اپنی زندگی میں چین سے کوئی ذہنی، علمی اور سیاحتی ناطے رابطے کے بغیر اپنی دور بینی سے گراں خواب چینیوں کی بیداری کو کیسے Visualise کیا۔

ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے

(جاری ہے)